پروفیسر رفعت مظہرتازہ ترینکالم

انتہاؤں کو چھوتی شرپسندی

کپتان اپنے اقوال وافعال سے یہ تو ثابت کر ہی چکے تھے کہ وہ مغرورومتکبر انسان ہیں لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ اُن کی نرگسیت اُنہیں اُس مقام تک لے جائے گی جہاں ملکی سلامتی بھی خطرے میں پڑ جائے۔ آج کپتان اور حواری یہ کہتے ہیں کہ اپوزیشن تو اُن کے خلاف تھی ہی اب الیکشن کمیشن، عدلیہ اور فوج بھی اُن کے خلاف کھڑی ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر عدلیہ اور فوج کے خلاف یوتھیے جو ٹویٹس کر رہے ہیں اور غلیظ گالیوں کا جو طوفان برپا ہے وہ احاطہئ تحریر میں لانا ناممکن۔ ابھی تک تو اِن تینوں اداروں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑالیکن کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ فوج سے کپتان کو یہ گلہ ہے کہ وہ ”نیوٹرل“ کیوں ہوگئی اور اُسے گود سے کیوں اُتار پھینکا۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ سے یہ شکایت کہ ضمنی انتخابات میں تحریکِ انصاف کو کھُل کھیلنے کا موقع کیوں نہیں دیا۔ یہ وہی سکندر سلطان راجہ ہیں جو عمران خاں کا اپنا انتخاب اور جن کی تعریف میں وہ رطب اللساں تھے لیکن اب بقول کپتان وہی نوازلیگ کا ملازم۔ دراصل یہ ساری دھمکیاں فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے دی جا رہی ہیں جس کا عنقریب فیصلہ آنے والا ہے۔ عدلیہ سے شکوہ یہ کہ رات 12 بجے عدالتیں کیوں کھولی گئیں؟۔ آج صورتِ حال یہ کہ یوتھیوں کے نزدیک وہی آئین اوروہی قانون جو کپتان کی زبان سے نکلے۔ ماہِ اپریل میں ایسی کئی مثالیں موجود کہ عدل کے ایوانوں سے جو بھی فیصلہ آیا اُسے ہوا میں اُڑا دیا گیا۔ اب کپتان کچے ذہنوں میں یہ زہر گھولنے کی سعی کر رہا ہے کہ اُس کے ”جنگجو“ باہر نکلیں اور مخالفین کو تہس نہس کر دیں۔ اُس کے کئی بیانات ایسے ہیں جو انارکی پھیلانے کی ترغیب دیتے ہیں حتیٰ کہ اب کپتان اپنے آپ کو جس روپ میں پیش کر رہا ہے وہ ناقابلِ یقیں۔ ایک تقریر میں اُس نے کہا ”اللہ کے سب سے بڑے لیڈر پیغمبر تھے اور وہ پیغمبر اللہ کا پیغام لے کر عوام میں گئے تھے۔ اب آپ نے میرا پیغام عوام تک پہنچانا ہے“۔ ایسا بیان کسی مسلمان کا نہیں، مخبوط الحواس شخص کا ہی ہو سکتا ہے۔ یہ باتیں وہ شخص کر رہا ہے جس نے 8 سالوں سے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ نہیں ہونے دیا، جو توشہ خانہ پر ہاتھ صاف کرنے کے بعد کہتا ہے ”میرے تحفے میری مرضی“ اور جس کی اہلیہ کی قریب ترین سہیلی فرح گوگی کے اثاثے محض 3 سالوں میں 3 کروڑ سے 89 کروڑ تک جا پہنچے، کرپشن سے بنائی گئی اربوں روپے کی جائیداد کا حساب الگ۔ اب نیب نے ایکشن لے لیا ہے اِس لیے یہ یقین کہ جلد قوم کپتان کی زبان سے سُنے گی کہ نیب نوازلیگ سے مل گئی ہے۔
یہ سب کچھ تو رکھیں ایک طرف لیکن یوتھیوں نے کپتان کی ایماء پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی جو مذموم کوشش کی ہے اُس کے لیے مذمت کے الفاظ انتہائی کم۔ حرمین شریفین عالمِ اسلام کے مقدس ترین مقامات ہیں جن کی بے حرمتی کا کوئی مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ مسجدِ نبوی وہ مقام ہے جہاں حضورِ اقدسﷺ آسودہئ خواب ہیں۔ اِسی جگہ پر ریاض الجنہ واقع ہے جس کے بارے میں حضورِاکرم ﷺ نے فرمایا ”میرے حجرے اور منبرکے درمیان جنت کی ایک خوبصورت کیاری ہے“۔ شانِ رسولؐ کی گواہی قرآن نے یوں دی ”اللہ اور اُس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو! جو ایمان لائے ہو تم بھی اُن پر درودوسلام بھیجو“ (سورۃ الاحزاب 56)۔ یہ بھی رَبِ لَم یزل ہی کا فرمان ہے ”اے لوگوجو ایمان لائے ہو اپنی آواز نبیؐ کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ نبی کے ساتھ اونچی آواز سے بات کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے بات کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہو جائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو“ (سورۃ الحجرات 2)۔ یہی آیت مبارکہ روزہئ رسولؐ کی جالیوں پر بھی کندہ ہے۔ جب کچھ لازمہئ انسانیت سے تہی لعین شرپسندوں نے وزیرِاعظم پاکستان میاں شہبازشریف اور اُن کے وفد پر مسجدِ نبوی میں آوازے کسے اور گالیاں دیں اور بال نوچے تو نہ صرف پاکستان بلکہ عالمِ اسلام میں بھی غم وغصّہ کی لہر دوڑ گئی۔ ہم مختلف اوقات میں بار بارروزہئ رسولؐ پر حاضری کی سعادت حاصل کر چکے، یہ ہمارا مشاہدہ ہے کہ مسجدِ نبویؐ میں لوگ بات بھی سرگوشیوں میں کرتے ہیں کیونکہ اُن کے سامنے اللہ کا حکم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہنگامے کے بعد مسجدِ نبوی کے امام نے نماز کے دوران سورۃ الحجرات کی یہی آیت تلاوت فرمائی اور دورانِ تلاوت اُن کی ہچکیاں بندھ گئیں۔ دوسری طرف تحریکِ انصاف کے کارکُن اِس بے حرمتی پر قہقہے لگاتے پائے گئے۔ تحریکِ انصاف کا رُکنِ قومی اسمبلی شیخ راشد شفیق جو شیخ رشید کا بھانجاہے وہ مسجدِ نبویؐ کے تقدس کی پامالی کو عمران خاں کی فتح قرار دیتے ہوئے کہہ رہا تھا ”پاکستانی حکومت کے لوگ یہاں آئے تھے، لوگوں نے یہاں چور چور کے نعرے لگائے، یہ عمران خاں کی فتح ہے۔ یہ خانہ کعبہ جائیں گے تو وہاں بھی اِن کے خلاف نعرے لگیں گے“۔ وہ لعین اِس بات پر بھی خوشی کا اظہار کر رہا تھا کہ شرپسند یوتھیوں کے خوف سے پاکستانی وفد مسجدِ نبویؐ میں نمازادا کر سکا نہ تراویح۔ اب قوم خود ہی فیصلہ کر لے کہ جو لوگ حرمین شریف کا احترام کرنے کی بجائے اپنے لیڈر کی ہدایت پر شرپسندی کے مرتکب ہوئے وہ کسی بھی صورت میں مسلمان کہلانے کے مستحق ہیں؟۔تحریکِ انصاف نے یہ اپنے افعال سے ثابت کر دیا کہ وہ فتنہ پرور سیاسی جماعت ہے۔ اِس لیے ہم وزیرِداخلہ رانا ثناء اللہ کو کہتے ہیں
پکڑ کے زندہ ہی جس درندے کو تم سدھانے کی سوچتے ہو
بدل سکے گا نہ سیدھے ہاتھوں وہ اپنے انداز، دیکھ لینا
اب جبکہ کپتان تصادم کی راہ اپنا کر ملک میں انارکی پھیلانا چاہتا ہے تو قوم کو اِس سازش کو سمجھتے ہوئے صبر سے کام لینا ہوگا۔ ہم کہے دیتے ہیں کہ یہ براہِ راست ہمارے دین کا معاملہ ہے اِس لیے صبر کا دامن چھوٹ چھوٹ جاتا ہے۔ اِس سے پہلے کہ قوم حرمتِ رسولؐ کی پاسبانی کے لیے اُٹھ کھڑی ہو، حکمرانوں کو آئین وقانون کے مطابق اِن شرپسندوں کو نشانِ عبرت بنانا ہوگا۔ پہلے بھی قوم پاکستانی پرچم کونذرِآتش کرنے، پاسپورٹ جلانے اور آئین توڑنے پر صبر کر چکی لیکن اب ہمارے مقدس ترین مقام کی بے حرمتی کا معاملہ ہے جس پر خاموش رہنے کا واضح مطلب یہ ہوگا کہ ہم بھی اِس بے حرمتی میں برابر کے شریک ہیں۔ اِس معاملے پرہماری اعلیٰ ترین عدلیہ کو بھی ازخود نوٹس لینا ہوگا کیونکہ یہ ہماری عقیدت ومحبت کا معاملہ ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ عالی مرتبت چیف جسٹس آف پاکستان محترم عمرعطا بندیال اَزخود نوٹس لیں گے۔ حکمرانوں کویہ بھی طے کرنا ہوگا کہ اِس شرپسندی کا اصل محرک کون ہے۔ ہمارے نزدیک تو سب سے پہلے شیخ رشید سے تفتیش کرنی چاہیے جس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا ”یہ لوگ حرم جائیں گے تو دیکھئیے اِن سے کیا سلوک ہوتا ہے“۔اِس کے علاوہ فوادچودھری، شہبازگِل، شیریں مزاری اور کپتان کے قریبی دوستوں جہانگیرچیکو اور انیل مسرت سے بھی تفتیش کی جانی چاہیے۔
حرفِ آخر یہ کہ لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صاحب 2 دفعہ صدرِپاکستان اور گورنر پنجاب کو نَومنتخب وزیرِاعلیٰ حمزہ شہباز سے حلف لینے کے لیے ایڈوائس بھیجی لیکن دونوں نے اِس ایڈوائس کو پرکاہ برابر حیثیت نہیں دی۔ تیسری مرتبہ جب معزز عدالت نے سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کوحمزہ شہباز سے حلف لینے کا حکم دیا تو گورنر پنجاب نے غیرآئینی قدم اُٹھاتے ہوئے سابق وزیرِاعلیٰ عثمان بزدار کا استعفیٰ نامنظور کرتے ہوئے اُسے بحال کر دیا حالانکہ سابق گورنر پنجاب چودھری سرور نہ صرف یہ استعفیٰ منظور کر چکے تھے بلکہ نئے وزیرِاعلیٰ کے انتخاب کے موقعے پر عثمان بزدار اسمبلی میں موجود بھی تھا۔ اب تحریکِ انصاف انٹراکوٹ اپیل کے لیے لاہور ہائیکورٹ پہنچ چکی۔ اِس اپیل کی سماعت کا وقت ساڑھے 11 بجے تھا اور ٹھیک اُسی وقت حمزہ شہباز وزیرِاعلیٰ کا حلف اُٹھا چکے اور پرنسپل سیکرٹری تو گورنر پنجاب نے اُن کی حلف برداری کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!