تازہ ترینصابرمغلکالم

سندہ میں معماران قوم پر بدترین تشددپھرمطالبات کی منظوری

مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں لاہور میں مطالبات کے حق میں مظاہرہ کرنے پر نابینا افراد کو بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا،نئی حکومت کے آنے کے بعد واقعہ ساہیوال سمیت چند ایسے واقعات ہوئے جو ماضی میں حکمرانوں کا طرہ امتیاز تھا اس پر بہت سیاست کی گئی واقعہ ساہیوال کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے مگر انہیں ایسی کوئی بات کہنا زیب نہیں دیتا جن کے دور میں دن دیہاڑے میڈیا کی لائیو کوریج کی پرواہ کئے بغیرماڈل ٹاؤن لاہور میں ریاستی طاقت کے تحت بے گناہ مرد وخواتین کو خون سے نہلا دیا گیا ہو، شرمناک حد تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہو،جن کے دور میں کراچی میں 260سے زائد افراد زندہ آگ میں جل کر کوئلہ بن گئےُ ہوں(سانحہ بلدیہ ٹاؤن)،پی ٹی آئی کی حکومت آنے سے قبل ہی پانامہ لیکس اور جعلی اکاؤنٹس،ماڈل گرل ایان علی کے ذریعے منی لانڈرنگ جیسے کرپشن کیس منظر عام پر آگئے تھے اس حوالے سے موجودہ حکومت ابھی تک سوائے بڑھکیں مارنے اورکسی بھی کیس میں اشرافیہ کے ملوث ہونے پر اپنی صفائی دینے کے قومی خزانہ کی تباہی و بربادی کرنے والوں کے خلاف کچھ بھی کرنے میں بری ناکام اور قاصر ہے ،سابق صدر آصف علی زرداری پر اس احتسابی عمل میں گھیرا تنگ ہوا توبلاول بھٹو زرداری کا پہلے وہ بیانیہ سامنے آیا جسے انڈین میڈیا نے یوں بتایا۔بلاول بھٹو نے عمران خان کی حکومت کا بھانڈاز پھوڑ دیا جو ہمارا مؤقف تھا وہی بلاول کا بھی ہے، اس کے بعد ٹرین مارچ کا آغاز ہو گیا ٹرین مارچ میں وہ جگہ جگہ اپنے صوبے کے ننگ دھڑنگ ،غربت ،مفلسی اور صرف اسی ماہ تھراپارکر میں غذائی قلت کے باعث300کے قریب بچوں کی ہلاکت کو فراموش کرتے ہوئے وفاق ،اسٹیبلشمنٹ اور نیب پر گرجتے برستے رہے ،ٹرین مارچ کی کچھ کسر کرائے پر جانے والی غریب اور ذلت کی ماری عورتوں کا انٹرویو کرتے ہوئے بھانڈا پھوڑ دیا جنہیں2ہزار روپے دینے کا لالچ دے کر ٹرین کی زینت بنایا گیا تھا مگر جہاں ڈھٹائی اور سچائی کو ہم پلہ قرار دیا جا رہا ہو وہاں ایسی باتیں خود بخود ہوا کی طرح تحلیل ہو جاتی ہیں، خیر ہمارے سیاستدان کچھ بھی کریں انہیں آزادی حاصل ہے انہیں کچھ کہا جائے یا ان پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی جائے تو ملک جمہوریت خطرے کا شکار ہو جاتی ہے ،پارلیمنٹ کا تقدس مجروع ہو جاتا ہے،پل پل رنگ بدلنے والے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ جن کی فرینڈلی اپوزیشن کی وجہ سے حکومت نے من مرضی کی وہ بطور اپوزیشن لیڈر اپنے حلف نامے کو بھی ردی کی ٹوکری میں پھینک گئے بھی آج کل مولانا فضل الرحمان کی طرح بہت سیخ پا ہیں، بلاول بھٹو زرداری کا ٹرین مارچ ختم ہوا تو سندھ کے اساتذہ نے کراچی شہر میں احتجاج کے دوران ریڈ زون کا رخ کر لیا نہ جانے کیوں پڑھے لکھے معماران قوم کو بھی ابھی تک اندازہ نہیں ہوا کہ ریڈ زون میں رہنے والی مخلوق کا ہم جیسوں سے کوئی تعلق نہیں وہ دنیا کی اعلیٰ و ارفع مخلوق اور باقی سبھی گندی نالی کے کیڑے مکوڑے ہیں جن سے ان کی ہمدردی صرف تقاریر تک محدود ہے،نیوزی لینڈ میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی پر جس طرح وزیر اعظم سینڈا آرڈن نے لپٹ لپٹ کر رو رو کر انسانیت کا مظاہرہ کیا پاکستان میں تو اس بات کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا کبھی اگر کوئی ایسی تصویر میڈیا کی زینت بنے کہ ہمارا کوئی وزیر اعظم،صدر،گورنر،وزراء اعلیٰ کسی عام آدمی کو گلے لگا رہے ہیں تو اسے عام ماحول نمت خیال کریں وہ سب کچھ بھی بہت ڈرامائی ہوتا ہے تصویر میں جس سے گلے ملا جاتا ہے وہ سکیورٹی کے شدید ترین حصار کے بعد ہی اس سعادت کو حاصل کر پاتا ہے بلکہ ذاتی نمود و نمائش اور ہمدردی کا منبع بننے کا ڈرامہ پہلے سے تخلیق شدہ ہوتا ہے،لاٹھی چارج سے خون میں لت پت ،سڑکوں پر گرے اور پھر پولیس گاڑیوں میں جانوروں کی طرح تھانے لے جانے والوں کا قصور کیا تھا؟وہ نا اہل تھے تو انہیں بھرتی کن نا اہلوں نے کیا؟وہ کسی سیاسی شخصیت کی سفارش پر ٹیچربنے تو وہ سیاسی شخصیات کون سی ہیں؟سندھ میں کتنے عرصہ سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے؟ن کا جو بھی مطالبہ تھا کیا ان سے بات چیت ممکن نہیں تھی؟ اس ریاست میں تب تک اپنا حق نصیب ہی نہیں ہوتا جب تک ایسے باہر نہ نکلا جائے ،لاٹھیاں نہ کھائی جائیں ،ریاستی مشینری کے ہاتھوں درگت نہ بنوائی جائے،احتجاج کی وجہ سے عام عوام ذلیل نہ ہو،کبھی ہسپتال بند،کبھی روڈ بند،بہت عجب مذاق اور عجب تماشہ ہے جو اس ملک کے پالیسی سازوں کی بدولت ہے،ڈاکٹرز،وکلاء،واپڈا سمیت دیگر محکموں کے اہلکار تو اپنے مطالبات احتجاج کے ذریعے منوا بھی سکتے ہیں مگر اساتذہ ،ان کی یہ مجال ایسا کہاں لکھا ہے؟اساتذہ کو کبھی جرات نہیں ہو کہ وہ کسی احتجاجی تحریک میں تعلیمی اداروں کو بند کر سکیں،کراچی میں پریس کلب کے باہر احتجاج اور پھر ریڈ زون جانے کی کوشش پر معماران قوم کے ساتھ جو ذلت آمیز سلوک ہوا وہ ہم پر مسلط اشرافیہ کی سوچ کی عکاسی ہے دنیا کی کسی بھی مہذب تہذیب میں استاد کے ساتھ ایسے شرمناک سلوک کا تصور تک نہیں ہے اور ہم جس دین کے پیرو کار ہیں وہاں تو درس دینے والے (استاد)کی قدر و منزلت اس حد تک بلند ہے جس کا کوئی اور ثانی نہیں ،جس ریاست میں ایک استاد پر ڈنڈوں کی برسات ہو وہاں کسی اور بہتری یا اخلاقیات کی توقع کرنا ہی نابینا پن ہے،تشدد کے شکار اساتذہ کی گرفتای عمل میں آنے کے کئی گھنٹے بعدبیان سامنے آیا کہ گرفتار اساتذہ کو بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر چھوڑ دیا گیا ہے،وزیر اعلیٰ سندھ کہاں تھے ؟ایسے احکامات مراد علی شاہ کو دینے تھے یا براہ راست بلاول کو؟ مانتے ہیں کہ یہاں سیاسی جماعتوں سے منسلک مراد علی شاہ جیسوں کی اپنی کوئی سوچ نہیں ہوتی نہ وہ کوئی اختیار رکھتے ہیں،نہ ان کی مرضی چلتی ہے ان کا کام بطور کٹھ پتلی عہدے پر براجمان ہونا ہے مگر آئین ور قانون کیا کہتا ہے ؟مگر جہاں بے شرمی کو عزت و وقار سے تشبیع دی جائے وہاں ایسے کردار ہی یہاں اقتدار کی راہداریوں میں زیادہ نمایاں نظر آتے ہیں،اساتذہ پر تشدد کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے ،دوسرے روزپولیس کی جانب سے اساتذہ پر تشدد کے خلاف سندھ کے سرکاری اساتذہ کی تنظیم گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن (گسٹا)کے صدر اشرف خاصخیلی کی جانب سے صوبہ بھر میں تدریسی عمل کے بائیکاٹ کے اعلان اور اس وقجہ سے میٹرک،انٹر کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا تو سندھ حکومت نے مسلسل6گھنٹے کے طویل مذاکرات کے بعد حکومت نے اساتذہ کے تمام مطالبات مان لئے ،صوبائی وزیر تعلیم سردار علی شاہ نے اس موقع پر وہی روایتی دکانداری اور چاپلوسی کا انداز اپنائے رکھا کہ ہم جیسا کوئی ہمدرد نہیں،

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker