تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

سیاسی اُلجھنیں اور حکومتی ذمہّ داریاں

zafar ali shah logoعمران خان نے سیاست میں ہمیں بہت الجھائے رکھااب ہمیں کام کرنے دیں گزشتہ روز ایک صحافی کی جانب سے عمران خان اور ان کی جماعت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں یہ کہناتھاوفاقی وزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کا۔اگرچہ سابق حکومت میں ریلوے کی وزارت کی کاکردگی اور اس وقت کے وزیرریلوے کاطرزعمل بھی قوم دیکھ چکی تھی اورموجودہ حکومت میں ریلوے کے وزیرخواجہ سعد رفیق کی کارکردگی بھی سب کے سامنے ہے اور اس بات سے کوئی اختلاف نہیں کہ بحیثیت وزیرریلوے اب تک وہ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھاتے رہے ہیں جس کی نشاندہی میڈیا کرتارہتاہے۔جبکہ عمران خان اور ان کی جماعت نے نون لیگ کی موجودہ حکومت کومبینہ انتخابی دھاندلی اوردیگرسیاسی معاملات میں الجھائے رکھاہے کوئی اختلاف خواجہ سعد رفیق کے اس برجستہ جواب سے بھی نہیں مگر عمران خان اوران کی جماعت کی جاری سرگرمیوں اور خواجہ صاحب کی نظرآتی اچھی اور قابل تعریف کارکردگی کے تناظرمیں اٹھتاسوال یہ ہے کہ کیاصرف ریلوے کامحکمہ ٹھیک کرنے کامتقاضی ہے یا دیگرمحکمے بھی ٹھیک کرنے ہیں اور دیگر شعبوں میں بھی ضرورت ہیں اصلات کی اور انقلابی اقدامات اٹھانے کی ریلوے کے محکمے کے سواء۔ ریلوے کانظام ٹھیک ہویہ سب کی خواہش ہے لیکن ایک سال میں بجلی بحران کاخاتمہ کریں گے یہ دعویٰ تھامسلم لیگ نون کااقتدارمیں آنے سے قبل اور قوم نہیں بھولی وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کے ان جذباتی تقاریرکوجس میں وہ بجلی کے بحران پر قابوپانے کے لئے سال او ر مہینوں کا ٹائم فریم دیاکرتے تھے مگر نون لیگ کے اقتدارمیں آنے اور ایک سال کی حکومتی مدت گزرجانے کے بعد آج ملک میں بجلی کے بحران کی حالت کیاہے وجود رکھتے یہ زمینی حقائق بھی قوم کے سامنے ہیں۔اس ضمن میں قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے ملک سے بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے لئے حکومت کو فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیاہے۔انہوں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے اورسرکلرڈیٹ کے حوالے سے 450ارب روپے کی اَدائیگیوں کے باوجود صورتحال وہیں کی وہیں ہے ملک میں بجلی کی ضرورت 22ہزار میگاواٹ ہے جب کہ سات ہزار شارٹ فال کے ساتھ پیداوار محض 15ہزار میگاواٹ ہے۔اراکین قومی اسمبلی کے مطابق ماہِ رمضان المبارک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کرنے کو یقینی بنایاجائے۔ لوڈشیڈنگ سے پیداہونے وال صورتحال پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلزپارٹی کے سید نویدقمرنے کہاہے کہ گزشتہ سال کی طرح اب بھی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے اہل اقتدار نے بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرانے کے دعوے کئے تھے مگر سچ تو یہ ہے کہ ہم جہاں تھے وہیں آج بھی کھڑے ہیں۔ان کے مطابق450میگاواٹ بجلی نیشنل گریڈمیں شامل کی گئی جبکہ حکومت نے وقتی طورپرگیس سی این جی اور انڈسٹری سے منتقل کرکے پاورپلانٹ کو دی یہ اس مسئلے کا وقتی حل توہے مگر مستقل نہیں۔اگرچہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے معاملے پر حکومت وقت کونشانہ تنقید بنانے والے سید نویدقمراپنی جماعت پیپلزپارٹی جوکہ اس سے قبل پانچ سال تک حکومت میں رہی ہے کو اس معاملے کی ذمہ داری سے مبرانہیں قرارنہیں دے سکتے کیونکہ اس دورحکومت میں توانائی بحران کی حالت کیاتھی قوم وہ بھی نہیں بھولی ہے تاہم پیپلزپارٹی کادوراقتداراب چونکہ ماضی کا قصہ ہے اور اس وقت مسلم لیگ نون برسراقتدارہے توجب تک اقتدارمیں رہے گی کسی بھی معاملے کی ذمہ داری بھی بہرحال نون لیگ کے سر ہوگی۔مگر نظرآتی صورتحال کے پیش نظر بجلی کے بحران کا خاتمہ ممکن ہے نہ ہی فوری طوربجلی کی لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے نمایاں آثاردکھائی دے رہے ہیں اوراس کے خدوخال کو پانی وبجلی کے وفاقی وزیرخواجہ آصف نے واضح الفاظ میں بیان کیاہے کہ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ فوری طورپرختم نہیں ہوسکتی البتہ اس میں کمی ہوجائے گی۔گزشتہ روز پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنایہ تھاکہ وزارت خزانہ کی جانب سے 31ارب روپے جاری کئے گئے ہیں جس سے دوہزار میگاواٹ بجلی کی پیداوارمیں اضافہ ہوگااور حکومت پونے دو ملین کیوبک گیس اور اضافی تیل پاورپلانٹس کو دے رہاہے۔ان کے مطابق ملک بھر میں روزانہ چھ سے سات گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوگی۔خواجہ آصف نے کہاہے کہ ایک ہزار ارب روپے پاکستان کو بجلی چوری میں خسارے کاسامناہے اور چورچورہوتاہے چاہے بجلی کا ہویاکسی اور چیزکاتاہم خیبرپختونخوا میں بجلی چوری کم ہوئی ہے ۔وثوق سے نہیں کہاجاسکتاکہ واقعی خیبرپختونخوامیں بجلی چوری کم ہوئی ہے یا خواجہ آصف نے پانی وبجلی کے وزیرمملکت عابد شیرعلی کے اقدامات کے خلاف عوامی غم و غصے میں کمی لانے کے لئے ایساکہاہے ۔ دوسری جانب اگرچہ بجلی کی لوڈشیڈنگ نے نہ صرف عوام کی زندگی کواجیرن کردیاہے بلکہ اس سے ملکی معیشت کاپہیہ بھی جام ہورہا ہے ایسے میں منتخب عوامی حکومت پریہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ عوام کی خوشحالی اورمعاشی استحکام کی خاطر اس معاملے پر قابوپانے کی غرض سے ٹھوس اقدامات کرے۔بہرحال ذکر ہورہاتھاوزیرریلوے خواجہ سعد رفیق کی کارکردگی کااور اس لب کشائی کا کہ عمران خان نے ہمیں سیاسی معاملات میں بہت الجھائے رکھااب ہمیں کام کرنے دیں تو اس حوالے سے یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیرریلوے جس چابکدستی ،تندہی اور ذمہ داری کے ساتھ اپنے فرائض منصبی اداکررہے ہیں اسی طرح کا قابل تعریف وتقلید کام د
یگر شعبوں اور حکومتی اداروں میں نظرآناچاہئے دوسری جانب معاملہ ہو مبینہ انتخابی دھاندلی کایاکوئی اور۔اگرچہ احتجاج کرناعمران خان کا آئینی،جمہوری وقانونی حق ہے مگرایشوزپراحتجاج کرتے ہوئے حکومت کو سیاسی معاملات میں الجھائے رکھنے کے ساتھ ساتھ انہیں سنجیدگی سے اس ذمہ داری کااحساس و ادراک بھی کرناہوگا کہ ایسی سرگرمیوں سے قومی اور عوامی مفادات متاثرنہ ہوں اور یہ بھی نہ ہو کہ عوامی مسائل کے میں ناکام حکمران کل کو حالات کا ذمہ دارانہیں ٹہراکر اوراپنادامن بچاکر ان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سعی کریں جبکہ اقتدارسے قبل یہ کریں ،وہ کریں گے،یہ ہوگااور وہ ہوگامگر حصول اقتدارکے بعدعوامی مسائل کے حل میں ناکام رہنے والے حکمرانوں کا اقتدارچھوڑنے پر یہ کہناکہ ایساہوتااگر ایسانہ ہوتابھی ہمارے روائتی سیاسی کلچر کا حصہ ہے اورجب تک بدلانہیں جاتااس طرزسیاست کونظراندازکرناغیردانشمندانہ سوچ ہوگی اور ایساکرنے کی حامل سیاسی جماعت اس کا نقصان ہی اٹھائے گی فائدہ کچھ نہیں۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button