تازہ ترینعلاقائی

سازش کے تحت بلوچستان پشتونستان سمیت اساتذہ کرام کو آپس میں لڑانے کی سازش کی جارہی ہے، عبدالغفارکدیزئی

سبی(نمائندہ خصوصی) سینئر ایجوکیشنل ایسوسی ایشن ( سیسا) بلوچستان کے صدر عبدالغفارکدیزئی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سازش کے تحت بلوچستان پشتونستان سمیت اساتذہ کرام کو آپس میں لڑانے کی سازش کی جارہی ہیں صوبے بھر میں انتظامی آفیسران کی 800آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں جس صوبے کو سیکرٹری تعلیم وزیرتعلیم سے اجازت لے کر واش روم جائے اس صوبے کا تعلیم نظام تباہی سے دوچار ہوتا ہے اساتذہ کرام کے حقوق کیلئے حصول کیلئے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی سیسا کی رکنیت سازی کے بعد ضلعی ڈویژنل اورصوبائی انتخابات کرائیں گے اساتذہ کرام اپنے حقوق کے حصول کیلئے سیسا کے پلیٹ فارم پر متحد ومنظم ہوجائیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنمنٹ گرلز ماڈل ہائی اسکول سبی میں 30نکاتی ڈیمانڈنوٹس پر عملددآمد نہ ہونے کے خلاف احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا انہوں نے کہا کہ سینئر ایجوکیشنل ایسوسی ایشن (سیسا) گزشتہ 30سالوں سے اپنے حقوق کی جنگ لڑرہی ہے چندسال فعال نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے درمیاں جو دوری پائی جاتی ہے اب اس کو ختم کرنے کی ضرورت ہیں ہمیں متحدومنظم ہوکر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تعلیمی نظام کی تباہی اور بربادی سیاسی مداخلت کے باعث ہے کریشن نے ہمیں تباہ وبرباد کردیا ہے محکمہ تعلیم کے اصل وارث ہم ہیں ہمیں کرپش سے دور رہنا چاہیے اپنے حق اور حقوق کی بات کرکے ایمانداری سے بات کریں تو ہمارے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی ہیڈ ماسٹر سے لے کر انتظامی آفسیران کی بلوچستان میں 12سو آسامیان ہے جن میں صرف 4سو پر انتظامی آفیسران اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور 8سو آسامیاں خالی پڑی ہوئی ہیں خالی آسامیوں کو پر کرنے کی ضرورت ہیں خالی آسامیوں پر سیاسی مداخلت اوررشوت لے کر بھرتی کیا جارہا ہے جس کی سیسا مذمت کرتی ہیں 40سالوں سے بلوچستان کا کوئی وارث نہیں اپنے مفادات کیلئے ہمیں تقسیم کرنے کی سازش رچائی جارہی ہیں بلوچستان میں بدقسمتی سے سرکاری اسکولوں میں غریبوں کے بچے زیر تعلیم ہیں سیاسی مداخلت کے باعث ان کا مستقبل بھی خراب کیا جارہا ہے بلوچستان میں درجنوں محنتی اساتذہ او ایس ڈی بن کر خدمات سرانجام دے رہے ہیں اپنے ساتھیوں کے حقوق کیلئے ہر فورم پرجدوجہد کریں گے انہو ں نے کہا کہ کرپٹ آفیسرکی سیسا میں کوئی ضرورت نہیں کرپشن میں ملوث عناصر کی رکنیت معطل کردی جائے گی ممبرسازی کا عمل شروع کردیا گیا ہے ممبر سازی کے مکمل ہوتے ہی ضلعی ڈویژنل اور صوبائی سلح پر انتخابات کرنے کا اعلان کیا جائے گا صوبائی صدر عبدالغفار کدیزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اپنے جائز مطالبات کیلئے جلد ہی اسمبلی کے سامنے احتجاجی دھرنے دیں گے کلاسوں کے بائیکاٹ سمیت احتجاج کا سلسلہ جاری کیا جائے گا میڈیا ہمارے ساتھ تعاون کرے ہمارے مسائل کو اجاگر کرے تاکہ اسکولوں کے ساتھ ساتھ انتظامی آفیسران کے مسائل کا ازالہ ہوسکے قبل ازین صوبائی قائدین کا ناڑی پل پر شاندار استقبال کیا گیا جلوس کی شکل میں گورنمنٹ گرلز ماڈل ہوئی اسکول سبی میں لایا گیا 30نکاتی ڈیمانڈ نوٹس پر عملدرآمد نہ ہونے پر احتجاجی جلسہ میں حافظ اسد الحق، عبدالرشید ، محمد اختر، عبدالزارق ، امان اللہ ،راحت حمید ، بیگ محمد رئیسانی ، سید انور شاہ ، محمدیعقوب لاشاری ، جاوید سلطان ،قدرت اللہ ، محمد آصف، محمد اکرم ، سیدا ورنگ شاہ ، سلمی عطاء، نفرت اقبال، مس نسیم طارق، حور بی بی سمیت سیساکے عہدیداران وسبی کچھی کے ہیڈ ماسٹرز و انتظامی امور پر خدمات سرانجام دینے والے مرد خواتین اساتذہ کرام کی بڑی تعداد موجود تھی جلسہ عام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کی سعادت ثمینہ احمد نعت رسول مقبول ﷺ فاظمہ اور عبدالروف چشتی نے خوب صورت انداز سے پڑھی جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض لیاقت علی لغاری نے سرانجام دئیے جلسہ عام سے سیسا کے صوبائی وائس چےئرمین محمد حنیف بنگلزئی ، ضلعی صدر محمد انور لاشاری ، جنرل سیکرٹری سید عنایت شاہ ، ڈویژنل صدر نور احمد ، سرپرست اعلیٰ محمد حسن سیلاچی نے خطاب کرتے ہوئے سیسا کی کارکردگی کے حوالے سے تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے صوبائی قائدین کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی جلسہ عام سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں سیاسی مداخلت کے باعث سرکاری اسکولوں میں تعلیمی نظام تباہی کا شکار ہے جونیئر اساتذہ کو سینئر پر ترجیح دی جاتی ہیں میرٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے جس کے باعث انتظامی امور درست انداز میں نہ ہونے سے اسکولوں میں تعلیم کا نظام متاثر ہورہا ہے سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کرام کے بچے بھی پرائیوٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں سیاسی مداخلت سے اہل اساتذہ کرام کا حق مارا جاتا ہے پروموشن نہ ہونے سے انتظامی آفیسران مسائل مشکلات کا شکار ہے اہل اور ذمہ دار اساتذہ کرم کے ہوتے ہوئے دیگر علاقوں سے انتظامی آفیسران کو لایا جاتا ہے مقررین نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی مداخلت بند کی جائے میرٹ پر انتظامی آفیسران کو لگایا جائے پروموشن کیسز جلداجلد نمٹایا جائے بورڈ آفس کی سبی میں برانچ کھلی جائے اسکولوں کی آپ گریڈیشن ، پولی ٹیکنیکل کالج اور چاکر اعظم یونیورسٹی کو جلد ازجلد فعال بنایا جائے بعدازان صوبائی و سبی کچھی کے عہدیداروں ممبر نے اپنے حقوق کے حصول ڈیمانڈنوٹس پر عملددآمد کے حصول کیلئے سبی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا جس کی قیادت صوبائی صدر عبدالغفار کدیزئی نے کی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!