تازہ ترینصابرمغلکالم

سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور الطاف حسین

sabirقیام پاکستان کی 68سالگرہ سے 8روز قبل جمہوریت کے شہسواروں نے ۔دنیا کی عجب ،معتبر اور منفرد ترین جمہوریت کو ایک بار پھر اپنی مرضی و منشا کے مطابق ٹریک پر چڑھا دیا،آئین او رقانون کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی گئیں،آئین او رقانون پر معاشرے کے رویوں کا مکمل دارومدار ہوتا ہے،افراد،ادارے اور ریاست ہمیشہ آئین اور قانون کے تابع ہوتے ہیں آئین اور قانون ان کے تابع نہیں ہوتے۔مگر آئین کی جتنی تضحیک اور دھجیاں اس دور میں بکھیری جا رہی ہیں اس کی مثال نہیں ملے گی،وہ لوگ جو بیٹھے ہی قانون ساز اسمبلی میں ہیں ،قانون بناتے ہیں قانون میں ترامیم کرتے ہیں مگر خود کو اس پر عمل پیرا رکھنا شاید ان کی سب سے بڑی توہین ہے،یہ سب کچھ بالائے طاق رکھتے ہوئے اسے اپنی مرضی و منشا کے مطابق استعمال کر لیتے ہیں،یہ قومی نگہبان اور سراہابان جب آئین شکنی پر اتر آئیں تب وہ کسی کو غدار یا حب الوطنی ۔کا سرٹیفکیٹ دینے میں ذرا تحمل نہیں کرتے،وہ آئین جو کسی ریاست کی بقا کے لئے بنیاد ہے سارا ریاستی ڈھانچہ آئین پر ہی کھڑا ہوتا ہے اور اگر کوئی مقتدر شخصیت ہی آئین سے انحراف کرے تو اسے کیا کہا جائے؟اس کے تمام ساتھیوں کو کیا لقب دیا جائے؟پاکستان میں معمولی جرائم پیشہ عناصر جو انہی حکمرانوں کی ناقص اور بد ترین پالیسیوں کی بدولت جرائم کی دلدل میں پھنستے ہیں سالوں جیلوں میں سڑتے رہتے ہیں اور جو آئین اور قانون کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں وہ ایوانوں میں ہیں۔ ،سپیکر آئینی اور قانونی طو رپر غیر جانبدار اور قومی اسمبلی میں سب سے بڑا عہدہ ہے ،سپیکر صدر کی جا نشینی کی فہرست میں دوسرے درجہ پر ہوتا ہے یعنی صدر کی غیر موجودگی میں وہ قائم مقام کی حثیت سے صدارت سنبھالتا ہے جبکہ رتبے کے اعتبار سے صدر ،وزیر اعظم اور ایوان بالا (سینٹ) کے چیر مین کے بعد چوتھے درجے پر ہوتا ہے،اس روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر اعظم میاں نواز شریف اور اپوزیشن لیڈر کی درخواست پر متحدہ کے سلمان بلوچ اور جے یو آئی (ف) کی نعیمہ کشور نے تحاریک واپس لینے کا اعلان کیا یوں پاکستان تحریک انصاف ۔ڈی سیٹ ۔ہونے سے بچ گئی،اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ کی بالادستی کی قرار داد بھی منظور کی گئی،اس سے ایک روز قبل متحدہ کا گرفتار کارکنوں کی رہائی کے لئے بھارت سمیت پچپن ممالک کو لکھا گیا خط منظر عام پر آیا تھا،قومی اسمبلی کے اس اجلاس کے دن ہی ایم کیو ایم کی جانب سے اس حوالے سے بھارتی ہائی کمیشن کو خط لکھنے کو وزیر دفاع خواجہ آصف نے۔ملک دشمنی اور غداری قرار دیا۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی شخص۔الطاف حسین ۔پر سیالکوٹ میںEnemy Agents Ordinenceکے تحت مقدمہ درج ہوا،اس موقع پر جو سب سے تکلیف دہ اور شرمناک بات ہے ۔وہ قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق کا الطاف حسین سے ٹیلیفونک رابطہ تھا۔سابق وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان کے مطابق یہ سب جمہوریت نہیں ،مک مکا ہو رہا ہے جس میں سپیکر بھی ملوث ہیں حالانکہ سپیکر نہ لابی کر سکتا ہے نہ ہی ووٹنگ اور سیاست میں حصہ لے سکتا ہے ،وزیر داخلہ کو الطاف کے ساتھ سپیکر کا ریفرنس بھی برطانیہ بھیجنا چاہئے۔سدا بہار ضرورت حکومت۔ مولانا فضل رحمان نے بھی بتایا کہ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر نے گذشتہ روز تحاریک واپس لینے کی اپیلیں کی تھیں ان اپیلوں کی قدر و منزلت کا انہیں احساس ہے اسی حوالے سے انہوں نے آصف علی زرداری اور الطاف حسین سے بھی بات کی تھی۔ اجلاس کے وقت ہی کراچی کی ایک عدالت نے الطاف حسین کے ورانٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے انہیں 20اگست کو پیش کرنے کا حکم جاری کیا،دوسرے روز ہی سندھ اسمبلی نے بھی الطاف حسین کے خلاف قرار داد منظور کر لی۔پی ٹی آئی کے چیر مین عمران خان نے دوٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا تھا ۔غدار الطاف حسین سے پوچھنا ہے تو وہ اسمبلی میں نہیں جائیں گے۔(اب دیکھو وہ بھی کیا کرتے ہیں؟)، مارچ کے وسط میں رینجرز نے پاکستان کے سب سے طاقتور سیاسی مقام ۔نائن زیرو۔پر چھاپا ما کر 85 افراد کو گرفتا ر کیا تو ایم کیو ایم کے قائد آپے سے باہر ہوگئے 17مارچ کو ان کے خلاف رینجرز کو دھمکانے پر کراچی میں مقدمہ درج ہو گیا،پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے الطاف حسین کے بیان کوکڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ فوجی قیادت کے خلاف اس طرح کی بیان کسی طور برداشت نہیں کئے جا سکتے۔3اپریل کو ایس ایس پی راؤ جلیل انوار نے ایک پریس کانفرنس کے دوران ایم کیو ایم پر الزام لگایا تھا کہ ان کے کارکن بھارت سے تربیت حاصل کرتے ہیں انہوں نے دو افراد طاہر لمبا اور جنید جو بذریعہ تھائی لینڈ بھارت ٹریننگ لینے گئے تھے کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا راؤ جلیل انور کے مطابق ایم کیو ایم کے 50سے زائد گرفتار ملزمان نے بھارت سے عسکری ٹریننگ کا اعتراف کیا ہے،دوسری جانب ۔بی بی سی۔نے پاکستان کے مقتدر ذرائع کے حوالے سے خبر نشر کی کہ پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کو بھارتی حکومت سے مالی امداد ملتی رہتی ہے،اس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ ایم کیو ایم کے سینکڑوں کارکن گذشتہ ایک دہائی کے دوران بھارت کے شمالی اور شمال مشرقی علاقہ میں قائم کیمپوں میں گولہ بارود اور ہتھیاروں کے استعمال کی تربیت حاصل کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔الطاف حسین نے اس صورتحال میں بھارتی خفیہ ایجنسی ۔را۔سے مدد مانگ لی ملک بھر میں ان کے خلاف شدید رد عمل اور مقدمات پر انہوں نے 2مئی کو اپنی مستقل عادت کے مطابق ۔معافی ۔مانگ لی ،الطاف حسین کی تقریروں پر وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا۔قومی سلامتی کے معاملات پر کچھ کہنے سے قبل سوچنا چاہئے۔وزیر اعلٰ پنجاب نے انہیں کھلے الفاظ میں ۔غدار۔کہا،قائمہ کمیٹی برائے دفاع میں الطاف حسین کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کی گئی،صوبہ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا۔ایم کیو ایم ایک دہشت گرد تنظیم ہے اس پر پابندی لگنی چائیے۔26جون کو پنجاب اسمبلی اور اس سے قبل خیبر پختونخواہ میں ان کے خلاف مذمتی قرار دادیں منظور کی گئیں۔الطاف حسین نے ڈائریکٹر جنرل سندھ رینجرز بلال اکبر پرالزام لگایا کہ وہ ایم کیو ایم کے خلاف انتقامی کاروائی کرنے،کارکنوں کی ماورائے عدالت کلنگ میں ملوث ہیں اور وہ وائسرائے کا کردار ادا کر رہے ہیں،ایم کیو ایم کے سربراہ کے خلاف ملک بھر میں 100سے زائد مقدمات کا اندراج ہو چکا ہے،لاہور ہائی کورٹ میں ان کے خلاف غداری کے مقدمے کے اندراج کی درخواست کی سماعت کے لئے لارجر بینچ تشکیل دیا گیا ہے یہ پٹیشن ایڈووکیٹ آفتاب ورک نے دائر کی تھی جس کے مطابق الطاف حسین کا فوج کے خلاف بیان غداری کے زمرے میں آتا ہے،یکے بعد دیگرے کئی متنازعہ تقاریر کا یہ سلسلہ نہ رکا اور الطاف حسین نے امریکہ کے شہر ڈیلاس میں ایم کیو ایم کے سالانہ کنونشن سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کارکنوں کو ہدایت کی کہ وہ بین الاقوامی طاقتوں سے کہیں کراچی میں اقوام متحدہ یا نیٹو کی افواج بھیجی جائیں،اس سے قبل وہ بھارت کو بھی کھلے الفاظ میں پاکستان میں مداخلت کا کہہ چکے ہیں۔وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے مطابق یہ سب ملک کی سا لمیت اور خود مختاری کے خلاف سازش ہے ،اب سندھ رینجرز نے بھی 25جولائی کو دعویٰ کیا تھا کہ ایم کیو ایم کی تنظیمی کمیٹی عسکری ونگ کو منظم کرتی اور چلاتی ہے۔الطاف حسین کی ملک دشمن تقریروں کو نشر کرنے پر حکومتی کنٹرول میں قائم ادارے پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا)نے ملک کے 14نشریاتی اداروں کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کئے۔چند روز قبل آزاد کشمیر اسمبلی میں ایم کیو ایم کے دو وزراء کو الطاف حسین سے علیحدگی کا نوٹس دینے کے بعد کابینہ سے فارغ کر دیا گیا ہے اس سے قبل کشمیر کی بھی ایک عدالت نے ورانٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں جبکہ کشمیر اسمبلی میں الطاف حسین کے خلاف 9قرادادیں منظور کر چکی ہے،این آر او کے تحت دودھ سے نہانے والوں میں پہلے نمبر پر الطاف حسین ہی ہیں ان کے خلاف 3576مقدمات تھے جن میں 40سے زائد قتل کے مقدمات بھی شامل تھے،سنگین مقدمات کے حوالے سے فاروق ستار دوسرے اور شعیب بخاری تیسرے نمبر پر تھے ایم کیو ایم کے بابر غوری ،عشرت العباد،شلیم شہزاد،وسیم اختر اور کنور خالد یونس نے بھی اس آرڈننس کے تحت بریت پائی۔پاکستان کے دل لاہور سے تعلق رکھنے والے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایازصادق نے پی ٹی آئی کو ۔ڈی سیٹ۔ ہونے سے بچانے بلکہ ۔جموریت بچانے کے لئے الطاف حسین سے رابطہ کر کے پاکستانی قوم کے دلوں کو بری طرح گھائل کیا ہے،مفادات سب کو عزیز ہوتے ہیں مگر ان کو قومی شناخت پر اولیت نہیں دی جاتی جسے غدار کہا جائے اس سے رابطہ کہاں کا انصاف ہے؟ خیر یہ اعزاز بھی ۔ایاز۔کو ہی ملا ہے کہ جسے سارا پاکستان غدار کہہ رہا ہے اسی سے ایک غیر جانبدار اور معتبر ترین عہدے پر براجمان شخصیت تعلق نبھا رہی ہے،محب وطن اور غدار وطن عجب بات ہے۔ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے ۔الطاف و ایاز۔ فی زمانہ یہ مصرعہ ان پر بہت صادق آتا ہے،قوم اندازہ کرے اقتدار کا یہ تخت کس قدر سفاک اور خود غرض ہے ایک طرف فوج کی جانب سے ۔گند۔صاف کرنے کے لئے بلا امتیاز آپریشن جاری ہے اور دوسری جانب بدبودار سیاست و جمہوریت ۔شرم مگر آپ کو نہیں آتی،کاش یہاں بھی وہ جمہوریت ہوتی جس پر فخر کیا جا سکتا ۔کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے دو ماہ قبل کراچی میں ہی ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا۔انہیں آپریشن میں سب سے زیادہ مزاحمت کا سامنا Politiciesلوگوں سے ہے

یہ بھی پڑھیں  پنجاب کا نیا بلدیاتی نظام، وزیراعظم نے مسودے کی منظوری دیدی

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker