ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

شناخت کون کرے گا؟

ma tabsumجب آزاداور طاقتور الیکشن کمیشن جعلی ڈگری والوں کے خلاف ایکشن لینے سے قاصرہے توحکومت پھر بجلی چور وں کو کس طرح پکڑسکتی ہے ؟یہ بجلی چور تو وہی ہیں جو جعلی ڈگری والے ہیں ،سنا ہے کہ حکومت بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے جا رہی ہے بڑی ہی عجیب بات ہے جو خود چور یاچور کا ساتھی وہ کیا چور کو سزا دے گا؟کتنی احمقانہ بات ہے کہ بجلی چوروں کو پکڑیں گے ۔کوئی آپ سے پوچھے کہ پہلے بجلی چوری کرواتے کیوں ہو؟آج یہ بات سب جانتے ہیں کہ واپڈا ملازمین کی مرضی بغیر کوئی مائی کا لال بجلی چوری نہیں کرسکتا اس بات سے بھی سب واقف ہیں کہ ملازمین اپنے آفیسر کا حکم مانتے اور اگر کرپٹ آفیسر ملے تو چھوٹے ملازمین بھی اپنے حصے یا اُس سے زیادہ بھی لوٹ مار کرتے ہیں اور اب یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ آفیسر کون ہیں اور اُن کو تعینات کون کرتا ہے۔مثال کے طور پرکاہنہ نو واپڈاسب ڈویژن میں تقریباپچھلے 4سالوں سے جو ایس ڈی او تعینات ہے وہ مقامی ایم این اے کا قریبی رشتہ دار ہے اور مجال ہے کہ کسی کی کہ اُسے کرپشن ،رشوت،سفارش یا بجلی چوری سے روکا ہو،وہ اپنی مرضی سے دفتر آتا اور جاتا ہے ۔ملک بھر میں بجلی چوری عام ہے لیکن ایک بات قابل غور ہے کہ حکومت نے یہ نہیں کہا کہ نامعلوم بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ یہ خبر پڑھ کر میں نے اپنے واپڈاملازم دوست سے پوچھا کہ جب آپ بجلی بند کرتے ہیں تو عوام آپ کو گالیاں اور بدعائیں دیتے ہیں ۔ابھی میری بات پوری نہ ہوئی تھی کہ وہ جلدی سے بولا جناب ہمیں پتا ہوتا ہے اب ایسا ہونے والاہے اس لیے ہم بجلی بند کرنے سے پہلے ہی وہ ساری گالیاں اور بدعائیں عوام کودے دیتے ہیں جو عوام ہمیں بعد میں دیتے ہیں۔میں نے کہا یار آپ کو تکلیف نہیں ہوتی جب لوگ کہتے ہیں کہ بجلی والوں کی ماں مرگئی یامرجائے؟اُس نے زور دار قہقہ لگایا اور ہنستے ہوئے بولاتبسم صاحب آپ جانے کس دنیامیں رہتے ہیں ۔صرف واپڈا والوں کی ہی نہیں بلکہ کسی بھی سرکاری آفیسر کی ماں نہیں مرسکتی اور رہی بات چھوٹے ملازمین کی تو وہ تو آفیسروں کا حکم مانتے ہیں اس لیے عوامی گالیوں اور بدعاؤں سے اُن کا کوئی تعلق نہیں بنتاکیونکہ وہ بیچارے اگراپنے آفیسر کاحکم نہیں مانیں گے تونوکری سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔اُس نوکری سے جسے حاصل کرنے کے لیے اُنہیں اپنی ماں کا زیور بیچنا پڑاتھا۔میں نے سوال کیا یہ آج کل جو حکومت نے بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈون کا اعلان کررکھاہے اس پر کہاں تک عمل ہوگا اور کتنی حد تک کامیابی مل سکتی ہے ؟اُس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بہت چھوٹا جواب دیا کہنے لگا مجھے نہیں لگتا کہ کچھ ہوگا ۔قارئین محترم جب جعلی ڈگری ثابت ہونے پر بھی یہ بات واضع ہونے کے باوجود کہ سیاست دانوں نے عوام کے ساتھ دھوکہ کیا تھا تو بھی آزاد ،خود مختار اور مضبوط الیکشن کمیشن کچھ نہیں کرسکتا تو نامعلوم بجلی چوروں اور نامعلوم قاتلوں کو کون پکڑسکتا ہے ؟ویسے بھی عوام کے لیے اب ایسی خبریں کچھ معنی نہیں رکھتیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کچھ نہیں ہونے والا یونہی بجلی و گیس ہی نہیں پاکستان کے تمام تر وسائل چوری ہوتے رہیں گے ۔حکمران یونہی قوم کی خدمت کرتے رہیں گے اور قوم بے فکر ہوکر سوتی رہے گی،ملک میں جمہوریت بھی موجود ہے ،فوج ،اعلیٰ عدلیہ اور تما م سیاسی جماعتیں بھی جمہوریت کی بھرپور حامی ہیں،قوم کے منتخب نمائندے ملکی خوشحالی وترقی کی کوشش میں دن رات مصروف ہیں۔نامعلوم قاتل قتل عام کرنے میں میں مصروف ہیں ،نا معلوم کرپٹ لوگ ملکی وسائل لوٹ رہے ہیں ،نامعلوم دہشتگرد روزانہ دہشتگردی کی وارداتیں کرنے میں مصروف ہیں اور نامعلوم ووٹر ملک دشمن لوگوں کو ووٹ ڈالنے میں مصروف ہیں۔اتنی مصروفیت میں نامعلوم حکمران نامعلوم بجلی چوروں اور نامعلوم جعلی ڈگری والوں کی شناخت کون کرے گا ؟note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button