پاکستانتازہ ترین

سیاچن:تودہ گرنےسے پاک فوج کے100جوان برف تلےدب گئے

سکردو،اسلام آباد﴿بیورو چیف﴾ہمالیہ کے متنازع علاقے سیاچن گلیشیئر میں برفانی تودہ گرنے سے پاکستانی فوج کے ایک سو کے قریب جوان برف تلے دب گئے ہیں۔پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے برطانوی نشریاتی ادارے  سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برف تلے دبی فوجی اہلکاروں کی لاشوں کو نکالنے کا عمل شروع ہو گیا ہے تاہم فوجی ترجمان کے مطابق ہلاکتوں اور زندہ بچ جانے والے اہلکاروں کے بارے میں ابھی نہیں بتایا جا سکتا ہے۔ فوج فوجی ترجمان کے مطابق ہفتے کی صبح ایک بٹالین ہیڈ کوارٹر برفانی تودے کی زد میں آ گیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس حادثے کا شکار ہونے والے اہلکاروں کا تعلق نادرن لائٹ انفنٹری سے ہے اور ان میں اکثریت کا تعلق گلگت بلتسان سے ہے۔فوجی ترجمان کے مطابق امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور ان میں ہیلی کاپٹرز اور کھوجی کتوں سے مدد لی جا رہی ہے اور پہلی ترجیح اہلکاروں کی جانوں کو بچانا ہے۔عسکری ذرائع کے مطابق راولپنڈی سے ہیوی مشنری ہیلی کاپڑ کے ذریعے گیاری سیکٹر میں بھیجی جا رہی ہے تاکہ امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا سکے۔ نشریاتی ادارے کے مطابق چند لاشیں نکال لی گئیں ہیں۔ اس کے علاوہ انجینیئرنگ اور میڈیکل شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی امدادی سرگرمیوں میں حصلہ لینے کے لیے روانہ کردیا گیا ہے۔برفانی تودہ گرنے کا واقعہ گلگت بلتسان کے ضلع گھانچے سے ایک سو کلو میٹر کی مسافت پیش آیا۔ پچاس کلومیٹر تک تو سڑک موجود ہے جبکہ اس کے بعد چھوٹے ٹرکوں کے ذریعے سامان کی نقل و حرکت ہوتی ہے علاقے میں خراب موسم کی وجہ سے امدادی کاموں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں علاقے میں گہرے بادل بھی ہیں اور بارش کا بھی امکان موجود ہے۔ خراب موسم کی وجہ سے امدای کارکنوں کو جائے وقوعہ پر اْتارنے کی بجائے کہیں اور جگہ اْتار دیا گیا ہے جہاں سے اْنہیں ٹرکوں اور دیگر آمدو رفت کے ذرائع سے اْنہیں جائے حادثہ پہنچایا جا رہا ہے۔ مقامی صحافی کے مطابق سیاچن کے قریبی سیکٹروں سے بھی فوجیوں کو جائے حادثہ پر پہنچایا جا رہا ہے تاکہ امدای کاموں میں تیزی لائی جا سکے۔۔سیاچن گلیشئر متنازع کشمیر کے علاقے میں پاکستان اور بھارت کی سرحد پر واقع ہے۔سیاچن گلیشیئر کو دنیا کے اونچے ترین جنگ کے میدان سے بھی جانا جاتا ہے۔دو ہزار تین میں پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے بعد جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن ابھی تک دونوں ممالک کے ہزاروں فوجی سیاچن میں تعینات ہیں۔سیاچن میں شدید موسمی حالات کی وجہ سے پہلے بھی فوجی جوانوں کی ہلاکت کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔سیاچن کے تنازع کو حل کرنے کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں تاہم ان میں کوئی فیصلہ کن پیش رفت نہیں ہو سکی ۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے سیاہ چن میں برفانی تودہ گرنے کے واقعہپ ر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے امدادی کارروائیوں میں پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھنے کی ہدایات دے دیں۔وزیر اعظم نے اپنے جاری بیان میں کہا کہ سیاہ چن میں برفانی تودہ گرنے کے اقعہ سے افسروں اور جوانوں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے ۔وزیر اعظم نے واقعہ پر گہری تشویش ظاہرکی اور نوجوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور ہدایات جاری کیں کہ انہیں امدادی کارروائیوں میں پیش رفت سے مسلسل آگاہ رکھا جائے۔۔

یہ بھی پڑھیں  قصور:ریسکیو 1122کاانسداد ڈینگی و آگاہی مہم کا دوبارہ آغاز

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker