تازہ ترینعلاقائی

سنجھورو:مین سندھی پرائمری اسکول ایک صد سے زائد عرصہ پرمحیط درس گاہ اورخستہ حالی

Sindhi School PIC1سنجھورو (سٹی رپورٹر) سنجھورو مین سندھی پرائمری اسکول 1904میں قائم ہوا۔اس درس گاہ کی اس سال 108 آٹھویں سالگرہ منائی گئی۔ابتداء میں اس اسکول کی عمارت 5 کمروں پر مشتمل تھی ۔اسکول کے ریکارڈ کے مطابق یہ اسکول شروع میں ضلع تھرپارکر کی حدود میں شامل تھا اس کے بعد ضلع نواب شاہ کا حصہ رہا اور پھر جب سانگھڑ کو ضلع کا درجہ دیا گیا تو اس اسکول کو سانگھڑ میں شامل کر لیا گیا اور اس وقت تک ضلع سانگھڑ کی حدود میں شامل ہے۔اور اس اسکول کا جنرل رجسٹر 1904کے وقت کا محفوظ ہے اور ہیڈ ماسٹر مسٹر ٹیوک رام کے دور کا ریکارڈ باقاعدہ موجود ہے۔یہ درس گاہ سو سال سے ذائد عرصہ سے تما م تر مشکلات کے باوجود انتہائی کامیابی کے ساتھ طلبہ وطالبات کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہا ہے۔اس اسکول سے فارغ التحصیل طلباء میں بڑے بڑے نام شامل ہیں اس اسکول نے اب تک ہزاروں ڈاکٹر، انجینئر، قانون دان، شاعر، اساتذہ اور بزنس مین دیئے جوملک و قوم کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔ ان میں نیشنل بینک کے سابقہ چیئرمین ، ڈائریکٹر اینمل ہزبینڈری ڈاکٹر غلام سرور شیخ ، ؑ عظیم محقق و پرفیسرنبی بخش بلوچ، MPAفقیر وریام خاصخیلی، موجودہ اقلیت کےMNA بھاون داس ،وزیر اعلیٰ کے سابقہ معاونِ خاص فقیر نور حسن خاصخیلی ،پروفیسر اعجاز علی جٹ ،ظفر علی وڑائچ سابقہ TMO5195گل محمد سولنگی سابقہ منیجر UBL،ڈاکٹرسرجن اظہار احمد جٹ ماہر امراضِ قلب ،ڈاکٹر وقار احمد جٹ USA،ماہر امراغِ چشم ڈاکٹر مھراج ہری کرشن ، سرجن چشم ڈاکٹر بیربل گنیانی،ماسٹر محمد اسلم کھوکھربرطانیہ،عبدالخالق سولنگی AC واپڈا، ڈاکٹر ذاہد حسین عباسی شہید اسپتال اور دیگر ہزاروں افراد شامل ہیں جو اس شمع سے روشنی حاصل کر کے ملک اور قوم کا سرمایہ بن چکے ہیں۔ان کے علاوہ زندگی کے دیگر شعبوں سے وابسطہ مشہور شخصیات یہاں سے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔اس اسکول میں 1975 تک سندھی اور اردو میں مشترکہ تعلیم دی جاتی تھی اور یہ اسکول تعلیم حاصل کرنے کے لئے اکلوتی درس گاہ تھی جو بعد میں صرف سندھی میڈیم کے لئے مختص کر دی گئی۔ اس وقت 500 سے زائد طلبا ء و طالبات زیرِ تعلیم ہیں جن کو 19ماہر اساتذہ تعلیم کے زیور سے آراستہ کر رہیں ہیں۔اسکول کی عمارت سولہ کمروں پر مشتمل ہے اسکول کے قیام سے اب تک اس اسکول کی بلڈنگ کی تعمیر کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں وقتا”فوقتا”اس کی عمارت کے لئے SMC فنڈ کو مرمت کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔اسکول کی عمارت دوبارہ تعمیر نہ ہونے کی وجہ سے خستہ حالی کا شکارہے جس کی وجہ سے اس وقت بچوں کو حصولِ تعلیم میں سخت مشکلات کا سامنا ہے ۔موجودہ وزیر تعلیم سندھ جناب پیر مظہرالحق صاحب نے اپنے ماہ فروری 2012کے سنجھورو کے دورہ کے موقعہ پر اس اسکول کی بلڈنگ کی تعمیر کے لئے احکامات صادر فرماتے ہوئے ایجوکیشن ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ سندھ کو حکم دیا تھا کہ اسکول کی فزی بلیٹی رپورٹ پیش کی جائے اور تعمیراتی کام شروع کیا جائے لیکن 10 ماہ گزرنے کے باوجود ابھی تک اس اسکول کے لئے کچھ نہیں کیا گیا اور اب تک کام صرف فائیلوں تک ہی محدود ہے۔اس سے قبل کچھ کمروں کی مرت کے لئے فنڈز مختص کئے گئے تھے مگر ان کمروں کا کام بھی نامکمل پڑا ہے ایجوکیشن ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ کو متعدد بار اس کی شکایت کی گئی ہے کہ ٹھیکیدار کو کمروں کا کام مکمل کرنے کی سختی سے ہدایت کی جائے مگر تا حال اس پر کوئی عمل نہ ہو سکا ہے اور مرمت کا کام بند پڑا ہے اور جو کمرے موجود ہیں ان میں سے کئے کمرے خستہ حالی کی وجہ سے ناقابلِ استعمال ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔۔بچوں کے لئے پینے کے پانی کا کوئی خاص انتظام نہیں ہے جس کی وجہ سے بچے پینے کے پانی کے لئے اسکول سے باہر جا کر پینے پر مجبور ہیں۔خاص طور پر دو سال سے طوفانی برساتوں کے بعد اس اسکول کی حالت خراب ہو چکی ہے اگر ہم ایک نظر عمارت پر ڈالیں تو اس کا یہ عالم ہے کہ جگہ جگہ سے عمارت کی چھت ٹوٹی ہوئی ہے کسی بھی کمرے کا فرش صحیح حالت میں نہیں ہے۔حالیہ برساتوں میں اسکول کی عمارت نیچی ہونے کی وجہ سے تمام کمرے زیرِ آب آگئے تھے اسی وجہ سے اس اسکول کی تعلیم جاری رکھنے میں مشکلات پیش آتی رہی ہیں۔ برساتوں میں عمارت نیچے ہونے کی وجہ سے تین تین فٹ پانی کھڑا رہااور پانی کی نکاسی کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پانی مہینوں تک اسکول میں کھڑا رہا۔اسکول کے ہیڈ ماسٹر قمر الدین رند نے پاک نیوز لائیو کے نمائندہ رانا وقار حسین کے ساتھ خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ دس سالوں سے اسکول میں طلباء کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔لیکن حکومت کی طرف سے کوئی بھی انتطام نہیں کیا گیا۔عمارت کی خستہ حالی کی وجہ سے طلباء میں خوف پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے طلباء کمروں میں تعلیم حاصل کرنے سے قاصر ہیں اور خوف کی وجہ سے بچے کمروں میں تعلیم حاصل کرنے سے کتراتے ہیں۔کمروں کی چھت کے پلستر گرنے سے کئی بار اساتذہ اور بچے زخمی بھی ہو چکے ہیں۔ عمارت کے کچھ کمرے کسی بھی وقت زمین بوس ہونے کو ہیں اور ان میں بچوں کا بیٹھنا انتہائی خطرناک ہے جو کسی بھی وقت خدانخواستہ اندوہناک حادثہ کا سبب بن سکتا ہے۔ TMAسنجھورو کا ایک نکاسی آب کا نالہ اس اسکول کے بلکل قریب سے گزرتا ہے جو کہ انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے آئے دن ابلتا رہتا ہے اس نالے کا گندہ پانی اسکول کی عمارت نیچے ہونے کی وجہ سے اسکول میں داخل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے بچوں کو اسکول

یہ بھی پڑھیں  دیپالپور:ڈینگی سے نجات اور صفائی کیلئے صرف واک کافی نہیں،رانا عاصم خلیل

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker