تازہ ترینعلاقائی

سنجھورو:موروں میں رانی کھیت کی بیماری وبائی شکل اختیارکرگئی

سنجھورو﴿نامہ نگار﴾تھر کے بعد ضلع سانگھڑ کی تحصیل سنجھورو میں بھی موروں میں رانی کھیت کی بیماری وبائی شکل اختیار کر گئی ہے۔ابھی تک ضلع سانگھڑ میں 43 مور مر چکے ہیں ۔سب سے زیادہ مور تحصیل سنجھورو میں مرے ہیں۔ابھی تک گائوں بھائی خان وسان میں 7 ، گائوں بھڑی میں 4 ، کانڈیرو وسان میں 7 ،ایم پی اے علی غلام نظامانی کے فارم پر 07 ،گائوں حاکم خان مری میں 18جبکہ ایک مور سانگھڑ شہر میں مر چکا ہے۔حکومت سندھ کے محکمہ وائلڈ لائف کی کارکردگی اس سلسلے میں صفر ہے۔محکمہ وائلڈ لائف کا عملہ اس حوالے سے قطعی غیر تربیت یافتہ ہے۔ اس محکمہ کے پاس ضلع سانگھڑ میں نہ تو کوئی DVM ڈاکٹر ہے اور نہ ہی کسی بھی آفیشل نے کوئی اور کورس کر رکھا ہے۔اس صورتحال میں سیکریٹری لائیو اسٹاک عابد علی شاہ اور ڈائریکٹر پولٹری پروڈکشن اینڈ ریسرچ حکومت سندھ نے سانگھڑ میں موروں کی بیماری کے علاج کے لئے ایک سینٹر قائم کیا ہے جس کا انچارج ڈپٹی ڈائریکٹر پولٹری ڈویلپمنٹ اور پرندوں کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر منور علی راجپوت کومقرر کیا گیا ہے لیکن حکومت نے یہ سینٹر قائم کرنے میں بہت دیر کردی جس وقت حکومت نے یہ سینٹر قائم کیا جب تک رانی کھیت کی بیماری علاقے میں وبائی شکل اختیار کر چکی تھی اور دو درجن سے زیادہ مور مرچکے تھے جبکہ بڑی تعداد میں بیمار ہو چکے تھے۔ اس سینٹر کے قیام کے بعد پولٹری ڈویلپمنٹ کے ڈاکٹر، ڈاکٹر منور علی راجپوت کی سربراہی میں اس بیماری پر کنٹرول کر نے کے لئے بھرپور کوشیں کر رہے ہیں۔اس سینٹر کے قیام کے بعد موروں کو ویکسینیشن کرنے کے بعد موروں کی ہلاکت میں نمایاں کمی آئی ہے۔پرندوں اور جانوروں کے ڈاکٹر موروں کی اس بیماری پر رسرچ بھی کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری کیلئے کراچی ارسال کردئیے ہیں۔اکر محکمہ وائلڈ لائف پر انحصار کرنے کی بجائے یہی اقدامات حکومت کی جانب سے بر وقت کئے جاتے اور سانگھڑ کی طرح دیگر علاقوں میں بھی اسی طرح قابل اور ایماندار ماہرین یا ڈاکٹروں کی قیادت میں ٹیمیں بنائی جاتیں تو اتنے بڑے نقصان سے بچا جاسکتا تھا۔حکومت سندھ کو چاہئے کہ محکمہ وائلڈ لائف میں پروفیشنل کوالیفائیڈ ویٹنیرین کو تعینات کر کے موروں جیسے حسین پرندوں کی نسل کو بچایا جائے ۔

یہ بھی پڑھیں  سندھ میں 9 جولائی تک سی این جی اسٹیشنز بند

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker