پاکستانتازہ ترین

ابھی گرمی آئی نہیں کہ لوڈ شیڈنگ ناقابل برداشت ہوچکی ہے ،سراج الحق

لاہور(نمائندہ خصوصی)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ابھی گرمی آئی نہیں کہ لوڈ شیڈنگ ناقابل برداشت ہوچکی ہے ،مسلم لیگ ن کی حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کے نعرہ پر اقتدار میں آئی تھی مگر دوسال میں حکومت نے اس میں اضافہ ہی کیا ہے کوئی کمی نہیں لاسکی ۔گیس کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے ،ملک کے کئی حصوں میں گیس دستیاب نہیں ،آئی ایم ایف سے بجلی و گیس کی قیمتوں میں اضافہ کی شرائط پر قرضے لئے جارہے ہیں ،جب تک ملک میں نئے ڈیم تعمیر نہیں ہوتے بجلی کا بحران حل نہیں ہوسکتا ۔جماعت اسلامی کے مرکزی میڈیا سیل کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب ثمر باغ کے گاؤں قاضی میں بجلی کی فراہمی کے منصوبے کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر جماعت اسلامی کی مقامی قیادت بھی موجود تھی ۔سراج الحق نے کہا کہ شہریوں کوبجلی گیس اور صاف پانی کی بنیادی ضروریات مہیا کرنا حکومت کا فرض ہے ،موجودہ حکومت نے اپنے منشور میں جو بلند و بانگ دعوے کئے تھے ان پر عمل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے ،انہوں نے کہا کہ شدید سردی کے باوجود ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے ،جبکہ حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ اقتدار میں آکر عوام کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات دلائے گی اور بجلی کی قیمتوں میں کمی لائے گی ۔انہوں نے کہا کہ بجلی کے بلوں میں صارفین سے کئی قسم کے ٹیکس وصول کئے جارہے ہیں ،غریب شہریوں کیلئے بجلی کے بل ادا کرنے کے بعدزندگی کی ابتدائی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جاتاہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت بجلی کی چوری روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے ،بجلی چوری میں زیادہ تر وہ لوگ ملوث بتائے جاتے ہیں جنہیں حکومتی سرپرستی حاصل ہے،انہوں نے کہا کہ لائن لاسز میں کمی کیلئے بجلی کی چوری روکنا ضروری ہے مگر حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی ۔سراج الحق نے کہا کہ جب تک ملک میں پانی کے نئے ذخائر تعمیر نہیں کئے جاتے اور پرانے ڈیموں کی صفائی کرکے ان کی پانی ذخیر ہ کرنے کی گنجائش کو نہیں بڑھایا جاتا بجلی کے بحران پر قابو نہیں پایا جاسکتا ،بجلی کی بلاتعطل فراہمی کیلئے حکومت نے اب تک کوئی خاص منصوبہ بندی کی اور نہ یہ حکومتی ترجیحات میں کہیں نظر آتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker