تازہ ترینکالم

شہرِ قائدٹینکرمافیا کے رحم و کرم پر

sajid habibکراچی نہ صرف رقبے اور آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے بلکہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا شہر اور رقبے کے لحاظ سے دنیا کا چھٹا بڑا میٹروپولیٹن شہر ہے۔ اڑھائی کروڑ آبادی کا یہ شہر دو بندرگاہوں کے ذریعے پورے ملک کے تجارتی مال کی بیرونِ ممالک ترسیل کا واحدذریعہ ہے۔ 3527 مربع کلومیٹر پر پھیلا یہ شہر پاکستان میں بینکنگ، صنعت، شپنگ، انٹرٹینمنٹ، آرٹ، فیشن، ایڈروٹائزنگ، ریسرچ ، معاشی و معاشرتی اور تعلیمی سرگرمیوں کا مرکز ہے ۔ تعلیمی لحاظ سے بھی یہ شہر جنوبی ایشیا اور اسلامی دنیا میں اہم مقام رکھتا ہے۔ 1971 سے پہلے کراچی پاکستان کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا لیکن اس شہر کو مزید گنجان ہونے سے بچانے کے لئے دارالحکومت اسلام آباد منتقل کر دیا گیا۔ بحیرہ عرب کے کنارے پر واقع کراچی کو شہر قائد کے علاوہ روشنیوں کا شہر اور عروس البلاد (شہروں کی دلہن) بھی کہتے ہیں۔کراچی کا جی ڈی پی تقریباً 100 بلین ڈالر کے لگ بھگ ہے جو کہ پاکستان کے ٹوٹل جی ڈی کا تقریباً 40 فی صد ہے۔ یہ بات کسی المیے سے کم نہیں کہ اس قدر قومی و بین الاقوامی اہمیت ہونے کے باوجود کراچی کے شہری اپنے روزمرہ استعمال کے لئے پانی کو ترس رہے ہیں۔ شہرِ قائدمیں پانی کی فراہمی کے نام پر ٹینکر مافیا راج کر رہا ہے ۔ درجنوں غیرقانونی ہائیڈرنٹس قائم ہیں جو سرکاری لائنوں سے پانی چرا کرشہریوں کو منہ مانگے داموں فروخت کر رہے ہیں۔ کراچی میں پانی کی فراہمی کے لئے سرکاری نظام ہونے کے باوجود شہری ٹینکر مافیا کی جیبیں بھرنے پر مجبور ہیں۔
حالیہ کچھ دہائیوں میں کراچی بے قابو اور بغیر کسی منصوبہ بندی کے بڑھتا چلا گیا ہے۔ شہر کے لئے حب ندی اور دریائے سندھ سے قریب دو اعشاریہ دو ارب لیٹر پانی یومیہ بنیادوں پر کھینچاجاتا ہے تاہم حالیہ کچھ برسوں میں بارشوں کی کمی بھی پانی کی قلت کی صورت میں برآمد ہوئی ہے ۔ شہر کی پانی کی ضروریات مسلسل بڑھ رہی ہیں اور حاصل شدہ پانی کا ایک بڑا حصہ شہر میں موجود کپڑے کی صنعت اپنے استعمال میں لے آتی ہے ۔کراچی میں کئی خاندان صرف پانی کے حصول کے لیے اپنی ماہانہ تنخواہ کا قریب 15 فیصد حصہ خرچ کر دیتے ہیں، جب کہ یہ پانی کئی مرتبہ پینے کے لیے مناسب تک نہیں ہوتا۔ خریدے گئے پانی کا معیار بھی ناقص ہوتا ہے اور صارفین یہ پانی کپڑے دھونے اور نہانے کے لئے استعمال کرتے ہیں جبکہ کھانا پکانے اور پینے کے لئے اور انہیں کوئی اور بندوبست کرنا پڑتا ہے۔ ٹینکر مافیا شہر کے زیرزمین پانی کی لائنوں سے روزانہ کئی ملین گیلن پانی چرا لیتا ہے اور ان گروہوں نے متعدد مقامات پر مسلح افراد کے ساتھ مل کر غیرقانونی ہائیڈرنٹس بنا رکھے ہیں۔ ان گروہوں کی طاقت اور اثرورسوخ اس قدر زیادہ ہے کہ کراچی واٹر اینڈ سیورج بورڈ کے اہلکار ان بے بس ہیں۔حالیہ کچھ عرصے میں حکومتی فورسز نے جرائم پیشہ افراد کے خاتمے کے لیے جاری کریک ڈاؤن کے دوران پانی کے ایسے دو سو غیرقانوی کنیکشن ختم کرائے ہیں جب کہ ٹینکروں کو کراچی واٹر اینڈ سیورج بورڈ کے ہائیڈرنٹس سے ایک ہزار گیلن پانی کے بدلے ایک یا دو ڈالر ادا کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔تاہم یہی پانی بعد میں چند ہی کلومیٹر دور شہر کے نواحی علاقوں میں ادا کی گئی قیمت سے دس گنا زیادہ پر فروخت کیا جاتا ہے ۔
کراچی کے مختلف علاقوں گلستان جوہر، نارتھ ناظم آباد، نیوکراچی، ماڈل کالونی، ایف سی ایریا، ناظم آباد، بلدیہ ٹاؤن سائٹ، اورنگی ٹاؤن، لانڈھی ، کورنگی ، کھارادر، رنچھوڑ لائن، لائنزایریا، منگھوپیر روڈ کے علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی شہریوں کو آٹھ آٹھ آنسورلا رہی ہے جبکہ دوسری جانب ٹینکر مافیا پانی کے کمی سے پریشان شہری کی مجبوری کا خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں،پانی کی کمی کا شکار پریشان شہری مہنگے داموں واٹرٹینکر خرید رہے ہیں۔ اڑھائی کروڑ آبادی کے شہر میں سرکاری اعداد شمار کے مطابق پانی کی طلب گیارہ سو ملین گیلن یومیہ ہے جبکہ اس کو سات سو ملین گیلن پانی فراہم کی جاتی ہے ،واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے پاس صنعتوں کو پانی کی فراہمی بڑھانے کی گنجائش نہیں لیکن ٹینکر مافیا واٹر بورڈ کی لائنوں سے پانی نکال کر پورے شہر کو فراہم کررہی ہیں،ٹینکر مافیا شہر کے متوازی نظام کا حصہ بن چکی ہے اس پریشان کن صورتحال پر کسی سیاسی جماعت نے نہ تو لاکھوں کا مجمع اکٹھا کیا اور نہ ہی کوئی سونامی آیا۔ وزرا پانی کی کمی ختم کرنے کے بجائے شہریوں کو اعداد وشمار میں ہی الجھا کے رکھنا چاہتے ہیں،کراچی میں پانی کی کمی کا شکار شہری اس مسئلے کا حل چاہتے ہیں حکومت کواس مسئلے کو حل کرنے کیلئے جلد سے جلد اقدامات کرنا ہوں گے ۔ شہرقائد اس وقت تھر کا منظر پیش کر رہا ہے اور اس شہر کے باسی سمندر کے قریب رہنے کے باوجود پانی کو ترس رہے ہیں۔ عوام کی جانب سے حکومت اور انتظامیہ کے خلاف کئی بار احتجاج کیا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود اقتدار کے مزے لوٹنے والے بے حس حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ عوام پیاسے اور حکمران کے دسترخوان ٹھنڈے مشروبات سے سجے ہوتے ہیں ، آگ برساتے سورج اور شدید گرمی عوام کا جینا محال کر دیتی ہے۔ رواں برس کراچی میں گرمی سے ہلاک ہونے والے 1500 افراد کی موت میں پانی کی عدم فراہمی کا مسئلہ بھی ایک اہم وجہ تھا۔یہ تو گرمیوں کی بات تھی لیکن اس وقت سردیوں میں بھی صورتِ حال جو ں کی توں ہے۔ پانی کی لائنوں سے چوری کی وجہ سے پائپ لائنیں جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں اور سیوریج کا گندہ پانی لائنوں میں داخل ہو کر صارفین تک پہنچ رہا ہے۔ ٹینکر مافیا کی طرف سے فراہم کردہ پانی بھی صاف نہ ہونے کی وجہ سے شہری پیٹ کی بیماریوں سمیت ہیپاٹائٹس اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ پانی کے اس بحران کی سبب کراچی کے عوام سراپا احتجاج ہیں لیکن حکمران مسئلہ کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ۔ صوبائی حکومت کی جانب سے بجٹ میں پانی کے مسائل کو حل کرنے کے لئے رقم تو مختص کی گئی تھی لیکن تاحال منصوبوں پر کام شروع نہیں کیا گیا۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ صوبائی حکومت پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے واٹربورڈ کے ساتھ مل کر واٹر ٹینکرز کے ذریعے متاثرہ علاقوں میں پانی فراہم کرنے کے ٹھیکے جاری کر دیتی ہے جس سے ٹینکر مافیا کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ لسبیلہ کے علاقے میں قائم واٹر ہائیڈرنٹس سے روزانہ تین سو واٹر ٹینکرز روانہ ہوتے ہیں۔ یہ واٹرٹینکرز زیرزمین پانی سے بھرے جاتے ہیں، شہرکا یہ واحد علاقہ ہے جہاں زیرزمین پانی پینے کے قابل ہے ۔شہر میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم کرے ۔ قانونی واٹر ہائیڈرنٹس پر میٹر نصب کیے جائیں تاکہ یہاں سے نکلنے والے پانی کا درست حساب رکھا جا سکے اور حکومت کو ریونیو بھی مل سکے جبکہ غیرقانونی واٹر ہائیڈرنٹس کی کڑی نگرانی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں  یہ کیسا امتحانی نظام؟

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker