پاکستانتازہ ترین

تمباکونوشی پھیپھڑوں کے کینسر اور دل کی بیماریوں کاباعث ہے، طبی ماہرین

smokingلاہور(نامہ نگار) ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق سگریٹ نوشی سے دنیا بھر میں سالانہ 6 ملین افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اگر سگریٹ نوشی کا موجودہ رجحان اسی طرح برقرار رہا تو بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اس عمل کے ذریعے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 2030 تک آٹھ ملین سالانہ تک پہنج سکتی ہے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق تمباکو نوشی کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں میں سے بیشتر کا تعلق کم یا درمیانے درجے کی آمدنی والے گھرانوں سے ہو تا ہے۔ ماہ صیام کے روزے رکھ کر تمباکو نوشی سے باآسانی نجات پائی جا سکتی ہے۔اِن خیالات کا اظہار گلوبل ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر ڈاکٹر ظفر اقبال میاں، جنر ل سیکرٹری ڈاکٹر سلیم اختر اور سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر محمد افضل میونے گلوبل ویلفیئر آرگنائزیشن کے زیر اہتمام انسداد تمباکو نوشی کے عالمی دن کے حوالے سے لنک رود ماڈل ٹاؤن لاہور میں منعقدہ مجلس مذاکرہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اُنھوں نے بتایا کہ تمباکو نوشی پھیپڑوں کے کینسر اور سینے، دل کی بیماریوں کا باعث ہے۔جس میں شامل نگوٹین کا اثر ہیروئن سے بھی زیادہ خطر ناک ہے۔ سگریٹ روزانہ زندگی کے گیارہ قیمتی منٹ کم کرتا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے بھی اس کے مضر اثرات کے باعث اسے مکروہ قرار دیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ سگریٹ نوشی ایک نشہ ہے جس کو ترک کرنے سے جسم پر کچھ منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جنہیں مختلف ادویات سے با آسانی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ فالج اور دل کی دیگر امراض کی بڑی وجہ سگریٹ نوشی ہے۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ تمباکو نو شی ترک کر کے پاکستان میں ہونے والے 5% کینسر کے امراض سے با آسانی بچا سکتا ہے۔ منہ کے کینسر کی بڑی وجہ پان اور گٹکے کا استعمال ہے۔اُنھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انسداد تمباکو نو شی کے حوالے سے قوانین پر سختی سے عمل کرایا جائے تاکہ صحت مند معاشرہ کا قیام عمل میں آ سکے۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button