تازہ ترینتجمل محمود جنجوعہکالم

شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد

tajumalاگر تاریخ کے اوراق کو کھنگالا جائے تو ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جن میں قوموں نے اپنی جغرافیائی حدوں اور اپنی اقدار کے تحفظ کے لئے ان گنت قربانیاں دیں۔ مگر چونکہ یہ قربانیاں دنیاوی مقاصد کے لئے تھیں، اس لئے گردشِ دوراں کے ساتھ ان کی قدر و اہمیت ماند پڑتی گئی مگر کچھ واقعات ہمیشہ کے لئے امر ہو جاتے ہیں۔
سانحہ کربلا، جسے پیش آئے کم و پیش 1400 سال بیت چکے ، آج بھی اپنی حیثیت و اہمیت کو منوائے ہوئے ہے۔ واقعہ کربلا بیان کرتے ہوئے لکھاری، مؤرخین، مقررین اور ذاکرین جو نام سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں وہ ہے نامِ حُسین۔
آئیے میں بتاتا ہوں کہ حسینؓ کون ہیں۔۔۔
بقول شاعر:
اے کربلا کی خاک، اُس احسان کو نہ بھول
تڑپی تھی تجھ پہ لاش جگر گوشہءِ بتولؓ
اسلام کے لہو سے تیری پیاس بجھ گئی
سیراب کر گیا تجھے خونِ رگ رسولﷺ
جو جواں بیٹے کی میت پہ نہ رویا، وہ حسینؓ
جس نے سب کچھ کھو کے کچھ نہ کھویا، وہ حسینؓ
مرتبہ اسلام کا جس نے دوبالا کر دیا
خون نے جس کے دو عالم میں اُجالا کر دیا
اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول
تڑپی تھی تجھ پہ لاش جگر گوشہءِ بتولؓ
میرا مقصد واقعہ کربلا بیان کرنا نہیں بلکہ وہ مقصد بیان کرنا ہے جس کی خاطر اُن عظیم ہستیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ جب یزید نے اہل مکہ کو اپنی بیعت کرنے پر مجبور کیاتو امام حسینؓ اور ان کے جانثاروں نے اس کی بیعت کرنے سے انکار کر دیااور دین حق پر قائم رہنے اور یزیدکے خلاف عَلم حق بلند کرنے کا فیصلہ کیااور یزیدیوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئے۔ میدانِ کربلا میں گھمسان کا رن پڑااور پھر کربلا نے جو دیکھا وہ بیان کرنے کی ہمت مجھ میں نہیں ہے، میرا قلم وہ سب لکھنے سے قاصر ہے تو ورق بھی نوحہ کناں نظر آتا ہے کہ خدارا مجھ پہ وہ سب تحریر نہ کرنا۔مختصر یہ کہ امام حسینؓ نے اپنے تمام ساتھیوں سمیت جامِ شہادت نوش کیا۔یہ 10 محرم الحرام کا دن تھا جب دھرتی نے یہ ہولناک سانحہ ہوتے دیکھا۔
آج 09 محرم الحرام ہے ۔ تمام مسلمان اس سانحہ کو یاد کر کے غمگین ہیں۔ ٹی وی، ریڈیو، اخبارات، سوشل میڈیاغرضیکہ ہر جگہ سانحہ کربلا کا تذکرہ کیا جا رہا ہے۔ میں اِ س کے خلاف نہیں مگر کیا ان کی عظیم قربانیوں کو ہم صرف ان دو دنوں(09 اور 10 محرم الحرام ) میں یاد رکھیں گے؟؟
میرے خیال میں یہ بہت زیادتی ہو گی کہ ہم ان قربانیوں اور شہداء کی تعلیمات کو سال بھر تو بھلائے رکھیں دو چار مخصوص ایام میں ان شہداء کے عشاق ہونے کے بلند و بانگ دعوے کرتے پھریں اور پھر جب یہ ایام گزر جائیں تو پھر پرانی ریت کو اپنا لیں۔
آج مسلم اُمہ جس صورت حال سے دو چار ہے، جو کچھ فلسطین، افغانستان، عراق، کشمیر، چیچنیا اور نہ جانے کتنے ممالک میں مسلمانوں پر جس طرح ناحق مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور اس تمام صورت حال پہ جس طرح باقی اسلامی ممالک دم سادھے اور نگاہیں موندے ہوئے ہیں وہ قابل افسوس بھی ہے اور قابل فکر بھی۔کیا اسی طرح کیا تھا ہمارے آباء و اجداد، ہمارے راہنماؤں، ہمارے شہداء نے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ؟؟؟؟
نہیں ! قطعاً نہیں! بلکہ وہ تو ہر لمحہ نبی پاک ﷺ کے اس قول کو سامنے رکھ کر اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کو ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔
” تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، جسم کے اگر ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے تاب ہو جاتا ہے (مفہوم) ”
اسی قول کو شاعر مشرق یوں بیان کرتے ہیں
اخوت اس کو کہتے ہیں، چبھے کانٹا جو کابل میں
تو ہندوستاں کا ہر پیروجواں بے تاب ہو جائے
اسی احساس کی بدولت ہی اتنے کم عرصہ میں اسلام کی روشنی پوری دنیا میں پھیلی۔ ذرا سوچئیے! کیا ہم ان شہداء کی تعلیمات کو یاد رکھے ہوئے ہیں؟ کیا ہم شریعت محمدی ﷺ پہ عمل پیرا ہیں؟ اگر نہیں تو کیا ہم ان کے شیداء کہلوانے کا حق رکھتے ہیں؟؟؟
اے حسین کے داعیو! کیا حسین کی تعلیمات کا پاس ہے تمہیں؟؟؟
خدارا! اپنے کردار بنا لو، اپنے مسلمان بھائیوں کے درد کو اپنا سمجھو، دین حق پہ چلو، حسین کے نانا کی تعلیمات کو اپناؤ، او بھائیو! نماز کی طرف لوٹ آؤ، خدا کی طرف لوٹ آؤ،حسین کے عاشقو! حسینیت کو سمجھو اور تا عمر اس پہ عمل کرو تا کہ روز قیامت حسینؓ کا ساتھ نصیب ہو سکے۔
اللہ پاک مجھے اور آپ کو دین حق کی سر بلندی کیلئے کام کرنے ، اس پر عمل پیرا ہونے اور حق بات کہنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔
آمینnote

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button