تازہ ترینعلاقائی

تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے واٹر سپلائی کے شعبہ میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف

sialkotسیالکوٹ (سعید پاشا)سیالکوٹ کی تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے واٹر سپلائی کے شعبہ میں کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے جس کے بارے تفصیلی رپورٹ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے واٹر ریٹ انسپکٹر اور سپریٹنڈنٹ فنانس نے جاری کردی ہے۔رپورٹ کے مطابق سیالکوٹ میں سرکاری پانی کے ہزاروں کنکشن ایسے ہیں جن سے عرصہ دراز سے سالانہ واجبات وصول نہیں کئے گئے جبکہ مضر صحت اورغیر معیاری پانی کی وجہ سے ہزاروں شہریوں نے سرکاری پانی کے کنکشن ازخودمنقطع کرکے گھروں، فیکٹریوں اور دفاتر میں متبادل پانی کیلئے ٹربائن لگوالی ہیں۔جبکہ بقایات کی وصولی کیلئے تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کی طرف سے کئی سال گزر جانے کے باوجود باقاعدہ مہم شروع ہی نہیں کی گئی اور نہ ہی نادہندگان کے خلاف کاروائی کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔جبکہ آڈیٹر جنرل پاکستان نے بھی اپنی رپورٹ میں سال2010اور2011ء میں تین کروڑ ستر لاکھ نوے ہزار روپے کے واجبات سرکاری خزانے میں جمع نہ ہونے کی رپورٹ جاری کی گئی۔ ذرائع کے مطابق یہ رقم مبینہ طور پر ملی بھگت سے ہڑپ کرلی گئی جبکہ سال2012اورسال 2013ء میں واٹرسپلائی کے شعبہ کے نادہندگان کی تعداد میں مزید اضافہ ہوچکا ہے۔جبکہ واجبات کی آج تک وصولی نہ کی جاسکی ہے۔ ذرائع کے مطابق ہزاروں بند واٹر کنکشن کے نادہندگان کے ذمہ کروڑوں روپے کے بقایاجات ریکارڈ میں بدستور موجود ہیں ا ور ہرسال سر چارج کی صورت میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن موقع پر ٹی ایم اے کے عملہ کی ملی بھگت کی وجہ سے اب کنکشن ہی موجود نہیں رہے۔اس لیے مذکورہ پانی کے کنکشن کے واجبات وصول نہیں کیے جا سکتے جبکہ ٹی ایم اے کی طرف سے نادہندگان کو پانی کے بل بھجوائے جاتے ہیں لیکن وصولی کیلئے اہلکار نادہندگان کے پاس نہیں جاتے۔ذرائع کے مطابق واٹر سپلائی کے شعبہ کی کرپشن کی وجہ سے نادہندگان کے ذمہ دس کروڑ روپے کے واجبات پھنس چکے ہیں جن کی وصولی نہ ہوسکی ہے۔شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب میاں محمد شہبازشریف سے معاملہ کا نوٹس لے کر اس کرپشن میں ملوث ٹی ایم اے کے افسران اور عملہ کے خلاف کاروائی اور نادہندگان کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button