تازہ ترینصابرمغلکالم

معذرت

بسا اوقات انسان کو کچھ ایسی مجبوریاں،مایوسیاں یا ترجیحات گھٹاٹوپ اندھیرے،تپتے صحرا میں لے جا پھینکتی ہیں کہ اپنی اصل ڈگر،معمولات،ذمہ داریوں یا سماجی رشتوں سے ہٹ کر رہ جاتا ہے،الراقم جب سے اپنی ٹوٹی پھوٹی تحریروں کے ذریعے عوامی جذبات کرنے کی سعی میں ہے تب سے تیسری مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ مجھے اچانک کسی ناگزیر وجوہات کی بنا پر قارئین سے دور رہنا پڑا،اس دوران جہاں عام عوام کی حالت پر دل خون کے آنسو روتا وہیں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جو ہمیں بھی پڑھتے ہیں،ہماری تحریروں کا بھی انتطار کرتے ہیں،یہاں تک کہ قارئین کے ساتھ ساتھ کئی محترم ایڈیٹرز نے کال کر کے پوچھا آپ کی تحریریں کیوں نہیں آ رہیں،خیریت تو ہے؟ان سبھی مہربانوں کی ذرہ نوازی کا تہہ دل سے شکریہ اور معذرت،اس دوران کئی نوعیت کے معاملات رہے جنہوں نے امبربیل کی طرح گھیرے رکھا،یوں اپاہج کر کے رکھ دیا کہ مجھے اپنوں سے ہی دور رہنا پڑا،در حقیقت انسان جو کچھ سوچتا ہے وہ ہوتا نہیں،ہر چیز سے بے نیاز قدرت کے کام نرالے،انوکھے اور منفرد ہیں،کئی مجبوریوں اور لاچاریوں میں سے ایک ایسا واقعہ بھی ہے جو تاحال رلاتا رہتا ہے میرے بہنوئی نور احمد مغل کی اچانک علالت اور پھر ایک ماہ بعد اس جہان فانی سے کوچ کر جانا،(اللہ پاک ان کی مغفرت عطا فرمائے آمین)،گذشتہ چند ماہ کے دوران انتہائی اہم،حساس اوردل و دماغ کو ریزہ ریزہ کر دینے والے ملکی حالات جن کا تعلق براہ راست غریب عوام سے ہے موضوعات سامنے آئے مگر ان پر طبع آزمائی سے قاصر رہا،یہ جو عوام کا کچومر نکال دیا گیا انہیں نیم مردہ کر دیا گیا،ان کے چہروں کی روشنی چھین لی گئی،ان کے جسموں سے قوت کو سلب کر لیا گیا،انہیں اپاہچ،لولا لنگڑا بنا دیا گیا،ان کے اور ان کے بچوں کے منہ میں جانے والے نوالے کو چھین لیا گیا،انہیں مثبت معاشی اشاریے کا راگ الاپ کر بد حال سے مزید بد حال کر دیا گیا،اس پر قوم سے بڑا مذاق یہ کہ جو لٹیرے اور جونکوں کی طرح ماضی میں عوام کا خون چوسنے والے بھی اس وقت پھر سے مسیحائی کا کاسہ لے کر چیخ اور چنگھاڑ رہے ہیں،عوامی ہمدردی اورحکومتی نا اہلی پر ان کی آواز سب سے بلند بلکہ پہاڑوں سے ٹکرا کر واپس ملک بھر میں گونج رہی ہے، مگر ان میں نہ تو کچھ غیرت ہے اور نہ ہی کچھ شرم،ملکی راز تک فاش کئے جا رہے ہیں،موجودہ حکومت کی عوام دشمنی پر بعد میں آتے بلکہ اس پر چند روز میں ایک باقاعدہ نوحہ لکھیں گے مگر یہ عوام کے مامے چاچے جنہوں نے ملک کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا تھا،ہر اہم قومی ادارے کو زبوں حالی کی گہرائیوں میں پھینک کراپنی حالت کو شہنشائیت میں بدل لیا،سوال پیدا ہوتا ہے انہوں نے اپنے سابق ادوار میں عوام کو کیا دیا؟مفلسی،بھوک،ننگ،پیاس،تعلیم اور صحت کی سہولیات سے دوری،وہ کھاتے رہے،گندے اور بدبودار پیٹ بھرتے رہے مگر گٹر زدہ سوچ کے حامل ایسے لعنتی کرداروں کے پیٹ پھر بھی نہ بھرے،اب انہوں نے ہی اپنی پوٹلیوں سے ڈگڈیاں نکال کر پھر سے عوام کو نچانے کا تماشہ شروع کر دیا ہے،اب سیاسی موسم کو تمام تر وسائل جھونکتے ہوئے انتہائی تپش کے دہانے پر پہنچنانے کی کوشش کی جا رہی ہے کاش ایسے ہی وسائل عوام پر حقیقی طور پر لگا دئیے جاتے،انہوں نے اپنی اپنی ڈفلیاں اب بھی عوامی مفاد میں بلکہ جیسے سانپ کی دم پر پاؤں آ جاتا ہے کے مصداق ہے،دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے جو درگت عوام کی بن چکی اور بن رہی ہے استغراللہ،عوام کو نہ تو لیڈر کی ایمانداری سے کوئی غرض ہے نہ ان کی عوام دوست پالیسیوں کی کیونکہ اس ایمانداری یا عوام دوست پالیسی کا فائدہ جو عوام کو ہی گندے پانی کے جوہڑ میں ڈبکیاں دے دے کر مار دے،عمران خان نہ جانے کس دنیا میں چلے گئے ہیں ان کے ارد گرد لگڑ بگڑ جو روزانہ کی بنیاد پر عوامی ہمدردی کے ٹسوے بہاتے ہیں،ان کے وزراء کی ترنگ ہی نرالی اور مضحکہ خیز ہے،نئی نئی عوام دوست پالیسیوں کی بابت اجلاسوں کا انعقاد کیا جاتا ہے مگر وہ ثمرات کدھر ہیں اور عوام کدھر ہے؟ عوام کی خواہشات کا قتل عام یوں ہو رہا ہے جیسے دن دیہارے سانحہ مادل ٹاؤن پیش آیا جیسے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی پیش آیا،عوام پر اتنا ظلم،اتنی زیادتی،اسی ظلم و زیادتی کی وجہ سے ہمارہ معاشرہ بیگاڑ کی اخیر پر پہنچ چکا ہے،ایسی گورنس ہوتی ہے جو روز مرہ کی اشیاء کی قیمتوں کو ہی کنٹرول کر سکے،پنجاب کی بات کی جائے تو ہر ضلع میں مجموعی طور کرپٹ اور راشی افسران تعینات ہیں اور جو ایماندار ہیں انہیں چلنے نہیں دیا جاتا،انتظامی سطع پر ایسی بد اعمالی کس نے کنٹرول کرنی ہے؟ایک جانب نئی پالیسیاں بن رہی ہیں،فیتے پر فیتہ کاٹا جا رہا ہے اور فیتے کی ہی طرح عوام کٹ رہی ہے،مقدس پارلیمنٹ کی دیواریں عوامی مفادات پر مبنی باتوں کو ترس گئی ہیں،کروڑوں روپے مالیت کے اجلاس میں صرف لعن طعن ہی بچی ہے،ایسی اشرافیہ کے خیال میں ایسی لعن طعن ہی سے عوام کا گذارہ اچھی طرح ممکن ہے،اسی سے انہیں راحت اور سکون ملتا ہے ان کی غذائی ضروریات پوری ہو جاتی ہیں،ہماری اشرافیہ کو یہ انجر بنجر عوام کی نکلتی اور سوکھتی ہڈیاں نظر نہیں آتیں،اس حوالے سے یہ بہرے،اندھے،کانے اور لولے لنگڑے ہیں،عوام مر گئی مگر اشرافیہ بہت تروتازہ ہے یہ حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں ان کی آسودگی سدا بہار ہے مگر جن کی نسلیں کسی بہتری کی امید میں خاک ہو گئیں ان کا حال وہی ہے کسی گندی نالی کے کیڑے مکوڑوں کا ہوتا ہے،دو سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے عوام کسی بہتری کی امید اور آس میں لاشوں میں بدلتے جا رہے ہیں،ان کا سکون غارت ہو چکا ہے،خدا کرے وہ بھی ایسے برباد ہوں جنہوں کے عوام کے حقوق غضب کئے،ہر چیز پر ٹیکس دینے والے سہولیات سے محروم اور ٹیکس چور عوام کی قسمت کے مالک،کیا عجب مذاق اور تماشہ ہے، عوام کی ذلت آمیز زندگی پر کچھ الیکٹرانک میڈیا کی بھی بات ہو جائے،تمام نہیں مگر مجموعی طور پر اکثریتی نجی ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز جو ہوتے بھی پرائم ٹائم میں ہیں وہاں روزانہ کی بنیاد پر ان کی مفاداتی پالیسی مطابق اینکر پروگرام کا بتدائیہ یوں بیان کرتا ہے جیسے اس جیسا یا اس کے پروڈیوسر جیسا ملک بھر میں عوام کا کوئی اور خیر خواہ نہیں،جیسے ہی ابتدائیہ کے بعد بلائے گئے مہمانوں کا تعارف شروع ہوتا ہے تب دل چاہتا ہے بندہ ٹی وی ہی توڑ دے،وہی گھسے پٹے چاپلوس،وہی چمچے،وہی کڑچھے اپنی اپنی پارٹی یا اپنے لیڈران کی مدح سرائی اور کرپشن کے باوجود اس قدر ڈھٹائی کا مطاہرہ کرتے ہیں سر شرم سے جھک جاتا ہے،آفرین ہے ایسے اینکرز پر،ایسے پروڈیوسرز پر اور ایسے مالکان پر،بہرحال مجھ جیسی میری عوام معذرت چاہتا ہوں آپ کی بزم محبت سے کچھ دن غائب رہا،امید ہے بندہ نا چیز کی معذرت قبول فرمائیں گے سوچتا ہوں آپ کی بے انتہا محبتوں کا شکریہ کیسے ادا کروں؟

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!