تازہ ترینکالممیرافسر امان

سوشل میڈیابمقابلہ امریکی فنڈڈ میڈیا

سنیٹر جان کیری لوگر بل کی بہت سی شِکوں میں سے ایک شِک یہ بھی ہے کہ امریکا پاکستان کے اداروں کو خود مدد فراہم کرے گا کیوں کہ پاکستان حکومت کرپشن میں ملوث ہے۔ اب نہ جانے کس کس بیرونی اور اندرونی این جی اوئز کو کتنا کتنا فنڈ مہیا کیا گیا اور اِن این جی اوئز نے اس فنڈ کو پاکستان مخالف مددوں میں خرچ کیا۔حال ہی میں پرنٹ میڈیا نے اِن این جی اوئز کو بے نقاب بھی کیا تھاجس میں سیودی چلڈرن شامل ہے۔اسی طرح امریکہ نے ۵۰ ملین ڈالر پاکستانی میڈیا کو فراہم کئے ہیں اس کا چرچا بھی میڈیا میں آچکا ہے۔اس فنڈ کے علاوہ اشتہارات کی مد میں بھی میڈیا مالکان کی مدد کی گئی ہے میڈیا اس مدد کے عوض بقول ایک کالم نگار اسلام کے خلاف شیروں کی طرح دھاڑتا،بھیڑیوں کی طرح تکہ بوٹی کرتا اور فاتح کی طرح رقص کرتااسلام کو بدنام کرتا رہا ہے۔جس کی مثال سوات کی کوڑوں والی لڑکی، کوہستان کی شادی میں ناچ والی لڑکیاں ،رمشا لڑکی اور اب ملالہ یوسف زئی کی جھوٹی داستان ہے۔
مسلمانوں کے خون سے آلود ہاتھوں والے باراک اوبامہ، ہلیری کلیٹن ،بان کی مون ،غیر ملکوں کے صدور ایک بچی کے غم میں مبتلا ہیں۔ خود پاکستان کے صدر ،وزیر اعظم، فوج کے سربراہ،این جی اوئز ،سیکولر سیاست دان بلکہ تمام دنیاملالہ یوسف زئی معصوم بچی کے غم میں مبتلا ہو گئی۔ اقوام متحدہ اور پاکستان سمیت ملالہ ڈے بھی منایاجا چکاہے اب ڈونر کانفرنس ہونی ہے ۔ بدنامی کا سلسلہ چل پڑا ہے جو نہ جانے کہاں جا کر رکے۔ نائن الیون جیسا ماحول بنا کر اسلام اور خصوصاً پاکستان کو نشانہ بنا لیا گیا ہے۔ پہلے امریکا اور مغرب نے پاکستان کے تعلیمی نصاب مشرف حکومت میں تبدیلی کی،پھر موجودہ حکومت اور اب اقوام متحدہ کے تعلیمی مشن کے سربراہ ملالہ کے واقعے سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے باقی ماندہ کاروائی کرنے آ چکے ہیں ۔اسی ڈالر کی چمک کی وجہ سے ایک جعلی کوڑوں والی فلم کا ڈرامہ رچا کر میڈیا نے سوات آپریش کرنے میں مدد دی فراہم کی تھی اب ملالہ معصوم بچی کے ڈرامے کے تحت شمالی وزیرستان آپریشن کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی مگر انسان بھولنے کا عادی ہے ۔ امریکی حواری ،ملکی اور غیر ملکی میڈیا یہ بلکل ہی بھول گیا کہ شیطان کی چالوں کے سامنے اللہ کی چال بھی کام کر جاتی ہے یعنی ’’ مکرُو مکرَاللہ‘‘ ۔ ان جھوٹوں کے سامنے اللہ نے سوشل میڈیا کو کھڑاکر دیا۔ مصر میں سوشل میڈیا کی ہی وجہ سے دس دس اور چالیس چالیس لاکھ لوگ تحریر چوک میں جمع ہوتے تھے اور ایک امریکی پٹھو ڈکٹیٹر سے مصری قوم کو نجات ملی تھی اسی طرح ملالہ کے معاملے میں بھی سوشل میڈیا میں خوشگوار شروعات سامنے آئیں ہیں ۔ سوشل میڈیا نے امریکی فنڈڈمیڈیا کا مقابلہ کرتے ہوئے اس معا ملے کو پاکستانی عوام کے سامنے بے نقاب کیا۔ یہ بات عام ہو گئی ہے کہ گل مکئی کے نام سے ڈائریاں بی بی سی کے رپورٹر اور ملالہ کے والد کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے اس میں اسلام ،فوج اور پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔رپورٹر ترقی پا کر بیورو جیف بن گیا اور ملالہ کے والدین کو گرین کارڈ مل جائے گا۔ ملک کی دینی سیاسی؍ جماعتوں نے بر وقت مداخلت کر کے شمالی وزیرستان آپریشن کو نہ ہونے دیاورنہ وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے تو کہہ دیا تھا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن پر غور ہو رہا ہے آپریشن کا فیصلہ سیاسی اور عسکری قیادت کرے گی۔ سوشل میڈیا کے مطابق دو برس پہلے ملالہ اپنے والد کے ساتھ خفیہ طریقے سے امریکی حکام سے ملتے رہے جس کی حقیقت کا نیویارک ٹائم نے انکشاف کیا ہے یہودی فلم میکر ایڈم بی ایلک نے یہ وڈیو تیار کی تھی اس کے کلپس سوشل میڈیا نے جاری کر دئیے ہیں۔۲۰۰۹ء میں ملالہ ۱۱ سال کی تھی کیا اتنی عمر کی بچی اوبامہ میرا آئیڈل، برقعہ پتھر دور کی نشانی اورداڑھی دیکھ کر فرعون کا دور یاد آجاتا ہے کا سوچ سکتی ہے۔ رپورٹرنے اپنا چہرا داڑھی اور ٹوپی پہن کر تبدیل کیا تاکہ عام لوگ پہچان نہ سکیں۔رچرڈ بالبروک،برگیڈئر ماٹن جونز،امریکی سفیر کے ساتھ ملالہ اوراس کے والدین کی تصویریں ساشل میڈیا پر جاری ہو چکی ہیں۔ امریکی امداد کے پیکٹس گاڑی میں لوڈ کرتے ہوئے ضیاالدین یوسف زسف زئی کے فوٹو بھی جاری ہو چکے ہیں۔ملالہ جس کو سر میں گولی لگی ہوئی تھی سرخ کپڑے پہنے اپنے باپ کے سات ہیلی کاپٹر پر بیٹھنے کے لیے دوڑ رہی ہے اور لوگ ساتھ ساتھ اسٹریچر خالی لے جا رہے ہیں اس کے بعد پشاور ہسپتال میں تصدیق کے لیے ان ہی سرخ کپڑوں کی نشان دہی کے کلپس ؍ فوٹوبھی جاری ہو چکے ہیں۔ اخباری رپورٹس کے مطابق پہلے ڈاکٹروں نے ، بلکہ برطانوی ڈاکٹروں نے کہا کچھ د ن آرام مطلوب ہے مگر دوسرے دن ہی پشاور کے ملٹری ہسپتال میں سر سے گولی نکال لی گئی ہے ساتھ میں جہاں گولی لگی وہاں سے نشان بھی غائب ہو گیااس مسیحا ہسپتال پر قربان جائیے۔پہلے ایک طرف نشان تھا پھردوسری طرف ہو گیا اور پھر نشان نہ دائیں طرف نہ بائیں اور ماتھا بلکل صاف ہے۔ تصویر سے صاف نظر �آرہا ہے کے سر آپریشن میں بال نہیں کاٹے گئے۔ہمیشہ کی طرح طالبان نے ذمہ داری قبول کی تھی پھر نہ جانے اس

یہ بھی پڑھیں  گوجرانوالہ:ڈائریکٹرلیبرگوجرانوالہ ضیغم عباس مظہر کا پٹرول پمپس اورCNGاسٹیشنوں پرچھاپے

دفعہ انکار کیوں کر دیا۔امریکہ میں ہر روز ۵۴۰۰ عورتیں ریپ کا نشانہ بنتی ہیں اس پر کسی نے ڈاکومنٹری نہیں بنائی۔ملالہ کے ساتھ دوسری دو لڑکیاں کیا قوم کی بچیاں نہیں تھیں جن کا دو دن تک کسی نے ذکر تک نہیں کیا تھا۔ڈرون حملوں میں ،خصوصاً ۲۴ مئی کو اپائچ ہونے والی بچیاں قوم کی بچیاں نہیں۔۱۲ اکتوبر کو اورکزئی ایجنسی پر ڈرون حملے میں جان بحق ہونے والے ۴۱ لوگ انسان نہیں۔ غزہ میں اسرئیلی کے ۸۰۰ ہوائی حملوں میں شہید ہونے والی بچیوں کو میڈیا نے اُتنی کوریج کیوں نہیں دی جتنی ملالہ یوسف زئی کو دی گئی۔
قارئین ! قوم کی بیٹی ملالہ پر حملہ یقیناً ہوا تھا مگر یہ حملہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کے لیے کیا گیا تھا ۔معمولی واقعے کو کو رنگ دے کر پوری دنیا میں پاکستان اور اسلام کو بدنام کیا گیا۔اس میں ہمارا اور بین القوامی میڈیا شامل رہا ہے۔ دُکھ تو اس بات کا ہے کہ پاکستان کی امریکی غلام حکومت اور اس کے سارے ادارے اس میں شامل ہو گئے ہیں۔اس سے قبل اُسامہ کا بہانہ بنا کر افغانستان پر حملہ،صدام کابہانہ بنا کر عراق پر حملہ،طالبان کا بہانہ بنا کر سوات اور جنوبی وزیرستان پر حملہ اور اب ملالہ کا بہانہ بنا کر شمالی وزیرستان…ملک دشمنوں ! اب سوشل میڈیا چیخ چیخ کر اپنی قوم کا مقد مہ لڑے گا اور انشاء اللہ جیسے تمہارا یہ جھوٹ ناکام بنایا ہے آئندہ بھی ہر معاذ پر تمہیں شکست دے گا انشاء اللہ۔

یہ بھی پڑھیں  ساہیوال: جعلسازوں نے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کے اہم منصوبے ای خدمت سنٹر کو ناکام بنانے پر کمر کس لی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker