بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

65سالہ شہریت مشکوک کیوں۔۔۔؟؟؟

کہتے ہیں کہ جب کوئی جانور بھوکا ہوتا ہے تو وہ اپنے نسل سے تعلق رکھنے والوں کو نوچ نوچ کر کھا لیتا ہے ۔ایسا ہی کچھ ہمارے سماج میں ان بھوکے ،شیطاتین صفت اور راندہ درگاہ باری تعالیٰ کا گروہ انسانیت کے نام پر دھبہ اور اسلام کے نام پر یزیدیت کی مثل موجود ہیں ۔جو مختلف انداز سے اپنے مسلمان بھائیوں کا خون چوسنا بڑا اعزاز سمجھتے ہیں لیکن سب سے زیادہ بد نام ،قابلِ سزا اور بڑے مجرم دہشت گرد سمجھے جا رہے ہیں مگر یہ دہشت گرد اس قدر گمراہ نہیں ،اتنے سفاک نہیں،بڑے ظالم بھی نہیں اور پوری انسانیت کے قاتل بھی نہیں۔۔۔! وہ کیوں ۔۔۔؟ یہ دہشت گرد غیر اسلامی ایجنڈے پر مامور ہیں،بے گناہ انسانوں کو قتل کرتے وقت انہیں کم از کم خوف ذدہ تو نہیں کرتے بلکہ اچانک حملہ آور ہو کر اپنا کام تمام کر لیتے ہیں ۔وہ کسی کی جائیداد ،زیورات،نقدی نہیں ہتھیاتے بلکہ وہ ’’صرف جان‘‘ وہ بھی بغیر اذیت کے لے لیتے ہیں ۔اس کا یہ ہر گز مطلب بھی نہیں کہ دہشت گرد کوئی اچھا کام کرتے ہیں مگر ان کا انداز سفاکانہ نہیں جیسے ہمارے معاشرے میں ایسے بے شمار ناسور موجود ہیں جو ان دہشت گردوں سے بھی کئی گنا بد تر ،ظالم ،سفاک ،قانون کی آڑ میں بے گناہ انسانوں کا خون چوسنا جائیز اور قابل فخر سمجھتے ہیں ۔ان بے غیرتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جو انسانیت پر دھبہ ہی نہیں بلکہ یزیدیت سے بڑھ کر ظالم اور سفاک ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے یہ کون لوگ ہیں۔۔۔؟؟؟ جن پر ہاتھ ڈالنا بھی مشکل اور جو اس قدر بے رحم اور گری ہوئی انسانیت کے حامل ہیں کہ ان سے بچنے کے لئے ان کی جھوٹی عزت کرنا مجبوری اور انہیں ناخدا ماننا بے بسی سے کم نہیں ۔ذرا دل تھام کر پڑھنا ایسا نہ ہو کہ اس قبیل میں کہیں آپ کا نام بھی نہ آتا ہو۔۔۔!! ان سفاک ،ظالم اور انسانیت دشمنوں کی مختصر تعریف تو بیان کر دی گئی ہے مگر کالم کی حدود و قیود کا خیال رکھتے ہوئے آج صرف معاشرہ میں موجود ان دہشت گردوں کو بے نقاب کرنا چاہوں گا جن کے سبب راقم الحروف دہشت گردی کا شکار ہے یقیناًایسے بے شمار مظلوم اور معصوم بھی ان بے حیا اور بد کردار صفت ٹولے کی ذد میں آئے ہونگے اور بے بسی و بے کسی سے آتے رہیں گے ۔ان مظلوموں سے بھی امید ہے کہ وہ اپنے اردگرد جب ایسے دہشت گرد دیکھ پائیں تو وہ سچائی کے ساتھ اپنا دوکھڑا بتا کر راقم کی قلم کو جنبش دیں انشاء اللہ ان حرام خوروں اور انسانیت کے ازلی دشمن دہشت گردوں کو ناصرف بے نقاب کیا جائے گا بلکہ انہیں بھیانک انجام کی جانب پہنچا کر دم لیں گے۔اب داستان قلمکار ملاحظہ ہو۔۔۔۔!!!!!
میرے والد گرامی 1947ء پر جموں کشمیر سے ہجرت کرکے (نام نہاد)آذادکشمیر میں آئے۔انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت معمولی کاروبار سے گذر وبسر شروع کی ۔چونکہ ہمارے خاندان کے بقیہ ہجرت کرنے والوں نے پاکستان میں رہائش اختیار کر لی اس طرح میرے والد گرامی اکیلے محض اس امید اور تادم خواہش کہ ’’کشمیر آذاد ‘‘ ہوتے ہی وہ اپنے آبائی گاؤں واپسی کریں گے انہوں نے ضلع ہٹیاں بالا کے قصبہ چناری میں رہائش کو ترجیج دی۔وہ وقت بہت انسانیت دوست اور نیک سیرت لوگوں کا تھا۔نئے نئے مہاجروں کو سینکڑوں کنال متروکہ اراضی حکومت نے اپنے من پسند اور مخصوص برادریوں میں شیر مادر سمجھ کر بانٹیں ۔ہمارا ایک خاندان ہونے کی وجہ سے اس تقسیم بادشاہی کے فیوض و برکات سے محروم رہا مگر کچھ نہ ملنے کے باوجود صبر و ہمت سے والد محترم نے چناری بازار میں ایک دکان خریدی جس کی پشت پر مکان جو دو کمروں پر مشتمل تھا وہیں ابتدائی چند برس گذارے۔واضح رہے کہ یہ دکان اور مکان بھی دہشت گردوں نے ہتھیا لیا ہے جس کا ذکر آئند کروں گا ۔بعد ازاں والد گرامی نے چناری سے بجانب جنوب مشرق اس وقت اجاڑ ،بیابان اور ٹکی نما چند کنال اراضی کو ہموار کر کے رہائش اختیار کر لی ۔کشمیر آذاد بھی نہ ہوا اور اب ہماری چوتھی نسل یہیں آباد ہے۔اس رقبہ کا نام بھی والد گرامی کے نام پر محکمہ مال کے ریکارڈ میں ’’عزیز آباد‘‘ درج و مشہور ہے۔رقبہ دیکھنے کے لائق ہے ۔ دوران زلزلہ میرے والدین ،بہین اوربہنوئی یہیں داغ مفارقت دے گے ۔اس وقت تحصیل جو اب ضلعی انتظامیہ کہلاتی ہے راقم نے کئی بار درخواستیں دیں کہ جناب مذکورہ رقبہ سلائیڈنگ ایریا میں ہے ہمیں متبادل جگہ دی جائے مگر کسی بد بخت نے ہماری بات نہیں سنی ۔ زلزلہ کے چار سال بعد راقم نے مجبوراً یہاں رہائش اختیار کی اور اب تک مکان اور دیگر رقبہ کو قابل استعمال بنانے پر چالیس لاکھ سے زائد اخراجات کئے گے جن کا موجودہ کرنسی ریٹ کے مطابق دوگنی قیمت ہو چکی ہے ۔حالانکہ کوئی بھی ذی روح زلزلے کے بعد یہاں رہنا اپنی جان کھونے کے مترادف سمجھتا ہے ،غیر زرعی اور ٹکی نما رقبہ میں اس وقت نو خاندان شراکت دار ہیں جن کے مکانات کچھ زیر تعمیر ہیں اور کچھ تعمیر کئے جانے ہیں چونکہ زلزلے میں یہاں سب کچھ تباہ ہو گیا تھا ۔انتہائی مشکل حالات میں دوبارہ یہاں رہائش پذیر ہونا بھی اللہ کا کرم رہا۔حکومت کی جانب سے ہمیں یہی اراضی جس پر ہم 65سال سے آباد ہیں ہمارے زیر استعمال ہے۔یہ واضح رہے کہ پٹواری صاحب اور سروے کے نام پر ہونے والے ڈرامے کی مہربانی شامل حال رہنے سے ز لزلہ کے بعد معاوضہ بھی تین سال بعد ملا ۔جس سے عیاں ہوتا ہے کہ ہمارے اردگرد کس طرح کے سماج دشمن موجود ہیں۔جو قانون کی آڑ میں عوام کو لوٹنا ثواب سمجھتے ہیں۔
گذشتہ تین ماہ قبل ڈی سی ہٹیاں بالا نے یقیناًکسی کی شہ پر مذکورہ رقبہ پر کسی قسم کی تعمیر نہ کرنے کی ہدایت کی۔اس روشنی میں انتظامیہ کا یہ موقف تھا کہ مذکورہ رقبہ خالصہ سرکار ’’انگریز اور سکھ شاہی کا قانون‘‘ہے لہذا یہاں تعمیرات نہیں ہو سکتی۔حیران کن امر یہ ہے کہ 65سال سے آباد شہریوں کو بے دخل کرنا کہاں کا اسلام ،انسانیت اور حکمرانی ہے ۔اس حوالے سے جب وزیر اعظم آذادکشمیر چوہدری عبد المجید کے نوٹس میں ساری صورت حال لائی گئی تو انہوں نے مالکانہ حقوق دئیے جانے کی کارروائی کا حکم صادر کیا جس پر درپردہ مافیا نے لیت و لعل شروع کر رکھی ہے ۔اب آخری بات کر کے کالم کو سمیٹنا ضروری ہے ۔میں ساری اراضی سے دستبردار ہونے کا مجبوراً،بے بسی اور بے کسی کے عالم میں فیصلہ کرتا ہوں ،مجھے لگائی گئی رقم موجودہ کرنسی ریٹ کے مطابق دی جائے ،نیز میری آٹھ دکانات کا معاوضہ دیا جائے اور مجھے ’’چکوٹھی اوڑی کراسنگ پوائنٹ‘‘ سے واپس مقبوضہ کشمیر ہجرت کی اجازت دی جائے ۔کیونکہ جہاں قلم کاروں کی بے توقیری ہو ،محب الوطن کا مذاق اڑایا جائے جس کی 65سالہ شہریت کو چیلنج کیا جائے،جہاں انتظامیہ خود سر ہو ،اپنی مرضی و منشاء کے قواعد و ضوابط مرتب کر کے عوام کا جینا دوبھر کرئے ،جہاں وزیر اعظم کے حکم کو ردی کی ٹوکری میں ڈالنے کے مترادف رویہ رکھا جاتا ہو ،اپوزیشن لیڈر کی قدر نہ ہو،جہاں روپے پیسے کے بل بوتے پر شہریت فروخت ہوتی ہو ایسے نظام ،ایسے سماج اور ایسے ظلم سے کفر کی حکمرانی کو شرعاً ترجیج دینا غلط نہ ہو گا ۔ان ہی حالات پر حضرت علیؓ نے فرمایا ہے کہ کفر کی حکومت چل سکتی ہے ،ظلم کی نہیں جہاں 65سال گذرانے کے باوجود شہریت نہ مل سکے وہاں کا نظام کہاں انسانیت دوست ہو سکتا ہے، اب آئند ہ قسط میں مزید انکشافات کر وں گا ۔سمجھداروں کے لئے اتنا کافی ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں  انسانیت بھی کوئی چیز ہے!

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker