تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

سیاسی نہیں قومی یکجہتی کی جھلک ۔۔۔تھرکول پاورمنصوبہ

zafar ali shah logoکیاسیاست ،عوامی خدمت اور قومی مفاد ات کے معاملات لگ الگ چیزیں ہیں،کیاسیاسی مدارمیں شہرت ،اناکی تسکین اور حصول اقتدار کے لئے ہمیں مزیدایک دوسرے سے الجھناہوگاجیساکہ الجھتے آرہے ہیںیاوقت آگیاہے کہ ملک کی ترقی اور مفاد عامہ کے لئے آپس کے ذاتی اختلافات اور تمام الجھنیں بالائے طاق رکھ کرہم حب الوطنی اور بالغ النظری کامظاہرہ کریں جیساکہ وزیراعظم نوازشریف نے 31 جنوری کوسابق صدرمملکت اور پیپلزپارٹی کے رہنماء آصف علی زرداری کے ساتھ اسلام کوٹ کے قریب تھرکول پاورمنصوبے جس پر ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالرکی لاگت آئے گی اوراس کے سال 2017 میں فیزون کے مکمل ہونے پرابتدائی طورپر660میگاواٹ بجلی حاصل ہوسکے گی کامشترکہ طورپرسنگِ بنیادرکھنے کے موقع پرتقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ جب بھی ملک کی ترقی کامعاملہ ہو ملک کی سیاسی قیادت کومتحدومتفق ہوناچاہیئے۔اب سیاسی رہنماؤں کواپنے اختلافات کوبالائے طاق رکھ کر ملک وقوم کی ترقی و خوشحالی کے لئے سوچنے اوراقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ہمیں غربت و بے روزگاری،مہنگائی کے خاتمے اور عوام کی خدمت کے لئے ایک راستے پرہونا چاہیئے۔پاکستان اور عوام مخالف لوگوں کو شائداچھانہ لگے لیکن وطنِ عزیزکی ترقی پریقین رکھنے والے آج کے منظر کو دیکھ کر بہت خوش ہوں گے۔تھرکول پاورمنصوبے کے مشترکہ افتتاح کے موقع پروزیراعظم کامزیدکہنایہ تھاکہ سیاست میں ہرجماعت عوام کواپنامنشوردیتی ہے جبکہ جمہوری عمل میں ایک دوسرے کے مینڈیٹ کوتسلیم کیاجاتاہے اورجس طرح 2008میں ہم نے پیپلزپارٹی کاجبکہ2013میں پیپلز پارٹی نے ہمارے مینڈیٹ کوتسلیم کیاہے اوربعض اہم قومی معاملات پر دونوں جماعتوں نے جس بالغ النظری کامظاہرہ کیاہے یہ دوسرے سیاسی ساتھیوں کے لئے مشعل راہ ثابت ہوگی اورضرورت اس امرکی ہے کہ وہ بھی اسی طرح کاسیاسی کلچراپنائیں۔ان کے مطابق آج یہ امر باعث اطمینان ہے کہ ملک کی ترقی کے لئے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی متحد اور ان کی ترجیحات ایک جیسی ہیں۔انہوں نے سابق صدرآصف علی زرداری کی جانب سے تھرمیں انڈسٹریل پارک لگانے کی تجویزکی بھی مکمل تائید کی اور کہاکہ تھرکول منصوبہ تھرپارکرکے عوام کی ترقی وخوشحالی کے ایک نئے دورکاآغازہوگا۔سندھ کی ترقی پاکستان جبکہ پاکستان کی خوشحالی سندھ،پنجاب،بلوچستان،خیبرپختونخوا،گلگت بلتستان اور آزادکشمیر کی خوشحالی ہے۔قبل ازیں سابق صدر مملکت اور پیپلز پارٹی کے رہنماء آصف علی زرداری نے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ وطن عزیزکی سیاسی قیادت میچورہوگئی ہے تھرکول پاورمنصوبے کاذکرکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ماضی میں سیاسی ناپختگی کی وجہ سے یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا۔یہ منصوبہ 1996ء میں محترمہ بے نظیربھٹوشہیدنے شروع کیاتھالیکن پیپلزپارٹی کی حکومت چلے جانے کی وجہ سے یہ منصوبہ سیاسی اختلاف کی نظرہونے پر کھٹائی میں پڑگیاتھاپھرجب ان کی حکومت آئی تواس کو حتمی شکل دی گئی اور اب ہم نے مل کراس کو مکمل کرناہے کیونکہ ایسے بڑے منصوبے سیاسی اتحادکے بغیر پایہ تکمیل ہوناممکن نہیں۔ آج کی تقریب اور اس منصوبے کے آغازسے وطن عزیز کے آئندہ نسلوں کویہ پیغام ملے گاکہ سیاستدانوں سمیت سب کومل کر ملک کی ترقی اور عوامی خوشحالی کے لئے کام کرناچاہیئے۔انہوں نے وزیراعظم نوازشریف کاشکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ انہوں نے اس منصوبے کوعمل جامہ پہنانے میں بڑااہم کرداراداکیاہے۔اطلاعات کے مطابق اس سے قبل تھرکول پاورپراجیکٹ کی افتتاح کے لئے جب وزیراعظم نوازشریف اسلام کوٹ جانے سندھڑی ائربیس پہنچے توسابق صدرآصف علی زرداری،وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ، قائم مقام گورنرسندھ آغاسراج درانی اوربلوچستان کے وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے ان کااستقبال کیا۔کہنے لکھنے اور بتانے کامقصدیہ ہے کہ سندھ کے علاقہ ترپارکرمیں تھرکول پاورمنصوبہ بلاشبہ ایک بڑامنصوبہ ہے اور اس کے پایہ تکمیل ہونے سے نہ صرف سندھ اور تھرپارکرمیں ترقی وخوشحالی آئے گی بلکہ ملک کے دیگر حصے بھی اس کے ثمرات حاصل کریں گے مگریہ دیکھنااورمحسوس کرنانہایت ضروری ہے کہ ترقی و خوشحالی کے اتنے بڑے منصوبے کاآغازپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نون جیسی بڑی اور روایتی مخالف جماعتوں کے باہمی اتحادواتفاق کے باعث ممکن ہواہے اور اگر یہ جماعتیں متفق نہ ہوتیں توماضی کی طرح اب کی بار بھی یہ منصوبہ سیاسی اختلاف کی نذرہوجاتا۔اگرچہ تھرکول منصوبہ بڑامنصوبہ ہے لیکن یہ کوئی آخری منصوبہ نہیں قدرتی وسائل کوبروئے کارلانے کے ایسے مزید درجنوں منصوبوں کی گنجائش ابھی باقی ہے جن کافوری آغازہونے سے ملک وقوم ترقی و خوشحالی کی نئی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں اور ایسے منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف توانائی بحران سے نمٹاجاسکتاہے بلکہ بے روزگاری جیسے مسئلے پر بھی قابوپانے بھی یہ اہم ثابت ہوں گے مگرسیاسی قیادت کی بالغ النظری اور قومی مفاد کی خاطرمتحدہونے کے بغیر ایسے کسی بھی منصوبے کوعملی جامہ پہنانا ممکن نظرنہیں آتا۔یہ کہاجاسکتاہے کہ حصول اقتدارکی دوڑمیں شریک سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر کیچڑاچھالنے اور ہدف تنقید بنانے کے روایتی سیاسی ماحول میں پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ نون جیسی سیاسی حریف جماعتوں کاتھرکول پاورمنصوبے کامشترکہ افتتاح کرنے کااقدام نہ صرف قابل تعریف ہے بلکہ قابل تقلید بھی ۔اوراگر قومی مفادات کے حصو
ل کی خاطر سیاسی اختلافات اورمحض اختلاف برائے اختلاف سے بالاترایساسیاسی کلچرپروان چڑھتاہے اوردیگر سیاسی جماعتیں بھی اسی طرح کامظاہرہ کرتی نظرآتی ہیں توکوئی رکاؤٹ نہیں ہوگی ملک کوترقی اور عوام کوخوشحالی کی راہ پرڈالنے میں جب کہ یہ امر بھی قابل ذکرہے کہ پیپلزپارٹی اور نون لیگ بھی محض اس ایک اقدام کوکافی سمجھنے اور اس کی اہمیت پراکتفاء کرنے کی بجائے اس کے تسلسل کوقائم رکھیں۔اپناسیاسی مؤقف،منشوراور پروگرام قوم کے سامنے رکھنااور آزادی اظہارکے تحت سیاسی مخالف جماعت اور حکومت وقت کی پالیسیوں پرتنقید اوراختلاف رائے رکھنادرست مگر جب معاملات ملک کی سلامتی۔ترقی وخوشحالی،غربت کے خاتمے اور عوامی فلاح وبہبودد کے ہوں توتمام سیاسی لیڈرشپ کوایک ساتھ اور ساتھ ساتھ ہوناچاہیئے۔قوم وملک کے دشمنوں کو یہ اچھانہیں لگے گا لیکن فرسودہ طرزسیاست کی بجائے ملکی مفادپر وطن عزیزکی تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیںیہ پیغام دنیاکو جاناچاہیئے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button