تازہ ترینکالم

سیاسی مسکان

naveed kazmiجنرل راحیل شریف صاحب کے قبل ازوقت ملازمت میں توسیع نہ لینے کے بیان نے سیاسی حلقے میں کافی خوشی کی لہر دوڑا دی ہے جس کا منہ بولتا ثبوت انکے چہروں سے چلکتی مسکراہٹیں ہیں جب میڈیا نے انسے اس بیان کے بارے اپنے خیالات کے اظہار کے لئے درخواست کی تو انسے اپنی خوشی چپائی ہی نہ گئی اور کوئی ایسی پارٹی نہیں جس نے اپنی خوشی چپانے کی کوشش کی ہو۔

سب سے زیادہ خوشی کی لہر جن دو پارٹیوں کی صفوں میں پائی جا رہی ہے وہ ہیں پاکستان پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر مجال ہے جو انہوں نے یہ بات اپنی سیاسی اداکاری سے ایاں ہونے دی ہو اور اس بیان کو ایسے اشیرباد دیتے نظر آئے جیسے جنرل راحیل سے زیادہ عزیر انہے کوئی تھا ہی نہیں جبکہ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ جنرل صاحب کی پالیسیز سے انہی پارٹیز کو اپنی بقاء تک کا خطرہ پاڑا ہوا ہے اور انکی سیاسی ساکھ کو لاتلافی تقصان بھی ہوا ہے ۔
اور ہو نہ ہو انہوں نے شکرانے کے نوافل ادا کیے ہوں گے کہ شکر ہے توسیع نہیں لے رہے آرمی چیف کیونکہ اگر توسیع ہو جاتی تو اتنا لمبے دورانیے میں انکے حالات مزید دگرگوں ہوجاتے اور سیاسی حیثیت میں یقیناًمذید زوال ہی کی توقع کی جاسکتی تھی کیونکہ آرمی چیف نے نیشنل ایکش پلان اور احتساب کا بازار گرم کیا ہوا تھا اس نے ان پارٹیز کے ممبران کی نیندیں حرام کی ہوئی تھیں کب کس کی باری آجائے اسی خوف میں انکے شب و روز کٹ رہے تھے ۔ پر جنرل صاحب کے بیان نے انکے پریشانی کو ایک حوصلہ سا دے دیا ہے کہ تھوڑا ہی وقت رہ گیا ہے مشکل دن ختم ہونے ہی والے ہیں شائد۔

یہ بھی پڑھیں  اوکا ڑہ کا اجلاس ،تمام ورکنگ جرنلسٹس کو پریس کلب کی ممبر شپ دینے کااعلان

مسلم لیگ ن نے پرمسرت انداز میں فیصلے کا خیر مقدم تو کیا ہے پر یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ سب سے زیادہ حکومتی پارٹی ہی آرمی چیف کے دباؤکا شکار ہے اور آرمی چیف کے چلے جانے سے سکون کی ایک لہر حکومتی پارٹی کی صفوں میں ابھی سے دوڑتی محسوس ہونے لگی ہے۔ رانا مشہود صاحب کے گرد جو دائرہ تنگ ہو رہا تھا وہ ابھی سے ہی ڈھیلا پڑتا دکھائی دینے لگاہوگا۔ باقی جو کرپشن کیسز کھل رہے تھے انکے خوف میں ابھی سے ہی کمی آنا شروع ہو گئی ہے شائد۔

یہ بھی پڑھیں  نیب نے نواز شریف کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ منسوخ کرنے کی سفارش کر دی

اسکے مقابل سابقہ آرمی آفیسرز جن میں صف اول میں جنرل مشرف صاحب اداس اور افسردہ دکھائی دے رہے ہیں انہوں نے تو واضع الفاظ میں اس بات کا اظہار بھی کردیا کہ آرمی چیف کو توسیع لے لینی چائیے تھی تاکہ روایت برقرار رہ جاتی اور جو کام آرمی چیف نے شروع کیئے ہوئے ہیں انہے بھی پایہ تکمیل تک اپنے ہاتھوں سے لگادیتے اور تسلسل قائم رہتا کام جس تیزی سے چل رہے ہیں ان میں کسی طرح سے کوئی کمی واقعہ نہ ہوتی کیونکہ یہ سب اہداف بقائے مملکت کے لئے خوشائیند ہیں اس طرح کے ہی ملے جلے جذبات کا اظہار باقیوں کی طرف سے بھی دکھنے میں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  پارلیمانی نظام میں وزیر اعظم کی جگہ کوئی اور نہیں لے سکتا: چودھری نثار

آرمی چیف نے واقع میں ایک بہت بڑا اور دلیرانہ فیصلہ کیا جب سب کی نظریں ان پر جمی ہوئی ہیں انہوں نے یہ اعلان کر کہ اپنے ادارے پر اعتماد کا ثبوت دیا ہے کہ وہ ہوں نہ ہوں انکا ادارہ تمام اعداف کو بخوبی پورا کر لیگا۔ یہ الگ بات ہے عام آدمی تھوڑا سا مایوس نظر آرہا ہے کیونکہ انہیں جنرل راحیل شریف کی قائدانہ صلاحیتوں پر پورا یقین ہے اور آنے والا چیف انکے نقشے قدم پر چل پائیں گے یا جنرل کیانی کی طرح سست پالیسز اپنائیں گے جن کا ملک اور قوم کو ناتلافی نقصان ہوا یہ سوچیے عام آدمی کو ابھی سے بیچان کیئے ہوئے ہیں۔ زیادہ اکثریت میں عام آدمی چاہتا ہے کہ جنرل صاحب کو توسیع مل جانی چایئے چاہے وہ خود لیں یہ انہے اسکے لیے مجبور کیا جائے تاکہ جو قدم اچھائی کی طرف اٹھ رہے ہیں وہ اسی تسلسل کے ساتھ جاری و ساری رہے۔پر یہ توسیع سیاسی مسکان کو واپس اداسی میں نہ بدل دے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker