تازہ ترینکالم

صراطِ مستقیم

فلاحی ادارے ، ضرورت مندوں کو بنیادی ضروریات زندگی مہیا کرنے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ، ان میں ایسے ادارے بھی ہیں جو لوگوں کو رمضان پیکج کے تحت سحری و افطاری کا مکمل سامان مہیا کر رہے ہیں کچھ فلاحی ادارے ایسے بھی ہیں جو سفید پوش اور غریبوں میں خوشیاں بانٹ رہے ہیں یعنی عید پر کپڑے ، جوتے اور وہ تمام سامان جو ضرورت ہیں وہ مستحق لوگوں کے گھروں میں پہنچا رہے ہیں ۔ ان اداروں میں ایسے لوگ بھی ہیں جو انفرادی طور پر یہ فریضہ سرانجام دے رہے ہیں اور کچھ اجتماعی طور پر مصروف عمل ہیں ، ایسے بھی رفاحی ادارے ہیں جو چھپ چھپا کر مخلوق خدا کی خدمت کر رہے ہیں اور کچھ اعلانیہ اور فخریہ طور پر یہ احسن کام سر انجام دے رہے ہیں ، یہ کام جس طرح بھی خراج تحسین کے قابل ہیں !اللہ پاک نے مخلوق خدا کی خدمت کو بہت پسند کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے کہ
بات یہ ہے کہ جو بھی اپنے نفس کی حرص سے بچیں وہی کامیاب اور بامراد ہیں۔‘‘ یعنی بخل اور کنجوسی سے بچ کر اللہ کی راہ میں سخاوت اور فیاضی سے کام لو۔(الحشر: ۹)
اللہ تعالیٰ کا کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنے دیئے ہوئے مال کو اس کی راہ میں خرچ کرنے کو قرض حسنہ دینے سے تعبیر کیا ہے اور اسے بڑھا چڑھا کر واپس کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ جیسا کہ ( سورۃ البقرہ ) میں ارشاد ہوتا ہے کہ : ۔ایسا بھی کوئی ہے جو اللہ تعالیٰ کو اچھا قرض دے‘ اللہ تعالیٰ اسے بہت بڑھا چڑھا کر عطا فرمائے اللہ ہی تنگی اور کشادگی کرتا ہے اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔‘‘
عموماً آدمی کو مرتے وقت احساس ہوتا ہے کہ کاش میں اپنی زندگی میں یہ مال ودولت اللہ کے راستے میں خرچ کر کے اپنی آخرت بنا لیتا تو اچھا تھا مگر میں نے زندگی میں یہ نہیں کیا‘ اگر مجھے ایک لمحہ کی مہلت مل جائے تو میں ساری دولت اللہ کے راستے میں خرچ کر دوں۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے(المنافقون: ۰۱) ’’اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے ہماری راہ میں اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم سے کسی کو موت آجائے تو کہنے لگے‘ اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کے لیے مہلت کیوں نہیں دیتا کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں۔‘‘
لیکن وقت مقررہ آنے کے بعد اس میں ایک لمحہ کی بھی تقدیم وتاخیر
ممکن نہیں !
عموماً لوگ یہ فریضہ رمضان المبارک میں ادا کرتے ہیں تا کہ اس سے رمضان المبارک کے بے پایاں اجر وثواب سے مستفید ہو سکیں۔ کیونکہ رمضان المبارک میں ہر نیکی کا ثواب ستر درجہ سے شروع ہوتا ہے۔ جبکہ غیر رمضان میں دس درجہ سے شروع ہو کر سات سو تک پہنچتا ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے اس کے ثواب میں بے حساب اضافہ کرتا ہے۔
یہ بات سچ ہے کہ اللہ پاک ہماری نیتوں کو دیکھتا ہے اور ہمارے نیکی کے کاموں صدقہ خیرات اور زکواۃ سمت حج روزہ اور عمرہ جیسی عظیم عبادات کی قبولیت کا محوو مرکز ہماری نیت ہیں ۔
عرض ہے جو لو گ یہ نیک کام کرتے ہیں ان کو اگر نیت کے ساتھ آنکھیں بھی کھلی رکھ کر اپنے ’’ عطیات و صدقات ‘‘ دینے چاہیے تا کہ ہمارے عطیات و صدقات کا غلط استعمال نہ ہو جیسا کہ پچھلے کچھ سالوں ہم دہشت گردی کی لپٹ میں ہیں اس میں کچھ تو خالصتاً اللہ کی رضا کے لئے کام کرتے ہیں ایسے اداروں اور تنظیموں کو ہم خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں مگر معزرت کے ساتھ عرض ہے کچھ لوگوں نے خدمت خلق کو صرف نام و نمود کی نمائش ، یا کاروبار بنایا ہوا ہے۔ کچھ ایسے ادارے تنظیمیں بھی ہیں جنکی مجلس عاملہ ایک گھر یا ایک کنبہ تک محدود ہیں ، ایسی تنظیموں کا اگر صدر باپ ہے تو بیٹی چیرپرسن اور ڈرائیور فنانس سیکرٹری ہوگا۔ ایسے لوگ ’’ چمک ‘‘ دیکھا کر آڈٹ بھی کرواتے ہیں تا کہ کوئی انگلی نہ اٹھا سکے !
بہت سارے فلاحِ انسانیت کے ایسے بھی ادارے ہیں جو سفید پوش طبقے کو تعلم جیسے زیور سے منور کرنے کے لئے اپنے بجٹ کا بہت بڑا حصہ صرف کر رہے ہیں ، بندہ ناچیز زاتی طور پر ایسے ادارے بھی جانتا ہے جو سفید پوش ، غریب، یتیم اور لاوارث بچوں کو اچھی تعلیم و تربیت مفت دے رہے ہیں ۔ ایسی فلاحی تنظیم کی ایک سابق طالبہ ایک تقریب میں شریک ہوئی ، اسکی باتیں سن کر لگا اللہ پاک ن واقعی ہی انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے ۔
جی جناب بھری تقریب میں اس لڑکی نے تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ 25 سال قبل مجھے لاہور یتیم خانے سے جناب نے لاکر اپنے ادارے میں داخل کیا ، اس سکول میں ہوسٹل بھی ہوتے ہیں اور بقول اس محترمہ کے جو پچیس سال پہلے یتیم خانے سے لائی گئی ۔ اس کی تربیت اور اعلیٰ تعلیم کی بدولت 19ویں سکیل کی اب وہ ملازمہ تھی اور آنسو کی یلغار میں اس نے کہا اب یہی ادارہ میرے لئے زندی کا ساتھی چنے گا اور میری شادی کروائے گا۔ اس نے مزید کہا پہلے ماہ کی پوری جب باقی سروس کی آدھی تنخواہ میں اسی ادارے کو دیتی رہوں گئی۔ مجھے یاد ہے بھری تقریب میں اس محترمہ نے ادارے کے سربراہ کی جانب اشاراہ کرتے ہوئے کہا مجھے یہ انسانی روپ میں فرشتہ نظر آتا ہے۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ کو وہ صدقہ وخیرات زیادہ پسند ہے جو زندگی اور صحت کی حالت میں کیا جائے۔‘‘ (بخاری)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’زندگی اور تندرستی کی حالت میں ایک درہم خیرات کرنا موت کے وقت سو درہم خیرات کرنے سے بہتر ہے۔‘‘ (ابوداود)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’صدقہ وخیرات کرنے سے آنے والی بلائیں اور مصیبتیں رک جاتی ہیں‘ لہٰذا صدقہ وخیرات میں جلدی کرو۔‘‘
اللہ پاک ہماری نیت کو دیکھتا ہے جو ہم اخلاس کے ساتھ صدقہ ، خیرات کرتے ہیں ، اس میں چھپا کر یا اعلانیہ کی اہمیت نہیں !دعا ہے اللہ پاک ہمیں دکھاوے سے بچائے اور حقیقی خدمت خلق کرنے والے اداروں کی مالی اخلاقی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔اور صراط مستقیم پر چلا آمین !

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button