شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / سندھ میں موت کی وادی اورعمران خان

سندھ میں موت کی وادی اورعمران خان

پیپلز پارٹی پنجاب کے سیکرٹری جنرل چوہدری منظور نے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں کی لیبارٹری فیسوں میں اضافہ کو کو شرمناک قرار دیااور کہاسندھ میں دل اور گردوں کا علاج مفت ہوتا ہے وزیر اعظم عمران خان قوم کو بھوک اور بیماری سے مارنا چاہتے ہیں،چوہدری منظور کے اس بیان سے قبل عمران خان کا دورہ تھرپارکر طے ہو چکا تھا،عمران خان کے دورہ تھرپارکرپر مشیر اطلاعات سندھ وہاب ریاض نے کہاتھر میں وزیر اعظم کے لئے تلاش گمشدہ کے اشتہار لگے ہیں یہ کیسی حکومت ہے جس کے پاس عوامی مسائل حل کرنے کا وقت ہی نہیں عمران خان کو 7ماہ بعد تھر کے عوام کا احساس ہوا ہے سندھ کے عوام وفاقی حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں ،عمران خان کو مہنگائی بم گرانے پر انعام دینا چاہئے،جبکہ عمران خان نے سندھ کے انتہائی جنوب میں بھارتی سرحدسے متصل ضلع تھرپارکر کی تحصیل چھاچھرو میں صحت کارڈز کی تقسیم کے حوالے سے منعقدہ جلسہ عام میں کہا 8ویں ترمیم کے بعدتقریباً تمام اختیارات صوبوں کے پاس چلے گئے ہیں مگر ہم غریب عوام کو نہیں بھولے الیکشن کے بعد پاکستان میں میرا یہ پہلا جلسہ ہے جس کی بنیادی وجہ کہ تھرپاکر پاکستان کا سب سے پسماندہ علاقہ اور بہت پیچھے رہ چکا ہییہاں کے75فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذار رہے ہیں،7لاکھ 10ہزار صحت کارڈز کی وجہ سے یہ گھرانے 7لاکھ20ہزارروپے تک کا علاج مفت کروا سکیں گے یہ کارڈز بتدریج پورے تھر میں دئیے جائیں گے عمران خان نے دو موبائل ہسپتال ،4ایمبولینسز اور100آر او پلانٹ کے علاوہ اس علاقہ کو سولر بجلی فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہم نے پاکستان مین سیاست دیکھی تو کوئی پشتونوں کے نام پرملک کو بانٹتا ،کوئی بلوچ کے نام پر اقتدار میں،کوئی جاگ پنجابی جاگ کا نعرہ لگاتا اور کوئی سندھ کارڈز کا استعمال کرتا نظر آیا،تھرپارکر میر پور خاص ڈویژن کا ایک ضلع جس کا تقریباً20ہزار مربع کلومیٹر صحرائی علاقہ ہے جو کوئلے اور ماربل سمیت دیگر معدنیات کی دولت سے مالا مال ہے،اس ضلع میں مجموعی طور پر مسلمانوں کی اکثریت مگر تحصیل مٹحی میں مسلمان اقلیت میں ہیں جہاں زیادہ تر ہندو برادری آباد ہے،تھرپاکر میں گذشتہ کئی سالوں سے بھوک ،غربت ،بیماری اور ننگ افلاس نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں یہاں کے باسی اب تک اپنے ہزاروں معصوم بچوں کو اپنے ہاتھوں مٹی تلے دبا چکے ہیں سال2018میں6سو سے زائد غذائی قلت اور ناکافی صھت کی سہولیات کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ماہ فروری میں50بچے اس دنیا میں نہ رہ سکے،سندھ میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت طویل عرصہ سے ایوان اقتدار میں ہے قومی اور انٹرنیشنل میڈیا پر بچوں کی اموات رپورٹ ہونے کے باوجود کوئی اس خطہ میں رہنے والوں کے ہر روز ہونے والے ماتم کا مداوا نہ کر سکا،10برسوں میں سندھ میں5300ارب روپے خرچ ہوئے جن میں ترقیاتی بجٹ15سو ارب تھا مگر وہ سب کہاں کیا ؟کون ہیں وہ جنہیں طبی سہولیات مہیا کی گئیں؟کونسا علاقہ ہے جہاں لوگوں کی زندگی بہتر بنانے میں ترقیاتی کام ہوئے؟اموات ہوتی رہیں،سندھ سے پیار کے نعرے لگتے رہے،پاکستان میں موت کی وادی میں موت کا رقص جاری رہا،روزانہ جنازے اٹھا اٹھا کر لوگوں کے کاندھے شل ہو گئے،مگر بے حسی کی انتہا اپنی حدوں کو چھوتی رہی ،نہ صوبے نے کچھ کیا نہ وفاق آگے بڑھا جیسے یہاں کے رہنے والے پاکستانی ہیں ہی نہیں یہ کسی اور سیارے کی مخلوق ہیں،نہ صحت کی سہولت،نہ تعلیم کی سہولت ،نہ نقل و حمل کے لئے ٹرانسپورٹ کی سہولت،ہر طرف دھول اڑاتے کچے راستے،نہ پانی نہ بجلی،نہ کھانے کو کچھ نہ پینے کو کچھ،سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے ایک بار تھرپارکر کا دورہ کیا تو شاندار ضیافتوں کے دوران بھی وہ نیند پوری کرتے نظر آئے،سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بھی نازک حالات کے پیش نظر تھرپاکر گئے مگر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ان کے ہمراہ تھے دورے کا علم تھا اس لئے رنگ و روغن،مٹھی کے ہسپتال میں عارضی مریض لٹا دئیے گئے، اس دورے کا بھی تھرپارکر کو کچھ فائدہ نہ ہوا در حقیقت ثاقب نثارکے دورے کا مقصدمراد علی شاہ نے کھوہ کھاتے ڈال دیا ،پیر مراد علی شاہ کو شاید اسی لئے آگے لایا گیا تھا کہ ابھی ان میں بڑی پھرتی ہے اور وہ اسی پھرتی سے کرپشن کی پرواز کو فضاؤں میں ٹھیک طرح برقرا رکھ سکیں،انہوں نے سندھ کے خزانے کی تباہی و بربادی میں شاندار کردار ادا کیا،ملکی دولت لوٹنے والوں کی براہ راست مدد کی ،گنے،ٹریکٹر،اور گندم کی مد میں اقربا پروری کی بنیاد پر سبسڈی دی،مختلف یونٹس کو دیوالیہ کو دیوالیہ اور بحران زدہ قرار دلوا کر قومی خزانے کو بری طرح لوٹا،اسی وجہ سے ناجائز اثاثوں اور جعلی اکاؤنٹس کی وجہ سے اب انکوائریوں میں پھنسے ہوئے ہیں ایسے ایسے حکمران پاکستانی قوم کی قسمت میں آئے ہیں جن سے تعفن زدہ بھکاری ہی شاید بہتر کردار کا ہو،سابق وزیر اعظم نواز شریف کے علاج معالجے کے کیا کچھ نہیں ہو رہا،یہاں سوال ذہن میں کلبلاتا ہے کہ کیا کسی بڑے آدمی کا ایک بچہ غذا کی قلت یا علاج میں کمی یا کوتاہی کے سبب اگلے جہاں سدھار جاتا تو کیا پھر کیا ہوتا ،اول تو ایسا ممکن ہی نہیں اگر ایک لمحے کے لئے تصور بھی کرلیا جائے تو کیا عالم ہوتا؟اس بات کا سوال قوم دے یا سوچے،سابق وفاقی حکومت نے بھی صوبائی حکومت کی طرح سندھ میں اموات پر مجرمانہ بلکہ مجرمانہ غٖفلت کابدترین مظاہرہ کیا ،عمران خان کو بہت تاخیر سے تھرپاکر کا دورہ یاد آیا جن کے گھروں میں روزانہ کی بنیاد پر ماتم ہو وہاں سات ماہ تو سات گھنٹے کی تاخیر کا بھی کسی مہذب تہذیب میں تصور نہیں کیا جا سکتا،عمران خان کے دور حکومت میں تھرپارکر میں جو اموات ہوئیں اس میں وفاق برابر کا ذمہ دار ہے،چلو پھر بھی دیر آئے درست آئے مگر ان لخت جگروں کو کیسے واپس لایا جائے ؟ان ماؤں کی خالی ہونے والی گود کے دکھ کو کیسے سمجھا جائے سفاکیت اور وہ بھی اس حد تک ،جیسے ذمہ داران انسان نہیں انسانی گوشت کھانے والے درندے ہیں جنہیں سکون ہی گودوں کے اجڑنے سے آتا ہے،ان بچوں کی ماؤں کی کیا سوچ ہو گی ،مرنے والے بچوں کے والد کیا سوچتے ہوں گے،معصوم پھولوں کے بھائی بہن کیسے آنسو بہاتے ہوں گے، پیپلز پارٹی کے نئے قائد بلاول بھٹو زرداری نے اپنی تقریروں میں مخالفین کو بہت لتاڑا اور سندھ کو جنت نظیر بنانے کے بڑے دعوے کئے انہیں اندھیرے میں رکھا گیا یا وہ بھی روایتی رنگ میں رنگ چکے ہیں،وزیر اعلیٰ سندھ کو تو سوائے رقم بنانے کے شاید کوئی اور کام ہی نہیں،کاش وزیر اعظم عمران خان کے اس دورہ تھرپاکر میں ہی وہاں کچھ بہتری آ جائے مگر شاید کچھ گدھ اس خواب کو بھی شرمندہ تعبیر نہ کر دیں،ایٹمی طاقت اور خاص طور پر ایک مسلمان ریاست میں بھوک اور قحط اور ناکافی طبی سہولیات کی بدولت اموات در اموات ذمہ داران کے چہروں پرکسی لعنت سے کم نہیں،یہاں جمہوریت خطرے میں ہے پر سبھی سیاستدانوں کو بہت فکر ہے فکر نہیں ہے توانسانوں کی حالانکہ دین اسلام میں انسانیت کی پاسداری ہی پہلی چیز ہے اس عظیم دین میں تو جانوروں سے بھی ایسے سلوک کی ممانعت ہے،اللہ کرے تھرپاکر میں قائم کئی دہائیوں سے قائم اس موت کی وادی کو اب ہی کوئی ختم کر دے،عمران خان کی جانب سے دورہ تھرپارکر اور اسے پاکستان کا سب سے زیادہ پسماندہ علاقہ کہنے پر پیپلز پارٹی بہت سیخ پا ہے ،سیاسی معامالات اپنی جگہ پر مگر سینکڑوں بچوں کی اموات پر بجائے شرم کرنے کے شرمناک بیان بازی سے بھی عوامی ہمدردی کی عکاسی ہوتی ہے ان کی سوچ پر شک تو پہلے بھی نہیں ہے مگر شیری رحمان نے مدح سرائی میں تمام حدیں پھلانگ دیں انہیں وہاں ہونے واموات یاد نہیں رہیں مگر عمران خان کی طرف سے تھرپارکر کو پسماندہ علاقہ کہنے پر بہت دکھ ہوا،شاید مقدس پارلیمنٹ زیادہ تر کرداروں کے لئے تحفظ،سہولیات،اور اختیارات و کرپشن کا نام ہے انہیں کچھ غرض نہیں کہ عوام کے ساتھ کیا ہو رہا ہے جو کئی دہائیوں سے ویسی کی ویسی ہیں جو کئی دہائیوں سے جیسے تھے ویسے ہی ہیں، 

یہ بھی پڑھیں  بنا ت المسلمین گلوبل کا فرانس میں موجود مہا جرین اور پناہ گزینوں کی دو خیمہ بستیوں کا تفصیلی دورہ