تازہ ترینعلاقائی

پتوکی:SHOشیخ اعجازاحمدنےرشوت اورکرپشن کےتمام ریکارڈ توڑدئیے

پتوکی ﴿نامہ نگار)تھانہ صدر قصور کے ایس ایچ او شیخ اعجاز احمد نے رشوت اور کرپشن کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ۔ اسلم سب انسپکٹر، عبدالرشید سب انسپکٹر اور دیگر راشی پولیس افسروں کا ایک نیٹ ورک بنا کر لاکھوں روپے کی دیہاڑیوں کاسلسلہ جاری ۔ بین الصوبائی فراڈ گینگ کو پکڑ کر لاکھوں روپے رشوت وصول کر کے چھوڑ دیا گیا ۔ صحافیوں کے ساتھ بھی بدمعاشی اور غنڈہ گردی کی انتہا ۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ صدر قصور میں تعینات ایس ایچ او شیخ اعجاز جو قصور کا ہی رہائشی ہے نے اپنے سرکل میں پرچی ، جوا، منشیات فروشی، قحبہ خانوںاور خطرناک جرائم کے خاتمہ کرنے کی بجائے جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی کرنا شروع کر رکھی ہے ۔ دیگر پولیس آفسران جن میں اسلم سب انسپکٹر ، عبدالرشید سب انسپکٹر ، شبیر نائب محرر ، صادق ASIو دیگر راشی پولیس آفسران بھی سالوں سے سیاسی اثروسوخ پر اسی تھانہ میں تعینات چلے آرہے ہیں۔ اور اس تھانہ میں رشوت کے بغیر کوئی ضروری کام تو دور کی بات حوالاتیوں سے ملاقات اور کاغذات گم شدگی کی رپورٹ درج کروانے کے بھی پیسے لئے جاتے ہیں۔ ایس ایچ او سمیت تمام نفری محکمہ اور عوامی فلاحی کاموں کے بجائے بھتہ وصولی میں مصروف عمل رہتے ہیں۔ اسی طرح اتوار کے روز دبئی انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ اینڈ سٹڈی کے نام سے منسوب ایک نام نہاد ادارے کی انتظامیہ تھانہ صدر کے علاقہ فیروز پور پر واقع المنیر میرج گارڈن میں کسی سرکاری ادارے سے این او سی حاصل کئے بغیر ہزاروں شہریوں کے مجمے میں ناچ گانے پر مشتمل ایک میوزیکل شو کے دوران خوبرو حسینوں کے ہمراہ فحاشی کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ شہریوں کو موٹر سائیکلوں کی فراہمی کا جھانسہ دے کر مختلف پیکج ظاہر کر کے سادہ لوح افراد کو لوٹ رہے تھے ۔ دو سو روپے کارڈ ، بارہ سو روپے کمیٹی کے ذریعے موٹر سائیکل اور پانچ سے لے کر دس ہزار روپے تک کے علیحدہ علیحدہ پیکج کے ذریعے نوکریوں اور بیروں ممالک بھیجنے کے جھانسے دیتے ہوئے لاکھوں روپے کا سرعام فراڈ کر رہے تھے۔ جس پر مقامی صحافی ملک عارف علی نے ایس ایچ او تھانہ صدر شیخ اعجاز کو اطلاع دی پولیس نے ریڈ کر کے چند ملزمان کو گرفتار کر لیا اور قیمتی کاغذات رقم اور فارم وغیرہ قبضہ میں لے لئے جبکہ مذکورہ نام نہاد ادارے کے اصل سرکردہ نوسربازمالکان اور ملازمین موقع سے فرار ہو گئے۔ بعد ازاں پتہ چلا کہ مذکورہ ایس ایچ او نے راتوں رات لاکھوں روپے رشوت لے کر گرفتار ملزمان کو چھوڑ دیا۔ صحافی کے پوچھنے پر ایس ایچ او مذکورہ اپنے اختیارات کی آڑ میں غنڈ ہ گردی پر اتر آیا ۔ اور کہا کہ میرے اعلی حکام سے قریبی تعلقات ہیں۔ میرا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا جائو جو ہوتا ہے کر لو۔ دریں اثنائ مقامی صحافی ملک عارف علی نے آئی جی پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب ، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج قصور اور ڈی پی او قصور سے تھانہ صدر کا پورا عملہ معطل کرنے اور مذکورہ نو سرباز کمپنی کے خلاف ایکشن کا بر پور مطالبہ کیا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  20 نومبر۔۔۔ بچوں کا عالمی دن

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker