سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

شہراقتدارمیں وہی ہواجس کاڈرتھا

zafarشہر اقتداراسلام آبادمیں30 اگست کی شام کوبالاخروہی ہواجس کا ڈر تھا۔14اگست یوم آزادی کو تحریک انصاف کے آزادی اور عوامی تحریک کے انقلاب مارچ نے لاہورسے اسلام آباد کا رخ کیاتھا مارچ کے آغازپر دونوں جماعتوں کے قائدین کا کہنا یہ تھا کہ ان کے مارچ پُراَمن ہیں اور آخری دم تک پُراَمن رہیں گے بعد میں اسلام آبادمیں دھرنے کے دوران قائدین کی جانب سے اشتعال انگیز تقاریر کے باوجود 17دنوں تک پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے کارکنان نے پُر اَمن رہنے کاجو ثبوت دیابلاشبہ اس کی تعریف نہ کرنازیادتی ہوگی۔ دوسری جانب حکومت نے بھی سخت سیکورٹی انتظامات اور مظاہرین کی جانب سے قبریں کھودنے اور کفن پوشی کامظاہرہ کرنے کے باوجود تشددکا راستہ نہیں اپنایابلکہ دھرنوں کے شرکاء کوشہراقتدارکے ریڈزون آنے سے بھی نہیں روکاحالانکہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان باربار پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتاتے رہے کہ دونوں جماعتوں نے حکومت کے ساتھ تحریری معاہدہ کیاتھاکہ وہ ریڈزون میں نہیں جائیں گے مگر بعدمیں معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ریڈ زون میں آنے کی ضد پکڑلی لیکن حکومت نے کسی مزاحمت کے بغیر انہیں ریڈ زون میں آنے دیا۔ایک طرف ریڈ زون میں دھرنوں کے شرکاء احتجاج کرتے رہے جبکہ دوسری طرف حکومت اور احتجاج کرنے والی جماعتوں کے مذاکراتی وفود کے مابین مذاکرات بھی ہوتے رہے ۔عوامی تحریک کے سربراہ نے دس نکاتی ایجنڈاپیش کیا تھا جس میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آر درج کرانے ، وزیراعظم نواز شریف،وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے استعفے ، اسمبلیوں اور الیکشن کمیشن کی تحلیل جبکہ تحریک انصاف نے وزیراعظم کے استعفے سمیت کل چھ مطالبات سامنے رکھے تھے ۔حکومتی مذاکراتی ٹیم کا مؤقف یہ تھا کہ حکومت نے تحریک انصاف کے پانچ بلکہ ساڑھے پانچ مطالبے مان لئے ہیں اوروزیراعظم کا استعفیٰ انتخابی دھاندلی کے تحقیقات کے لئے بننے والے جوڈیشل کمیشن کی تحقیقات سے مشروط کردیاگیاہے اگر کمیشن رپورٹ کے مطابق دھاندلی ثابت ہوگئی تو وزیراعظم استعفیٰ ہوجائیں گے۔ حکومت کا مؤقف یہ بھی رہا کہ نوازشریف کروڑوں عوام کے ووٹوں سے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں وہ کیونکر محض ایک الزام لگنے پر مستعفی ہوجبکہ وزیراعظم کومستعفی کرانے کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے یو ں سڑکوں پر چند ہزارلوگ آکرمنتخب وزیراعظم سے استعفیٰ نہیں مانگ سکتے اور اگرایسی روایات ڈالی گئیں تو مستقبل میں کوئی بھی گروہ عوام کوریڈزون میں لاکرحکومت وقت سے مستعفی ہونے کامطالبہ کرے گااورایسی صورت میں کسی بھی حکومت کاچلناممکن نہیں ہوگا۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسمبلی میں موجود تمام اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ اور جمہوریت کے دفاع کے لئے حکومت کے ساتھ کھڑی نظرآئی اور قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قراردادیں بھی منظورکرائیں گئیں جن میں شہراقتدارکے ریڈزون میں دھرنا دیئے جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم سے استعفیٰ مانگنے اور اسمبلی تحلیل کرنے کے مطالبے کو غیرآئینی قراردیاگیاتھا۔29اگست کی شام کوعوامی تحریک کے کیمپ سے کارکنوں کے مشتعل ہونے اور وزیراعظم ہاؤس کی جانب بڑھنے کے آثار نے جنم لیاتھاجس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ ان کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری نے اس سے قبل جو ڈیڈ لائن دی تھی وہ ختم ہوگئی تھی مگر شاہ محمود قریشی ،پرویزخٹک اور کئی دیگر پر مشتمل تحریک انصاف کے وفد کی درخواست پر عوامی تحریک کے کارکنوں نے آگے بڑھنے کا پروگرام ملتوی کیا۔30اگست کو تحریک انصاف،عوامی تحریک اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے مابین دن کو مذاکرات بھی ہوئے اور ان مذاکرات کے حوالے سے میڈیاکے ذریعے سامنے آنے والے سیاسی رہنماؤں کے بیانات سے تاثر یہ ملتارہا کہ معاملہ سلجھ جائے گااور دھرنوں کے شرکاء بخیروعافیت منتشرہوجائیں گے لیکن افسوس کہ ایسی خواہش رکھنے والوں کویکسر مایوسی ہوئی کیونکہ شام ڈھلنے کے بعد پہلے عوامی تحریک اور چندمنٹ بعد میں تحریک انصاف کے کارکنوں نے ڈنڈے لہراتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی شروع کی ۔میڈیاپردکھایااوربتایاگیاکہ مظاہرین نے وزیراعظم ہاؤس کی جانب جانے والے راستوں پر رکھے گئے کنٹینرزاور دیگر رکاؤٹوں کو ہٹانے کی کوشش کی اور اسی مڈبھیڑمیں پولیس نے مظاہرین پر آنسوگیس کی شیلینگ کی،لاٹھی چارج شروع کیا اور ربڑ کی گولیاں بھی برسائیں جس کے باعث دیکھتے ہی دیکھتے اسلام آباد کا ریڈ زون میدان جنگ بن گیا۔ آنسوگیس کی شیلنگ،لاٹھی چارج اور مبینہ طورپر ربڑ کی گولیاں چلانے کے پیش نظرہرطرف افراتفری کے ماحول نے جنم لیا۔ میڈیا کے ذریعے موصولہ اطلاعات کے مطابق اب تک عوامی تحریک کی ایک خاتون کارکن سمیت تین افراد ان جھڑپوں میں جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ درجنوں زخمی ہیں جنہیں طبی امداد کے لئے پولی کلینک،پمز اور بے نظیربھٹوشہید ہسپتالوں میں پہنچادیاگیاہے۔ مظاہرین کے ساتھ ساتھ اس واقعہ کی بھرپورکوریج میں مصروف عمل میڈیا کے نمائندے بھی بدترین پولیس تشدد کا نشانہ بنے اگرچہ بعض تبصرہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایسے جھڑپوں میں ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر میڈیا رپورٹرزکے ہاتھوں میں لوگو لگے مائیکس اور کیمرہ مینوں کے ہاتھوں میں کیمرے ہوں اور ان کے میڈیاکارڈزبھی نمایاں ہوں توپھر انہیں تشدد کا نشانہ کیوں بنایاجاتاہے اور دانستہ طور پر ان کے کیمرے کیوں توڑے جاتے ہیں۔تحر

یہ بھی پڑھیں  را کی کاروائیاں اور پاکستان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker