تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

سیاسی تعصب

zafarکہتے ہیں ایک دفعہ ایک شخص سے کسی نے پوچھاتھاکہ آپ کے گاؤں میں بڑا عالم دین کون ہے اس نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ بڑے عالم دین تومیرے بڑے بھائی ہیں البتہ لوگ میرابھی نام لے رہے ہیں۔اس آدمی کابڑاپن کہ اپنے نام سے پہلے بڑے بھائی کانام تو لیامگرہمارے ہاں تو دوسروں کی تعریف کرنے کارواج ہی نہیں ۔کہتے ہیں سیاستدان قوم کے رہنماء ہوتے ہیں جوقوم کی قیادت کرتے ہوئے معاشرہ کی تعمیر وترقی اوراپنی قوم کوخوشحال اورمہذب بنانے کے لئے معین کردہ رہنماء اصولوں کے مطابق لے کرچلنے کابیڑااٹھاتے ہیں اورمذہب ومسلک ،عقیدہ ،تاریخ، معاشرتی روایات ،اخلاقی اقدار،قومی جذبہ پرمبنی اجتماعی سوچ،قومی مفادات،محنت ولگن ،قانون کی پاسداری،تعلیم کے فروغ،فلسفہ عدم تشدد،ریاستی اداروں کے استحکام،قومی املاک کے تحفظ اورپرامن معاشرہ کی تشکیل کادرس دیتے ہیں۔ قومی رہنماء قومی جذبہ سے سرشار ہوتے ہیں جو نہ صرف حصول اقتدار کے لئے جتن کرتے ہیں بلکہ توانا،مہذب اور خوشحال معاشرہ کی تشکیل کے لئے قوم کی اخلاقی تربیت کرنا بھی ان کی ذمہ داری ہوتی ہے جواس اَمر کی نشاندہی کرتاہے کہ ان کے کرداروگفتارمیں تضاد کی گنجائش نہیں ہوگی اور وہ قول وفعل کا یکساں عملاََ مظاہرہ کرنے کے پابندہوں گے ۔اس رو سے دیکھاجائے توترقیافتہ ممالک میں ایساہی ہوتاہے وہاں قوم کی قیادت کرتے رہنماء نہ صرف قوم کوریاست کے آئین وقانون کی پاسداری کادرس دیتے ہیں بلکہ خود بھی عملاََ اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔حصول اقتدار ان کے سیاسی سفر کاایک پڑاؤ ضرور ہوتاہے مگربطور حکمران وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑے ہوتے ہیں اور ان کے سامنے منصب اقتدار کی کوئی حیثیت واہمیت نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ نااہلی پر مبنی کوئی بھی حادثہ اور واقعہ رونماء ہونے پر وہ ذمہ داری قبول کرتے ہوئے فوراََ مستعفی ہو جایاکرتے ہیں نہ کہ دوسروں پر ذمہ داری ڈال کراپنااقتداربچانے کی کوشش کرتے ہیں۔مغربی معاشرہ میں ایسی درجنوں مثالیں موجودہیں مگربدقسمتی سے ہمارے ہاں ایسانہیں ہے یہاں توجوجیتاوہی سکندر کے مصداق سیاسی سفرکی منزل محض حصول اقتدار ہوتی ہے اورحصول اقتدارواختیار کے متلاشی سیاستدان کچھ بھی کرگزر جاتے ہیں۔ہمارے سیاسی لیڈرزاپنی سیاسی ساکھ کی بہتری مخالفین پر جھوٹے الزام وبہتان لگانے اور قوم سے جھوٹے وعدے کرنے میں ہی تلاش کرتے ہیں۔توانائی بحران کاخاتمہ اور بنائیں گے نیاخیبرپختونخواکے وعدے اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ نواز شریف کی حکومت توانائی بحران ختم کرنے میں کامیاب رہی نہ ہی عمران خان کی صوبائی حکومت دو سال میں خیبرپختونخواکے اندرمثالی امن وامان کے قیام اورمعاشی انقلاب لانے کے وعدے پورے کرسکی ۔بے قابو مہنگائی اور بڑھتی بے روزگاری کی صورتحال وفاقی اورصوبائی سطح پر یکساں دکھائی دیتی ہے۔ہمارے ہاں حکومت کی نااہلی ،اداروں کی غفلت ولاپرواہی اورناقص کارکردگی کے باعث حادثات اور ناخوشگوارواقعات رونماء ہونے پر حکمرانوں کامنصب اقتدار سے الگ ہوناتوکجاذمہ داری قبول کرنے اور قوم سے معافی مانگنے کی بھی کوئی روایات نہیں ہیں۔کراچی میں مختلف فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات رونماء ہوئے جن میں درجنوں قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں مگر کوئی حکمراں مستعفی نہیں ہوا۔سانحہ ماڈل ٹاؤن میں 14شہریوں کاقتل ہوامگرحکمرانوں مستعفی ہوئے نہ ہی ذمہ داری لینے کوتیار ہیں۔حادثات کے نتیجے میں اموات اور شہادتوں پر حکمرانوں کی جانب سے افسوس کے دوبول کہہ دینے سے کیاہوتاہے اس سے زیادہ افسوس کااظہارتوقوم کردیتی ہے حکمرانوں کاکام توذمہ داری قبول کرنااوراقدامات اٹھاناہوتاہے لیکن دیکھاجائے توپل کی خستہ حالی ہو،متعلقہ اہلکاروں کی غفلت کانتیجہ ہو یاممکنہ دہشت گردی مگر گوجرانوالہ میں حالیہ پیش آنے والاافسوس ناک ٹرین حادثہ جس میں خواتین ،بچوں اور فوجی جوانوں پرمشتمل ڈیڑھ درجن سے زائدشہادتیں ہوئیں وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ،وزیراعلیٰ شہبازشریف اور وزیراعظم نوازشریف میں سے کسی ایک نے استعفیٰ دیانہ ہی اپنی حکومتی نااہلی کی ذمہ داری قبول کی حالانکہ رونماء ہونے والے اس واقعہ کاسبب جو کچھ بھی ہو ذمہ داری تو بہرصورت حکمرانوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔شدید گرمی ،بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ اور ہسپتالوں میں ناقص انتظامات کی وجہ سے شہر قائدمیں ہیٹ سٹروک کے باعث 12 سوسے زائد معصوم شہریوں کی جانیں گئیں مگرحکمرانوں پر اس کاکوئی بھی اثرنہیں ہوابے حسی کی انتہادیکھئے کہ ذمہ داری قبول کرنے اور مریضوں کی جان بچانے کے لئے اقدامات اٹھانے کی بجائے سندھ حکومت، وفاقی حکومت اورکے الیکٹرک کے حکام ایک دوسرے کو ذمہ دارٹہراتے رہے ہمارے ہاں قائم جمہوری نظام میں حقوق اور قومی مفادات کی بات توکی جاتی ہے لیکن سیاسی اداروں میں برداشت اور دوراندیش پالیسیوں کی کمی بھی بہ درجہ اتم پائی جاتی ہے۔ہٹ دھرمی پرقائم سیاسی جماعتیں مطالبات منوانے کے لئے احتجاج کاراستہ اپناتی ہیں مگراس احساس وادراک سے عاری ہوتی ہیں کہ معاشی ومعاشرتی ترقی پر اس کے کیا منفی اثرات مرتب ہوں گے اس ضمن میں دیکھاجائے تو پچھلے سال انتخابی دھاندلی کے خلاف شہراقتدار اسلام آباد میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے دھرنے واضح مثال ہے اور اس میں کوئی دورائے نہیں کہ دھرنوں کی سیاست نے ملک وقوم کومعاشی نقصان سے دوچار کیا ۔یہاں سیاسی مخالفین کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کوبڑھاچڑھاکرپیش کرنے سے اپنی سیاست توچمکائی جاتی ہے لیکن ان کے بڑے سے بڑے اچھے اقدامات کی کبھی کوئی تعریف نہیں کی جاتی یہی وجہ ہے کہ سیاسی منافرت اور تعصب فروغ پارہاہے حالانکہ ناقص پالیسیوں کی جہاں مخالفت کی جانی ضروری ہے وہیں اچھے اقدامات کی تعریف بھی ہونی چاہئے۔اگرنون لیگ کی حکومت نے ایٹمی دھماکے کئے جوملکی سلامتی کے لئے ناگزیر تھے ،موٹروے بنایالاہوراور اسلام آبادمیں میٹروبس منصوبوں کوعملی جامہ پہنایا،پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ شروع کیاہے تویہ ملک وقوم کی مشترکہ مفادکے منصوبے ہیں اور ان پر ان کی تعریف ہونی چاہئے۔دوسری جانب اگر عمران خان انتخابی اصلاحات کی بات کرتے ہیں جوکہ ملک کے جمہوری نظام اور سیاسی اداروں کے استحکام کے لئے ضروری ہے توبے جا مخالفت کی بجائے ان کاساتھ دینے کی ضرورت ہے۔جب ہمارے ایسی سیاسی سوچ فروغ پائے گی تب ملک وقوم صحیح معنوں میں ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہوگی ۔

یہ بھی پڑھیں  پنجاب کے مختلف شہروں پر دھند کا راج

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker