انور عباس انورتازہ ترینکالم

سندھ میں موت کا رقص اور حکمرانوں کی بے حسی

anwar-abas-logoگرمی کی حدت ، بجلی کی بے رحمانہ لوڈ شیڈنگ کی شدت اورکراچی میں پانی کی قلت ۔۔۔ انسانی زندگیوں کے چراغ گل کرنے کا باعث بن گئے۔۔۔ جو بھی ذی روح دنیا میں آئی ہے اسے واپس اپنے خالق و مالک کے پاس جانا ہی ہے۔ سندھ کے حاکم اعلی سائیں قائم علی شاہ ،انکی کابینہ کے ارکان اور وفاقی حکومت کی بے حسی پر دل لہو لہو ہے۔۔۔ کراچی میں سینکڑوں اموات بھی پنجاب کے خادم اعلی شہباز شریف سمیت وفاقی حکومت کے کسی نمائندے کو کراچی جاکر متاثرہ کاندانوں سے اظہار تعزیت و ہمدردی کے چند بول بولنے پر آمادہ نہ کر سکیں کسی کو رمضان بازروں کی فکر دامن گیر ہے تو کسی کو میٹر بس کے فوائد قوم کو بتانے کی ڈیوٹی احسن طریقے سے نبھانے کے فرائض کی ادائیگی کی پڑی ہوئی ہے۔وزیر داخلہ چودہری نثار علی خان این جی اوز کے غم میں پتلے ہوئے جا رہے ہیں۔۔۔ خادم اعلی پنجاب جو اپنے کاموں کے باعث نائب وزیر اعظم بھی مشہور ہیں ،کو جعلی ادویات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف آخر حد تک جانے کا جنون چڑھا ہوا ہے۔۔۔ابھی 2012 لوڈ شیڈنگ کے خلاف مینار پاکستان پر ’[تمبو سرکس ‘‘ لگا کر ہاتھ والا پنکھا چلاتے اور فوٹو سیشن کرواتے تھے لیکن آج ان کے پاس سب اچھا ہے ۔۔۔سب سے زیادہ تشویش ناک رویہ فیصل آبادی پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی کا ہے جو خیر سے چودہری ہونے کے سداتھ ساتھ وزیر اعظم کے قریبی عزیز بھی ہیں، ان کے روئیے کے متعلق اگر سیانے بزرگوں کی کہاوت دہرائی جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ’’ اونٹ کے منہ سے الانے کی ہواڑ ہی آتی ہے‘‘ چودہری عابد علی بڑی ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ ’’ گرمی کی لو لگنے سے مرنے کی ذمہ دار حکومت نہیں ہے، خواجہ آصف جن کے پاس وزارت دفاع کا بھی قلمدان ہے ان کے متعلق عمومی رائے ہے کہ خواجہ صاحب سلجھے ہوئے انسان ہیں ،لیکن اس معاملے میں وہ بھی بازاری دکھائی دئیے۔انکا کہنا ہے کہ ہم کراچی کو 650 میگا واٹ بجلی فراہم کر رہے ہیں،۔۔۔ کوئی خواجہ صاحب کو سمجھائے کہ انسانی زندگی بچانے کی کوشش کرنا کوئی گناہ نہیں اور گر زیادہ فراہم کرنے سے انسانی زندگیاں بچائی جا سکتی ہیں تو سودا گھاٹے کا نہیں
سابق صدر آصف علی زرداری محض وزیر اعظم کو لوڈ شیڈنگ کا نوٹس لینے کا خط تحریر کرکے سندھ کی نااہل ،کاہل اور سستی کی ماری حکومت کو اپنی ذمہ داریاں ادا نہ کرنے کی غفلت سے بری الزمہ نہیں کر سکتے۔مستقبل میں پاکستان پر حکمرانی کرنے کے خواب دیکھنے والے پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری ، انکی ہمشیرگان بختاور بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو زرداری اور ان کے پاپا جانی اپنی مصروفیات میں سے اتنا بھی وقت نہیں نکال سکے کہ وہ سندھ کے حاکم اعلی سید قائم علی شقاہ اور انکی کابینہ کو ہدایات جاری کرتے کہ وہ متاثرہ کاندانوں کے گھروں میں جاکر اطہار ہمدردی اور تعزیت کریں ، آصف علی ز۵داری قائم علی شاہ کو یہ بھی احکامات دے سکتے ہیں کہ متاثرین کو مالی امداد دی جائے تاکہ انکی نااہلی کا کفارہ ادا ہو سکے۔
کراچی اور دیگر مقامات پر مصیبت زدگان کی مدد کے لیے رینجرز اور پاک فوج ریلیف مراکز قائم کر تی ہے تو سول حکومت کے اداروں کو ایسا کرنے میں کیا قباحت درپیش ہے؟ پھر کہتے ہیں کہ عوام فوج کی جانب نہ دیکھے اور اس کے لیے تحسین کے جذبات کا اظہار نہ کریں ۔۔۔کیا سول حکمران بتا ئیں گے کہ کیوں نہ عوام فوج کی خدمات کا اعتراف کریں؟کیا زرداری صاحب اور نواز شریف حلفا کہہ سکتے ہیں کہ انکے ساتھیوں کے کرپشن اور لوٹ مار سے دامن پاک ہیں؟
یہاں مجھے ایک اور کہاوت یاد آ گئی ہے جو وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کے کراچی کے حوالے سے انکے روئیے پر بالکل صادق آتی ہے کہ ’’ غریب دی مر گئی ماں کوئی نا لوے ناں تے امیر دی مرگئی کتی ساری خلقت ڈھکی‘‘ وفاقی اور صوبائی حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ انہوں نے بھی ایک دن مرنا ہے اور خدا کے حضور جوابدہ بھی ہونا ہے وہاں کیا جواب دو گے؟ وفاقی حکومت میٹرو بس پر ستر ستر ارب روپے خرچ کرنے کا حوصلہ اور جذبہ رکھتی ہے تو اسے وسعت قلبی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کراچی کے عوام کو پانی کے عذاب سے نجات دلانے کے لیے سات ارب روپے بھی خرچ کر ڈالے، ایسا کرنے سے کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی ۔۔۔گر آج کے حکمرانوں سے کئی گنا وسیع و عریض اسلامی ریاست کے حکمران حضرت عمر بن خطاب دریا دجلہ کے کنارے بھوک سے مرنے والے کتے کے لیے جوابدہی کے لیے تیار رہتے ہیں تو نواز شریف ، شہباز شریف ، سید قائم علی شاہ، پرویز خٹک ،ڈاکٹر مالک سمیت تمام وفاقی اور صوبائی وزرا کو بھی کراچی میں پانی نہ ملنے ،لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں مرنے والوں کی موت کا حساب دینا ہوگا۔
خدا ملک ریاض حسین کو عمر خضرعطا کرے جنہوں نے مشکلات اور مصیبت میں گھرے پاکستانیوں کی ہر موقعہ پر اعانت کی ،سیلاب زدگان کو گھر بنا کر دئیے، زلزلے کے متاثرین کو کو تنہا نہ چھوڑا ، تھر کے پریشان ھال لوگوں کا سہارا بنے اور اب کراچی میں مرنے والوں کے لواحقین کو فی کس پانچ پانچ لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے۔اس موقعہ پر مین عظیم انسان عبدالستار ایدھی کی درازی عمر کے لیے بھی دعا گو ہوں۔جو حقیقت میں عوام کے خادم ہیں اور انہوں نے عوام کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  رواں سال صدقہ فطر100روپے فی کس مقرر

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker