تازہ ترینعلاقائی

سیالکوٹ: فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے سیالکوٹ بزنس اینڈ کامرس سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا

سیالکوٹ( سعید پاشا) وفاقی حکومت کی طرف سے کروڑوں روپے کے فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے سیالکوٹ بزنس اینڈ کامرس سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ اس پرشکوہ عمارت کی تعمیر گزشتہ ڈیڑھ سال سے رکی ہوئی ہے۔ اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سیالکوٹ کے صنعتکاروں اور برآمدکنندگان نے وزیراعظم محمد نواز شریف سے مطلوبہ فنڈز کی فوری فراہمی کا پرزور مطالبہ کیا ہے تا کہ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔ سیالکوٹ ایوان صنعت و تجارت اور سمیڈا نے باہمی اشتراک سے اس منصوبہ پر کام شروع کیا تھا۔ سیالکوٹ ایوان صنعت و تجارت سے ملحقہ چار کنال اراضی پر سات سال قبل 2007میں اس بلند و بالا عمارت کی تعمیر شروع کی گئی تاکہ سیالکوٹ کے ایکسپورٹرز اس بلڈنگ میں ایک ہی جگہ پر اپنی برآمدی مصنوعات کی نمائش کر سکیں اور سیالکوٹ میں آنے والے دنیا بھر کے ممالک کے سفیر بھی ان مصنوعات کا معائنہ ایک ہی جگہ پر کر سکیں۔ اس وقت کے وفاقی وزیر صنعت جہانگیر ترین نے10 جولائی2007 کو اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس وقت یہ منصوبہ دو سال کی قلیل مدت میں 2009میں مکمل ہونا تھا۔ تخمینہ لاگت 341.67ملین روپے تھا جسے ایک معاہدہ کے تحت سیالکوٹ ایوان صنعت و تجارت اور حکومت پاکستان نے برابر شیئر کرنا تھا۔ تاہم 2009میں اس منصوبے کی تکمیل ہونے کی بجائے اس وقت کی حکومت پاکستان نے دو سال کی تاخیر سے 2009میں اپنے حصے میں سے فنڈز کی پہلی قسط جاری کی۔ یوں اس منصوبے کا تعمیراتی کام دو سال کی تاخیر سے شروع ہوا۔ جس کی وجہ سے اس منصوبے کی لاگت میں مہنگائی کی وجہ سے بیحد اضافہ ہو گیا۔ یوں متعلقہ ٹھیکیدار یہ تعمیراتی کام ادھورا ہی چھوڑ کر چلا گیا۔ اس سلسلہ میں رابطہ پر صدر سیالکوٹ ایوان صنعت و تجارت ڈاکٹر سرفراز بشیر اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مطلوبہ فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے اب یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا ہے۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے اس بلڈنگ کی تعمیر مسلسل رکی ہوئی ہے۔ جس سے سیالکوٹ بزنس کمیونٹی میں گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس تاخیر کی اور مہنگائی کی وجہ سے اس منصوبے کی لاگت میں بیحد اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیالکوٹ بزنس اینڈ کامرس سینٹر کی آٹھ منزلہ عمارت کا اب ڈھانچہ کھڑا ہو چکا ہے جبکہ اس کی فنشنگ اور فرنشنگ کا سارا کام ابھی باقی ہے۔ جبکہ ٹھیکیدار نے یہ کہہ کر کام جاری رکھنے سے انکار کر دیا تھا کہ وہ اس مہنگائی کے دور میں چار سال پرانے ریٹس پر یہ تعمیراتی کام جاری نہیں رکھ سکتا ۔ ڈاکٹر سرفراز بشیر نے کہا کہ اس منصوبے کا نیا PC-1 بھی تیا ر کروایا گیا ہے جو اب حتمی منظوری کے لئے منسٹری آف پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ میں پڑا ہو ہے۔ وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ چوہدری احسن اقبال اس میں کافی دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب اس منصوبے کہ مکمل کرنے کے لئے190ملین روپے کی ضرورت ہے اور فی الحال سیالکوٹ بزنس کمیونٹی اپنی مدد آپ کے تحت یہ خطیر رقم دینے سے قاصر ہے۔ سمیڈا نے یہاں اپنا سٹاف تعینات کیا تھا اس پراجیکٹ کے لئے اب اس سٹاف کو وزیراعظم کے یوتھ لون پروگرام کے ہیلپ ڈیسک پر ڈیوٹی پر لگا دیا گیا ہے۔ اس سارے سٹاف کو گزشتہ آٹھ ماہ سے تنخواہیں بھی نہیں ملی ہیں۔ سمیڈا کے پاس بھی ان تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے فنڈز نہیں ہیں۔ مقامی ماہرین تعمیرات کا کہنا ہے کہ مذکورہ عمارت کے اس ادھورے چھوڑے گئے آٹھ منزلہ ڈھانچہ کو شدید موسمی اثرات سے شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ سیالکوٹ بزنس کمیونٹی نے حکومت اور سمیڈا سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس منصوبہ کو مکمل کرنے کے لئے190ملین روپے کے فنڈز فوری جاری کئے جائیں وگرنہ اس عمارت کی تعمیر پر خرچ کئے گئے کروڑوں روپے ضائع ہو جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button