ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

شیخ الا سلام بمقا بلہ مفکر اسلام

ٹھو کر لگی تو اپنے مقدر پہ جا گرا پھر یو ں ہوا کہ آئینہ پتھر پہ جا گرا
احسا س فر ض بھی ہوا نیند آگئی چلنا تھا پل صراط پہ پتھر پہ جا گرا
با زی محبتو ں کی جہا لت نے جیت لی وہ بھی گیا خطیب جو ممبر پہ جا گرا
خو شبو قصور وار نہیں اس کو چھو ڑ دو میں پھول تو ڑتے ہو ئے کا نٹو ں پہ جا گرا
صحرا ؤ ں میں لیے پھر اقبال پا نی کی جستجو جب پیا س مر گئی تو سمندر میں جا گرا
امام غزالی ؒ فرما تے ہیں سب انسان مر دہ ہیں زندہ وہ ہیں جو وعلم والے ہیں ، سب علم والے سوئے ہو ئے ہیں بیدار وہ ہیں جو عمل والے ہیں تمام عمل والے گھا ٹے میں ہیں فا ئدے میں وہ ہیں جو اخلا ص وا لے ہیں سب اخلا ص وا لے خطرے میں ہیں صرف وہ کا میاب ہیں جو تکبر سے پاک ہیں ۔ انسانی فطرت میں جہا ں تجسس اور حصول کا ما دہ پا یا جا تا ہے تو وہا ں پر کسی بھی منصب یا مسند پر پہنچنے کے بعد بہک جا نے کا خدشہ قوی رہتا ہے موجودہ دور میں جہا ں علما و مشائخ ، صاحب علم و عقل و شعور کی ایک کثیر کھیپ آبا دہے ہما رے ہا ں آج شخصیت کو پو جا اور قا بل تقلید گردانا جا تا ہے حا لا نکہ شخصیا ت اور قا ئدین تو اپنے کردار ، افکا ر اور اسلاف کے طور طریقوں کو آگے پہنچا نے کی سعی کرتے ہیں آپ ﷺ کی ذات کے بعد کوئی انسان کامل نہیں یہ ہم کیو ں بھول جا تے ہیں انہی کی تعلیما ت سے یہ خزانہ ملتا ہے انسان تو خطا ؤ ں کا پتلا ہے اور اس میں اچھے بر ے اوصاف اور اعمال ضرور پا ئے جا تے ہیں اپنی پیدا ئش سے لیکر اپنی وفا ت تک کوئی بھی انسان کامل اور گنا ہو ں سے سو فیصد مبرا ء نہیں ہا ں البتہ اپنے تقویٰ علم اور عمل کی بد ولت مقام ومرتبہ کا حامل ضرور ہے کئی ایک مذہبی تنظیمیں تبلیغ اسلام اور دین کی آبیا ری کے لیے بنائی جا تی ہیں اسی طر ح سے سیاسی جما عتوں کا وجود سائنسی اعتبار سے ریا ست کو چلا نے کے فارمولو ں کا ایک منظم رموٹ کنٹرول اور ڈیزا ئن نظام متعارف کراتی ہیں لیکن صد افسوس کہ آج کے اس جد ت پسندی کے دور میں مذہبی ہوں یا سیاسی جما عتیں شخصیا ت کے گرد طواف کرتی ہو ئی دکھائی دیتی ہیں نظریا ت اور فکر نام کی کوئی چیز دکھائی ہی نہیں دیتی ہے ۔ امیر اعلیٰ اور سرپرست کی با ت کو حرف آخر جا نا جا تا ہے اور لیڈر کوئی غلط تصور پیش کر ے یا بری واعظ کا مر تکب بھی بن جا ئے تو اس کے قصیدوں اور اس کی تسبیح میں کوئی فر ق نہیں آنے دیا جا تا کہ رب تو نا را ض ہو جا ئے لیکن اپنا قا ئد اور امیر کبھی بھی رنج نہ ہو نے پا ئے وہ سچ کہے یا جھو ٹ اس کو چا ہنے والے اس کی اندھی تقلید کے پیر و کا ر بن جا تے ہیں ۔ ماہ سفر کا آغا ز ہو ا چا ہتا ہے اور اس مصا ئب و الم اور آسمانی بلا ؤ ں کے نزول کے مہینہ میں عالم اسلام کی قد آور شخصیت امیر تحریک منہا ج القرآن شیخ الا سلام ڈا کٹر محمد طا ہر القا دری کی آمد کسی معمہ سے کم نہیں ہے ۔ ڈا کٹر طا ہر القا دری سرمایہ ملت ہیں ان کی ذات سیاسی اور مذہبی حلقو ں میں ایک نا یا ب حثیت کی حامل ہے ۔ ان کی دین اسلام کے لیے بے مثال خدما ت اور قیام امن کے لیے کا وشوں کو بین الا قوامی سطح پر سرا ہتے ہو ئے سفیر امن کے ایوارڈ کے بعد ان کا مقا م و مرتبہ مزید نکھر کر سامنے آگیا ہے ۔ جبکہ بقول سربراہ ادارہ صراط مستقیم پاکستان مفکر اسلام ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی ؔ ،ڈاکٹر طا ہر القا دری نے امت کے کئی اصولی نظریا ت سے انحراف کیا ہے انہو ں نے اپنی گذشتہ تقریر تو ہین رسالت کی ایک نئی تعریف کی ہے ۔ جس کے مطا بق اگر بو لنے والے کی نیت ہو تو تو ہین بنتی ہے ورنہ نہیں بنتی ہے ۔ اس کے علا وہ ویملے کا نفرنس میں انہو ں نے لفظ اللہ کے با رے جو کہا کہ معبو دان با طلہ کو بھی اللہ کہا جا سکتا ہے یہ بھی صریح کفر ہے ۔ ایسے ہی انہو ں نے یہو د و نصاریٰ کو مومن قرار دے کر متعدد آیا ت قرآن کے خلا ف مو قف اپنایا ہے ایسے ہی انہو ں نے تر جمعہ قرآن میں بھی فاش غلطیا ں کی ہیں اور ان کے غلط نظریا ت کی ایک لمبی فہرست ہے بے شما ر پاکستانی علما ء و مشا ئخ ان کے خلا ف بیا ن با زی کرتے ہو ئے دکھائی دیتے ہیں حالیہ ان کے گستا خ رسول با رے بیان اور ممتا ز قا دری کی مخا لفت کے بعد ان کی سیکیو رٹی کے حوالہ سے خا صے شکو ک شبہا ت پا ئے جا تے ہیں انٹرنیشنل ایجنسیز اور میڈیا بھی اس حوالہ سے انہیں با رہا مطلع کر چکا ہے ۔ ان کا مو جودہ حالا ت میں پاکستان آنا اور اتنے بڑے عوامی اجتما ع سے خطاب کر نا خطرے سے خالی نہیں ہے ،ہو سکتا ہے کہ شہید بے نظیر بھٹو کی طرح یہ ان کا یا د گا ر میں آخری جلسہ ہو۔۔۔۔۔ ؟ اسلیے ان کے چا ہنے والو ں ، معتقدین ، علما ء و مشا ئخ ، خفیہ اداروں اور حکومت کو چا ہیے کہ ہر صورت میں ان کا یہ دورہ منقطع کیا جا ئے کیو نکہ انکا یہ دورہ یا د گا ر میں ان کی اپنے چا ہنے والو ں اور منہا ج القرآن کے وابستگا ن کے ساتھ آخری ملا قات نہ بن جا ئے ۔ موجودہ حا لا ت کے تنا ظر میں جب اسلامی جمہو ریہ پاکستان پر بد امنی ، دہشتگردی ، افرا تفری اور غیر یقینی صورتحال کے بادل منڈلا رہے ہیں ان خطرناک گھڑیو ں اور سا عتو ں میں عالم اسلام کی قیمتی ترین شخصیت اور سفیر امن کی آمد اور عوام کے اندر مو جو دگی کسی بہت بڑے خطرے کا پیش خیمہ ثا بت ہو سکتی ہے ۔ ملک کے اندر، اندرونی اور بیرونی سطح پر خد شات اپنی جگہ قائم ہیں جبکہ اپنے پرائے ان پر نظریں فوکس کیے ہو ئے ہیں اور کسی بھی سازش کے تحت انہیں پاکستان کا امن تباہ کرنے اور مزید دہشتگردی کو پروان چڑھا نے کے لیے نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ منہا ج القرآن کے وابستگا ن اور ان سے محبت اور عقیدت رکھنے والو ں کو چا ہیے کہ محض فرط جذبا ت میں آکر بڑے بڑے جلسوں اور ریلیو ں کے انتظاما ت میں گم ہوکر نہ رہ جا ئیں بلکہ مکمل طو رپر ان کی سیکیو رٹی کے حوالہ سے تد بر اور تفکر کا راستہ اپنایا جا ئے اور جو حکومت اپنا تحفظ کر نے اور اپنی قوم کی حفاظت کر نے سے گر یزاں ہے وہ کیا کسی کی حفاظت کا ذمہ لے سکتی ہے اگر ڈا کٹر صاحب کی آمد سے پہلے سیکیورٹی کے انتظاما ت مکمل اطمینان بخش نہیں ہو جا تے تو ان کا یہ دورہ ملتوی کر دینا چا ہیے کیو نکہ ان کی ملا قات سے زیا دہ ان کی زندگی کی قیمت ہے ۔ ملن کی یہ گ

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑا:ضلع بھر میں تجاوزات کا بلا تفریق خاتمہ کیا جائیگا، ڈسٹرکٹ کوارڈینیشن آفیسر

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker