تازہ ترینعلاقائی

سنجھورو:سندھ کے لاکھوں بے روزگار نوجوان مایوسی کا شکارہوگئے

sanjhoroسنجھورو(نامہ نگار)تفصیلات  کے مطابق محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی خالی اسامیوں پر بھرتیوں کے سلسلے میں نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS ) نے گذشتہ ماہ دسمبر میں ہائی اسکول ٹیچر (HST) اور رواں ماہ جنوری میں جونیئر اسکول ٹیچر7 (JST) اور پرائمری اسکول ٹیچر (PST) کی پوسٹ کے لئے تحریری امتحان لئے تھے۔ نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS ) نے اس امتحان میں پاسنگ مارکس 60 % رکھی تھی۔ NTS نے اس سلسلے میں ہائی اسکول ٹیچر (HST) اور جونیئر اسکول ٹیچر7 (JST) کے نتائج کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق سندھ بھر میں ہزاروں نوجوان مطلوبہ نمبر ز لے کر مذکورہ امتحان میں کامیاب قرار پائے ہیں جبکہ PST کے نتائج کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا ۔ پاکستان کے معتبر ترین ادارے نیشنل ٹیسٹنگ سروس (NTS)کے تحت ہونے والے مذکورہ امتحانات پر سندھ بھر کے امید واروں نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔دریں NTS نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لئے ہونے والے ٹیسٹ بھی موخر کردئیے ہیں ۔ BISP میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی پوسٹ کے لئے امتحانات 27 جنوری کو حیدرآباد اور سکھر میں منعقد ہونا تھے جبکہ دیگر عہدوں کے لئے تاحال شیڈول جاری نہیں کیا گیا تھا۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی پوسٹ کے NTS نے امیدواروں کو رول نمبر سلپ ارسال کی تھی جس پر امید وار حیدرآباد اور سکھر کے مذکورہ سینٹرز پر تحریری امتحان دینے گئے تھے لیکن امتحان موئخر ہونے کے باعث سینٹرز پر لگے تالے دیکھ کر سینکڑوں امیدوار اپنے گھروں کو مایوس واپس لوٹ گئے ۔مذکورہ محکموں میں درخواست دینے والے بے روزگار نوجوان ان امتحانات کے لئے گذشتہ کئی مہینوں سے تیاری کر رہے تھے۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میںNTS نے دیگر وفاقی اور صوبائی محکموں کے لئے ہونے والی بھرتیوں کے ٹیسٹ کے پروجیکٹ بھی موخر (Postpond) کردئیے ہیں جس کے بعد سندھ بھر کے لاکھوں نوجوانوں میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے جبکہ اساتذہ کی اسامیوں کے لئے NTS کا تحریری امتحان پاس کرنے والے ہزاروں امید وار بھی بے یقینی اور عجیب تذبذب کا شکار ہوگئے ہیں۔ان امیدواروں کا کہنا ہے موجودہ حکومت نے اپنے پورے دور میں میریٹ کا قتل عام کرتے ہوئے رشوت اور سفارش پر نوکریاں دی ہیں۔ اصل مسئلہ ان بھرتیوں کی انکوئری کا ہے۔ NTS پاکستان کا معتبر ترین ٹیسٹنگ سروس ادارہ ہے۔اب جب کہ اس حکومت نے اپنے دور کے اواخر میں کچھ بھرتیاں میریٹ پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو بے روزگار نوجوانوں میں امید کی ایک کرن پیدا ہوئی تھی۔ بے روزگار نوجوانوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے رشوت اور سفارش پر بھرتیاں کرنے پر پابندی عائد کی جائے نہ کہ میرٹ پر ہونے والی بھرتیوں پر۔فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور صوبائی پبلک سروس کمیشن کی طرح NTS جیسے اداروں کے ذریعے ہونے والی بھرتیوں سے پابندی اٹھائی جائے اور پاکستان کے لاکھوں بے روزگار نوجوانوں کو مایوسی کے اندھیروں سے نکالا جائے۔سندھ کے نوجوانوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ دور میں سفارش اور رشوت کے عوض ہونے والی بھرتیوں کی تحقیقات کرائی جائے اور ملوث سیاست دانوں اور بیورو کریٹس کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے کیوں کہ سرکاری محکموں میں سفارش اور رشوت کے ذریعے بھرتیاں کرکے لاکھوں اہل نوجوانوں کے بنیادی حق پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker