بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

شہر قائد کسی کی جاگیر نہیں ۔۔۔!!!

bashir ahmad mirانتخابات کے نتائج اب واضح سمت کی نشاندھی کر رہے ہیں ۔مرکز اور پنجاب میں ن لیگ آسانی سے حکومتوں کی تشکیل کر لے گی جبکہ کے پی کے میں تحریک انصاف (ممکن یہ بھی ہے اپوزیشن کا کردار ادا کرئے)بہر حال عددی تناسب سے صوبہ کی بڑی جماعت کے طور ابھرنا حیران کن ہے اسی طرح سندھ میں حسب سابق پی پی پی مضبوط حکومت بنا لے گی۔صوبہ بلوچستان میں پختون خوا ملی عوامی پارٹی اتحادیوں کے ساتھ مل کر آسانی سے حکومت سازی کر لے گی۔اس سیاسی منظر سے یہی نظر آ رہا ہے کہ چاروں صوبوں میں مختلف سیاسی جماعتیں اقتدار کے پُر خطر راستے پر رواں دواں ہو چکی ہیں۔
انتخابی نتائج پر اکثر سیاسی جماعتوں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے جن میں ایم کیو ایم ،جماعت اسلامی،سنی تحریک،بی این پی مینگل اور بالخصوص تحریک انصاف نے دھاندلی ہونے کے اشارے دئیے ہیں۔الیکشن کمیشن کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان سیاسی جماعتوں کی شکایات و الزامات کا جائیزہ لیکر کہیں دھاندلی کا ثبوت نکلتا نظر آئے وہاں بلا تاخیر دوبارہ انتخابات کروانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ انتخابات کی شفافیت متاثر نہ ہونے پائے۔
موضوع زیر بحث یہ ہے کہ انتخابات کے نتائج آنے کے بعد دوسرے دن ایک بریکنگ نیوز نے جہاں ہر محب وطن شہری کے رونگٹھے کھڑے کر دیئے وہیں ہم قلم کاروں کا فرض وطن پکارا کہ اس بارے لازمی لکھا جانا چائیے۔ہمارے اور آپ کے بھائی الطاف بھائی نے انتخابی نتائج کے ردعمل میں کہا کہ’’ایم کیو ایم کا مینڈیٹ پسند نہیں تو کراچی الگ کر دیا جائے‘‘۔کچھ لوگ تو اس جملے کو غداری سے مشابہت دے رہے ہیں لیکن اگر ذرا غور سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو الطاف بھائی نے انسانی فطری کمزوری کا اظہار کیا ہے ۔جب ووٹ کا حق کہیں تسلیم نہ کیا جائے تو قدرتی طور پر کوئی بھی ردعمل آنا انہونی بات نہیں ،1970کے عام انتخابات کے نتائج واضح ہونے کے باوجود ہماری اسٹیبلشمنٹ نے اقتدار شیخ مجیب الرحمن کو منتقل نہیں کیا تو اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے ۔راقم جنرل ضیاء آمریت میں کئی بار جیل بھگت چکا حالانکہ اس وقت طالب علم تھا اور ہر وقت ایجنسیاں نقل و حرکت پر ایسے مامور کر رکھی تھیں کہ جیسے ملک دشمن ہیں ،اس پس منظر میں جب غصہ آتا تو اکثر کہا کرتے تھے کہ ’’ہمیں ضیاء کا پاکستان منظور نہیں‘‘مگر اس کا یہ مطلب ہر گز نہ تھا کہ ہم پاکستان کے خلاف تھے ۔ثابت یہ ہوا کہ رویوں اور طرز عمل سے معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے ۔شہر قائد کسی کی جاگیر نہیں یہ سب پاکستانیوں کی وراثت ہے ۔کوئی وارث اپنے حق سے دستبردار ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔بد قسمتی سے ہمارے ملک میں جس نے درست طرز عمل اختیار کیا اسے غدار اور ملک دشمن کے فتوؤں سے نوازا گیا۔الطاف بھائی بلاشبہ جذباتی انداز میں ایک ایسا جملہ کہہ بیٹھے جس کا پس منظر جاننے بغیر کئی سیاسی مسافر اپنے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے الطاف بھائی کو غدار کہلوانے کی کوشش کریں گے ۔
فکر ی تقاضا ہے کہ الطاف بھائی کے جذباتی الفاظ پر ہمیں جذبات میں آئے بغیر ان عوامل پر غور کرنا ہوگا جو اس جملے کو ادا کرنے کے موجب بنے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ شہر قائد میں ایم کیو ایم نمائندہ جماعت ہے ۔اس میں بھی کوئی شک کی گنجائش نہیں بلکہ زبان ذد عام ہے کہ ایم کیو ایم ’’بوری بند پارٹی‘‘بھتہ خور اور منظم شدت پسند تنظیم ہے ۔جو کردار بنگلہ دیش(مشرقی پاکستان) میں مکتی باہنی کا تھا وہی کم و بیش ایم کیو ایم پر ایسے الزامات کی بو چھاڑہے ۔یہ بھی حقیقت ہے کہ جہاں ایم کیو ایم کی اکثریت ہے وہاں کیا مجال کہ کوئی ان کے خوف سے پر مار نے کی کوشش کرئے یا پھرآذادانہ ووٹ کاسٹ کر سکے ۔سادہ لفظوں میں ایم کیو ایم کراچی میں سٹریٹ پاور اور پریشر گروپ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ووٹروں کو ڈرانا دھمکانا ان کے سامنے کوئی بڑی اور بری بات نہیں ،یہ اپنے خلاف کسی ابھرتی ہوئی آواز کو برداشت بھی نہیں کرتے کیونکہ ان کے قائد محترم خود بھی بانکے انداز میں جب خطاب فرماتے ہیں تو ہر سُو خاموشی کا سماں بندھ جاتا ہے ۔اگر قائد تحریک دن کو رات بھی کہہ دیں تو کسی کی اتنی ہمت نہیں کہ وہ اٹھ کر لب کشائی کرنے کی احماقت کرئے ۔یہ ایم کیو ایم کی تربیت کے اثرات ہیں جن سے سیاسی کلچر ماند پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔الطاف بھائی کو بھی چاہئے کہ وہ جماعت کے نظم نسق پر توجہ دیں اور جرائم پیشہ افراد کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ایم کیو ایم کوصرف کراچی تک محدو د نہ رکھیں ۔کراچی سب پاکستانیوں کادل ہے جسے ہم اپنی زندگی سمجھتے ہیں اس کی جدائی کا سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا ۔یہ شہر بانی پاکستان کا ہے اور ہم سب اس کے پاسبان ہیں۔
جواب الجواب کا بے معنی اور لاحاصل سلسلہ جاری رکھنے کے بجائے ہمیں مل بیٹھ کر ان کی شکایات کا ازالہ کرنا ہوگا۔مناسب ،موزوں اور بہتر رائے تو یہ ہے کہ کراچی سمیت جہاں جہاں سے انتخابی اعتراضات مل رہے ہیں وہاں دوبارہ شفافیت کے ساتھ انتخابات کرائے جائیں جس کی نگرانی پاک افواج کرئے تاکہ شکایت کرنے والے کو اطمینان ہو سکے ۔الطاف بھائی نے یہ نہیں کہا کہ کراچی کو پاکستان سے الگ کر دیا جائے بلکہ انہوں نے مشروط انداز میں کہا کہ اگر ہمارا مینڈیٹ تسلیم نہیں کیا جاتا تو ایسا کر دیا جائے ۔سیاسی اکابرین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسی غلطیوں کا مشاہدہ کر کے احساس محرومی جیسے ماحول کو بدلنے کی کوشش کریں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن کمیشن بلا تاخیر کراچی کی تمام نشستوں سمیت جہاں جہاں سے دھاندلی کی شکایات مل رہی ہیں ان حلقوں کے نتائج کالعدم کر کے نیا الیکشن شیڈول جاری کرے تاکہ احساس محرومی سے جنم لینے والے خطرات کو روکا جا سکے اگر اس ضمن میں تاخیر کی گئی تو اس کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں ۔الطاف بھائی بھی جذبات کو الگ رکھتے ہوئے وطن پرستی کا مظاہرہ کریں ،ایم کیو ایم کو قومی جماعت کی سطح پر لانے کی کوشش کی جائے ۔ایسے فیصلے یا جذباتی بیانات سے گریز کریں جن سے انار کی اور تشدد آمیز ماحول جنم لے رہا ہو۔ان سے جو بھی ذیادتی ہوئی ہے اس کے ازالے کے لئے حکومت کو ٹھوس اقدامات اٹھانے چائیں ۔تحریک انصاف کے سربراہ نے بھی انتخابی نتائج پر عدم اطمیناں کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’انتخابات میں دھاندلی پر افسوس ہوا ‘‘ الیکشن کمیشن کو عمران خان کے تحفظات پر بھی غور کرنا چاہئے ۔اب وہ دھاندلی کا وائٹ پیپرز بھی شائع کرنے کا اعلان کر چکے ہیں ،جماعت اسلامی ،سنی تحریک اور بی این پی مینگل نے بھی بائیکاٹ کرنے اور انتخابی نتائج پر مایوسی کا اظہار کیا ہے ۔اگر چہ مذکورہ سیاسی جماعتیں اتنی مقبول نہیں مگر حسب روایت دھاندلی کا رونا پیٹنا لمحہ فکریہ ہے جسے لائٹ نہ لیا جائے ۔
معروف سیاسی قاعدہ ہے کہ انتخابات سب بیماریوں کا بہترین علاج اور صحت مند معاشرے کی جڑ ہے ۔اللہ کا فضل و کرم ہے کہ تقریباً98%انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیا گیا ہے اب 2%کے لئے سارے عمل کو کالعدم کرنا بیوقوفی سے کم نہ ہو گا لہذا ذمہ دار احباب ایسے تما م حلقوں میں از سر نو انتخابات کروانے کا اہتمام کریں جن سے چاہئے 5%ہی شکوک و شہبات پائے جا رہے ہوں ۔جمہوری عمل ابھی ارتقائی منازل طے کر رہا ہے اور کئی خرابیاں ایسی ضرور موجود ہیں جو رائے دہندہ کو اپنی آذادانہ کردار سے روکتی ہیں ۔ایسے جملہ عوامل پر غور فکر کر کے انتخابی شفافیت بر قرار رکھنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔امید ہے کہ ارباب اختیار انتخابی نتائج کے ردعمل کو سامنے رکھتے ہوئے دورس فیصلوں کے ساتھ جمہوریت کے پودے کی آبیاری کریں گے اسی میں قومی سلامتی اور بقاء کا راز پوشیدہ ہے۔note

یہ بھی پڑھیں  پی ایس 128حلقہ کے غیرسرکاری نتائج،ایم کیوایم کے وقارشاہ 3827ووٹ لیکرکامیاب

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker