تازہ ترینعلاقائی

سنجھورو:نئی تعمیر ہونے والی سڑکیں ایک مہینے کے اندر ٹوٹ گئیں

سنجھورو(نامہ نگار) نئی تعمیر ہونے والی سڑکیں ایک مہینے کے اندر ٹوٹ گئیں، تارکول کی جگہ استعمال کیا گیا کچا رنگ دھوپ میں اڑ گیا،سڑکوں کا رنگ سیاہ کی بجائے سفید ہوگیا ۔ ٹرانسپورٹروں نے پتھروں سے خوفزدہ ہوکر گاڑیاں بند کردیں ۔ تفصیلات : حکومتِ سندھ کی جانب سے سیلاب ذدہ علاقوں میں ترجیحی بنیادوں پر سڑکوں کی تعمیرات کا کام کرایا گیاجس میں محکمہ ہائی ویز کی جانب سے تعلقہ سنجھورو میں سنجھورو شہدادپور روڈ اورسنجھورو کھڈرو روڈ سمیت کئی تباہ حال سڑکوں کو از سرِ نو تعمیر کیا گیا ۔ ان سڑکوں کی تعمیر میں بااثر ٹھیکیداروں کی جانب سے انتہائی ناقص میٹریل استعمال کیا گیا۔ تعمیرات میں پتھر انتہائی ناقص اور کم مقدار میں استعمال کیا گیا، میٹریل میں ڈامر(تارکول) کی مقدار برائے نام استعمال کی گئی اور تارکول کی جگہ رنگ،انجنوں میں استعمال شدہ کالا تیل اور جلے ہوئے ٹائر وں کی راکھ استعمال کی گئی ۔ان سڑکوں کی تعمیر میں پتھر کی پریسنگ کا کام بھی غیرتسلی بخش تھا۔کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والی سڑکوں کا پتھر ایک بار ہی بلڈوزر چلنے سے سفوف کی شکل اختیار کر گیا تھا۔ستم ظریفی یہ ہے کہ ان سڑکوں سے رات دن حکومتی نمائندے اور سرکاری افسران کا گزر بھی ہوتا ہے مگر نامعلوم وجوہات کی بنا پر عوامی نمائندوں اور افسران کی مجرمانہ خاموشی ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ ان سب کے باوجود ٹھکیدار وں نے بڑی بہادری سے ناقص میٹریل استعمال کرنے کے ریکارڈ توڑ دئیے۔با خبرذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مزکورہ ٹھیکیداروں نے محکمہ ہائی ویز کے افسران کے ساتھ بھاری کمیشن طے کر رکھی ہے ساتھ ہی بااثر افراد سے سے بھی مک مکا کر رکھاہے۔ جس کی وجہ سے ٹھیکیدار وں نے اتنی آزادی سے سنجھورو کے شہریوں کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی کی اور کوئی باز پرس کرنے والا نہیں ہے۔ محکمہ ہائی ویز کے افسران اور یہ سڑکیں تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار دیکھتے ہی دیکھتے کروڑ پتی بن گئے ہیں۔جبکہ محکمہ کے نچلے گریڈ کے ملازمین بھی راتوں رات امیر بن کر گاڑیوں میں گھومنے لگے ہیں۔سنجھورو شہر کو دیگر شہروں سے ملانے والی تمام سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جس کی وجہ سے چلنے والی بسیں اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ بند ہورہی ہیں۔ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر چلنے سے ان کی گاڑیوں کے ٹائر روز پنکچر ہوجاتے ہیں اور نئی گاڑیاں بھی چند ہی مہینوں میں خراب ہوجاتی ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی کی وجہ سے اور سڑکوں کی خستہ حالی کی وجہ سے ٹیکسی اور چنگ چی ڈرائیوروں نے کرائیوں میں ہوشربا اضافہ کر دیاہے۔سنجھورو کے شہری ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے کر تے ہیں۔پبلک ٹرانسپورٹ کے ساتھ ساتھ گڈز ٹرانسپورٹرز نے بھی اپنے کرائے بڑھادئے ہیں جس کی وجہ سے دیگر شہروں سے آنے والی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا رہا ہے دوسری جانب سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے اس علاقہ سے برآمد ہونے والی زرعی اجناس اورمویشی منڈیوں تک پہنچانے میں علاقہ کے کاشتکاروں اور بیو پاریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ذرائع آمدورفت میں ہونے والی کمی کے باعث سنجھورو کے شہری ان گنت مسائل کا شکار ہورہے ہیں۔سنجھورو شہر کے سماجی،سیاسی اور عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے پر زور اپیل کی ہے کہ ناقص میٹریل سے بننے والی ان سڑکوں کی تعمیرات میں ناقص مٹیریل استعمال کرنے والے ٹھیکیدار وں اور کمیشن لینے والے ہائی ویز سب ڈویژن سنجھورو کے افسران اور ملازمیں کے خلاف کاروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں  لاہور بورڈمیں میٹرک اورانٹر میں پریکٹیکل کا پر انا نظام پھر بحال

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker