بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

سونامی اور سونی لٹکتی تلوار۔۔۔۔!!!!

حکمران عوام کی ذہینی و فکری بنیادوں کا عکس ہوتے ہیں۔عوام میں شعور و تعلیم جتنا زیادہ ہو گا حکمران اسی سطح کے با صلاحیت ہونگے۔عوام جتنی پست ذہنیت ،جہالت،تعصب اور مخصوص خول میں مقید ہونگے تو ان پر حکمران بھی نا اہل ،کرپٹ اور بہروپیئے مسلط ہونگے۔قیادت عوامی ذہین سے جنم لیتی ہے۔مغرب میں مثالی سیاسی کلچر کی آبیاری میں مخلص سیاسی کارکنوں،با کردار اساتذہ کرام،ماہرینِ تعلیم،بے باک صحافیوں،اہل نقاددوں،عظیم فلسفیوں اور حالات کے مد و جذر پر گہرائی و گیرائی رکھنے والے دانشوروںکا بنیادی کردار ہوتا ہے جبکہ ہمارا سیاسی نظام مفاداتی،وارداتی اور حادثاتی عناصر سے مرکب ہے۔خوشامدی ٹولے اور دیہاڑی دار ہمارے لیڈروں کی قسمت کے آمین بن گئے ہیں۔انتخابات میں دولت کا بے دریغ استعمال،برادری ،علاقائی،لسانی،فرقہ پرستی جیسے تعصبا ت بطور ہتھیار کامیابی کا زریعہ بنائے جاتے ہیں۔دھوکہ دہی اور مکرو فریب کو سچائی کا رنگ دیکر لوگوں کو بیوقوف بنایا جاتا ہے۔ہمارے سیاسی کلچر میں مسندِ اقتدار پر فائز ہونے والے کا پہلا کام یہ ہوتا ہے وہ چن چن کر اپنے مخالفین سے بقدر جثہ انتقام لینا اپنا حق سمجھتا ہے۔ ملازمین کی تقرریاں ،تبادلے اپنے گماشتوں کی رائے سے کئے جاتے ہیں،قومی فنڈز ان کے جدی پشتی وراثت ہوتے ہیں ، جس کی تازہ مثال گذری عید سے لگائی جا سکتی ہے کہ آذادکشمیر میں ملازمین کو عید کے بابرکت موقع پر ان کی اپنی تنخواہ نہ مل سکی بلکہ 8،8لاکھ روپے لیکر وزرائ اور ارکان اسمبلی رفو چکر ہو گئے تاکہ کوئی انکے کپڑے نہ پھاڑے اور وہ جنات کی طرح ایسے غائب ہوئے کہ جیسے انہیں کارون کا خزانہ مل گیا ہے۔حیران کن امر یہ ہے کہ اربوں روپے زکوۃ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھی عوام عید پر محروم رکھے گئے۔ حالانکہ وفاق حمایت یافتہ حکومت ہونے کے باوجود ایسی صورت حال باعث تشویش ہے۔یہ حالات ایسے خطے کے ہیں جو ارضِ وطن کے کسی ایک ڈویثرن کے برابر رقبہ اور آبادی تک محیط ہے۔
میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
ٍ تماش بینی کا یہ عالم ہے کہ عوام کو مہنگائی نے مارا ہوا ہے اور جو کسر باقی رہی ہے وہ ہمارے ہی ہاتھوں سے ہمارے جسمِ ناتواں کو نوچا جا رہا ہے ،ایسی عوام کی کمر ادھیڑی جارہی ہے کہ جیسے عوام کو ان کا جائز حق دیا جا رہا ہو۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عوام اسی لائق ہیں کہ انہیں مختلف حیلے بہانوں سے 5سال کے لئے یرغمال بنا دیا جائے؟ گزشتہ دنوں چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے خطرناک اشارہ دیا ہے کہ آئندہ انتخابات شفاف نہ ہوئے تو بیلٹ کے بجائے’’ بولٹ ‘‘کا خطرہ ہے ۔ان کا یہ کہنا معمولی نہیں ،دال میں کچھ کچھ کالا کالا ضرور ہے۔ اب توکابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے تعین کے لئے پہلے ماہوار پھر15روزہ کی بجائے ہفتہ وار تعین کرنے کی سمری منظور کر لی ہے ۔نا جانے ایسے عوام دشمن ماہرین ہمارے کندھوں پربیٹھ گئے ہیں جن کا مشن یہ ہے کہ کس طرح عوام کی چمڑی اتاری جائے؟قوی امکان ہے کہ عام انتخابات تک روزانہ کی بنیاد پر نرخوں کا تعین شروع ہو جائے گا جس سے آنے والی حکومت کو لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔
عوام سے عوام کی عوامی حکومت کا تقاضہ ہے کہ وہ عوامی مسائل کا ادراک کرتے ہوئے جمہوریت کو داغدار نہ ہونے دے۔عوام کو بھیڑ بکریاں نہ سمجھا جائے۔ملک بھر میں ابھی جزوی طور پر سیلاب کی اطلاعات اور آمدہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کی جانی از بس ضروری ہے۔سیاسی کلچر کو عوام دوست بنانے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں تاکہ عوام جمہوریت کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔مخص پروٹوکول لائف انجوائے کرنے سے عوام کے دلوں پر راج نہیں کیا جا سکتا ہے۔
رسل و رسائل پر توجہ مرکوز کی جائے ۔اربوں روپے اللوں تللوں پر خرچ کر دیئے جا تے ہیں ،عوام کی بڑی تعداد دیہی علاقوں میں زندگی بسر کر رہی ہے جبکہ رابطہ سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ان کی پختگی کی جائے ۔بے شمار ہسپتال اور طبی مراکز ہونے کے باوجود ابھی تک عوام کو مکمل طبی امداد اور علاج معالجہ میسر نہیں اس مسئلے کا حل نکالا جائے ،تعلیمی نظام کو بہتر بناکر جہالت کے مہیب سائے سے چھٹکارہ دلایا جائے،صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں کو ترجیح دی جائے ،اشیائ خوردونوش پر سبسڈی دیکر عوام کو ریلیف مہیا کیا جائے، جملہ بنیادی مسائل کے حل کے لئے وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ایک صحت مند ،خوشحال اور ترقی پسند معاشرہ تشکیل پا سکے۔اگر حالات کی نزاکت ،خدشات اور خطرات کا احساس نہ کیا گیا تو پھر پاکستان میں سونامی خان اور آذادکشمیر میں سونی خان کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔واضح رہے کہ انقلاب کے نئے داعی پاکستان تحریک انصاف کے عمران خان اور آذادکشمیر میں پبلک رائٹس پارٹی کے عثمان حیدر سونی جس انداز سے نوجوانوں میں مقبول ہو رہے ہیں اس سے ہمارے سیاسی رہنماوں کو گہرائی کے ساتھ اپنی خامیوں کے تدارک کے لئے خداداد صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کی اشد ضرورت ہے ورنہ’’ ہنوز دلی دور است‘‘ کی ماندکہیں مار نہ کھا جائیں۔

یہ بھی پڑھیں  کورونا : 24 گھنٹے کے دوران 59 اموات، 3009 نئے مریض رجسٹرڈ

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker