شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / سپیشل سحر نمودار ہونے کو ہے !

سپیشل سحر نمودار ہونے کو ہے !

پاکستان اپنے قیام کے 71 برس پورے کر چکا ہے اور اپنا 72واں جشن آزادی منانے جارہا ہے ۔اور اس کے ساتھ ساتھ نئے پاکستان کا نعرہ بھی اپنی تمام تر ولولہ انگیزیوں اورہنگامہ خیزیوں کے ساتھ چاروں اطراف گونج رہاہے ۔بظاہر یہ سب تبدیلی کی روایتی تحریک دکھائی دیتی تھی مگر اس تحریک نے پاکستان کی روایتی سیاست کو کسی حد تک ختم کرتے ہوئے سیاسی منظر نامے کو یکسر تبدیل کر دیا ہے ۔ یقیناًکاغذ کی ناؤ سدا نہیں چلتی البتہ سانجھے کی ہنڈیا بیچ چوراہے ضرور پھوٹتی ہے تو روایتی سیاستدانوں کی اکثریت عوا م کی طرف سے مسترد کئے جانے کے بعد نظریہ ضرورت کے تحت ایک ہی دسترخوان پر اکھٹی ہو چکی ہے اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف جو جس کے منہ میں آتا ہے بولتا چلا جاتا ہے لیکن عہدوں کے حوالے سے آپسی اختلافات کھل کر سامنے آرہے ہیں یہی وجہ ہے کہ متحدہ اپوزیشن دھڑوں میں بٹتی نظر آتی ہے دھاندلی واویلابھی اپنی مثال آپ ہے کہ جو جیتا ہے وہ بھی احتجاجی ہے کیونکہ اس کا بھائی ،بہنوئی یا چچا نہیں جیتا ۔یہی وجہ ہے کہ ووٹنگ سسٹم پر بہت سے لطیفے پہلے سے زبان زد عا م ہیں کیونکہ دھاندلی ہمیشہ سے ہوتی تھی اور اب چونکہ دھاندلی کرنے والے نہیں جیتے تو یہ دھاندلاہے۔
ایک سفر کے دوران چند سیاح (برطانوی ، جرمن ،امریکی اور پاکستانی) آپس میں الجھ پڑے ۔ برطانوی بولا : ’’ہمارے ملک میں پوسٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت ہے ‘‘ ۔ جرمن بولا :’’ہمارے ملک میں ترقی کا یہ عالم ہے کہ انٹر نیٹ کے ذریعے ووٹ کاسٹ ہوجاتا ہے‘‘ ۔امریکی نے کہا: ’’ہم اتنی ترقی کر چکے ہیں کہ موبائیل میسج پر ہی ووٹ کاسٹ کر لیتے ہیں‘‘ ۔سب سے آخر میں پاکستانی مسکراتے ہوئے بولا : ’’ہم گھر پر ہی بیٹھے رہتے ہیں اور ہمارا ووٹ کوئی اور کاسٹ کر جاتا ہے ،یہ ہوتی ہے اصلی ترقی‘‘ ۔۔۔ترقی سے یاد آیا جناب پرویز الہی اسپیکر پنجاب اسمبلی کا عہدے سنبھالتے ہی شہباز شریف پر برس پڑے ہیں کہ’’دس سالوں میں شہباز شریف نے پنجاب کا بیڑہ غرق کیا‘‘۔ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ۔۔کہ پنجاب پراجیکٹس کے تلخ حقائق سامنے آنا باقی ہیں کہ گذشتہ دو جمہوری حکومتوں کا اگر خلاصہ کیا جائے تو’’ بے نظیر انکم سپورٹ‘‘ اور ’’لیپ ٹاپ اسکیم ‘‘ کے سوا بتانے کو کچھ بھی نہیں ہے ۔
ایسے میں عوامی عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے ۔ہر چیز حد میں اچھا لگتی ہے مگر ہمارے ہاں حدوں کا تعین کرنے والے خود کسی دائرے کے قائل نہیں یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایسے سیاستدانوں کو عوام الناس کی طرف سے کڑی تنقید اور تضحیک کا سامنا ہے جو کہ اداروں کے خلاف کھلم کھلا بیان بازیاں کر رہے ہیں ۔مولانا فضل الرحمن نے جشن آزادی کو ’’یوم سیاہ ‘‘ منانے کا علان کرتے ہوئے اداروں پر ہرزہ سرائی کی تو عوام اور مبصرین نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ماضی کے سیاہ ابواب سے پردہ ہٹا دیا اور لکھ دیا کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے والد مفتی محمود اور اس وقت کی دیوبن مکتبہ فکر کی نمائندہ جماعت علمائے ہند کے پاکستان مخالف نظریے کو تسلیم کر لیا ہے ؟ اس پر مولانا کے جارحانہ مؤقف میں کمی نہیں آئی بلکہ انھوں نے کھلی دھمکی دے دی ہے کہ : ’’تو تیر آزما ، ہم جگر آزمائیں گے ‘‘۔ویسے تو شہباز شریف نے بھی مولانا کی تائید کی ہے مگر اس کے ساتھ ہی ان کے لہجے کی نرمی اور نپلے تلے لہجے میں مذاکرات کی اہمیت پر زور دینے کا عندیہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ اب بھی جھنڈا لہرائیں گے اور موسم کی خرابی کے باعث احتجاجی جلوس میں پہنچ نہیں پائیں گے ۔
دوسری طرف پاکستان کے نئے وزیراعظم (نامزد) عمران خان نے ابھی عنان حکومت نہیں سنبھالی مگرنگران حکومت کی طرف سے شاکس پر شاکس ملنا شروع ہو گئے ہیں جس کے بارے اپوزیشن جماعتوں نے پہلے ہی برسر اقتدار آنے والی حکومت کو بدنام کرنا شروع کر دیا ہے جیسا کہ مزید قرضہ لینے کا عندیہ دے دیا گیا ہے ، ایف بی آر نے شادی ہال میں تقریبات پر ود ہولڈنگ ٹیکس لگا دیا گیاہے ،بجلی کے نرخوں اور پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ ہوا ہے ،بقر عید سر پر ہے بدیں وجہ اشیائے خوردو نوش سمیت تمام چیزوں کو آگ لگ گئی ہے کہ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے ۔روپے کی قدر کم ہونے سے مہنگائی کے طوفان نے پہلے ہی سب کو نفسیاتی مریض بنا رکھا تھا کہ ہر شخص یہ کہتا تھاکہ ’’مجھے کیا برا تھا مرنا جوایک بار ہوتا ‘‘مگر اب توجیسے زندگی سزا ہونے جا رہی ہے ۔ چونکہ عوام کو لگتا تھا کہ عمران خان ایک چھڑی گھمائیں گے اور سارے مسائل حل ہو جائیں گے کہ روای چین ہی چین لکھے گا ۔جوکہ انھوں نے ابھی تک نہیں گھمائی ویسے تو امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی ہتھیلی پر سرسوں جمانے کے چکر میں ہیں کہتے ہیں کہ میں منتظرہوں کہ عمران خان مدینے جیسی ریاست قائم کرنیکا اپنا وعدہ پورا کریں ۔ اسی دن کے لیے شاید غالب نے کہا تھا :
عاشقی صبر طلب ،تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں خون جگر ہونے تک
ویسے آج کل ہمارے سیاسی ٹاک شوز اینکرز بھی اڈاریاں بھر رہے ہیں کچھ پیشین گوئیاں غلط ثابت ہو رہی ہیں اور کچھ یو ٹرن کی دوڑ میں خبطی تجزیے پیش کرنے پر ریٹنگ گنوا بیٹھے ہیں ۔۔ ہمیں تو وہ سردار سائینٹسٹ یاد آگیا جس نے ایک مکھی کے پر کاٹ دئیے اور کہا اڑ جا ۔۔!
مکھی نہیں اڑی !سردار نے لکھا ! پس تجربہ سے ثابت ہوا کہ اگر مکھی کے پر کاٹ دئیے جائیں تو وہ سن نہیں سکتی ۔! تو یہ روایتی حکومتیں تو ہیں نہیں کہ پہلے ہی معلوم ہو جائے کہ بھائی وزیر اعلیٰ ہوگا ، ٹھیکے بہنوئی کے پاس ہونگے، بھانجے اور رشتہ دار وزیر ہونگے اور باقی عہدے وفا داروں اور خوشامدیوں کے ہونگے اور پیشین گوئیاں کرتے ہوئے رائے ہموارکرنے والے صحافی نمایاں عہدوں پر تعینات کئے جائیں گے
بہر حال سیاسی عہدوں پر تقرریاں شروع ہو چکی ہیں ۔تحریک انصاف نے چوہدری سرور کو گورنرپنجاب( جو گورنری انھوں نے تحریک انصاف کی محبت میں چھوڑ دی تھی انھیں واپس لوٹا دی گئی ہے ) اور چوہدری پرویز الہی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی نامز د کر کے اپوزیشن کو مشکل میں ڈال دیا ہے کیونکہ دونوں چوہدری پہلے بھی پنجا ب میں مذکورہ بالا عہدوں کو انتظامی طور پر کامیابی سے چلا چکے ہیں اور دونوں کو مسلم لیگ ن نے پہلی بار انہی عہدوں پر فائز کیا تھا ۔چوہدری پرویز الہی نے اپنے وزارت اعلیٰ کے ادوار میں بے مثال کام کیا تھا کہ عوامی سطح پر بھی ان کے کام کو سراہا جاتا ہے ۔مبصرین کے مطابق چوہدری صاحبان کی تقرریوں سے مسلم لیگ ن کی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے اور بہت جلد بچے ہوئے لیگی بھی انصافی ہو جائیں گے ۔
مسئلہ مضبوط جمہوری نظام کا نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ اشرافیہ ،وڈیرہ شاہی اور افسر شاہی کئی دہائیوں سے ہماری آئینی اور دستوری امنگوں سے کھیل رہے ہیں اور جنگل کا قانون لا گو کر رکھا ہے اور بد قسمتی سے اسے عوام پر ہی لاگو کر رکھا ہے جبکہ انھیں مکمل اثتثنا حاصل ہے۔ اس لیے اب وقتی مصلحتوں کی خاطر اپنے تاریخ ساز کردار کو مسمار ہونے سے بچانا ہوگا اور ذمہ داریاں تقسیم کرتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا ہوگا کہ کوئی ایسا شخص کسی ایسے منصب پر فائز نہ ہو جائے جوکہ اس کا اہل ہی نہ ہو ۔یقینایہ واقعہ سب کو یاد ہوگا کہ حضرت عمر فاروقؓ کے آخری لمحات میں کسی نے ان کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ وہ اپنے بیٹے عبد اللہ کو اپنا جانشین مقرر کر جائیں ۔حضرت عمرؓ نے اس تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا یہ دلائل دئیے کہ :جسے اپنی بیوی کو طلاق دینی نہیں آتی ،اسے میں مسلمانوں کے امور کا فیصلہ کرنے والا کیسے بنا جاؤں ؟‘‘بظاہر یہ ایک معمولی سی مثال ہے مگر اس سے ثابت ہوتا کہ اسلام ذمہ داری کے مناصب پر فائز ہونے والوں اور مسلمانوں کے امور کا فیصلہ کرنے والوں میں کیسی صفات ضروری قرار دیتا ہے ۔ہمیں امید ہے کہ خان صاحب فرشتے تو نہیں ڈھونڈ سکے مگر فرشتے بنا دیں گے ۔
باقی باتیں تو ایک طرف بھارتی ہائی کمشنر کی طرف سے عمران خان کو بلا بطور تحفہ پیش کیا گیا ہے ، نریندر مودی کی طرف سے خیر سگالی پیغام دیا گیا ہے اور مزید اداکاروں کی طرف سے بھی دوستانہ روابط کے پیغامات گردش کر رہے ہیں جس پر ادبی ، صحافتی ،تجارتی اور عوامی حلقوں میں نئی بحث چھڑ چکی ہے ۔امن کی آشا کیسے نراشا بنی سبھی جانتے ہیں اور سفید بلا بظاہر امن کی علامت ہے درحقیقت ماضی گواہ ہے کہ بھارت نے’’ بغل میں چھری منہ پہ رام رام‘‘ کا وطیرہ کبھی نہیں بدلا ! سبھی جانتے ہیں کہ پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالتے ہی بھارت نے انھیں مہاجر کہہ کر دوستی کا ہاتھ بڑھایا اوران کے آبائی گھر کی سیر کرواتے ہوئے دیرینہ تنازعات کو مسخ کرنے کی کوشش کی اور تمام معاہدوں میں یک طرفہ فوائد کو مد نظر رکھا اس کے بعد میاں نواز شریف نے نریندر مودی کے یارانے میں فنکاروں اور ادبی سفیروں کے لیے راہیں کھولیں جن کا خمیازہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں کہ دہشت گردی کی آڑ میں بھارتی تنظیم ’’را‘‘ مسلسل سرگرم ہے اور مزید امریکی اور بھارتی گٹھ جوڑ بھی کافی عرصے سے زیر بحث ہے یقیناًعمران خان ان تمام حقائق سے واقف ہونگے ۔ اس پرامریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں سرد مہری بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے کہ ایک دہائی سے جاری دونوں ممالک کے مابین عسکری منصوبے ختم ہوگئے ہیں کیونکہ امریکہ پاکستان سے افغانستان میں مدد کا خواہاں ہے مگر پاکستان کے انکار پر(کہ اب ہم کسی کی جنگ نہیں لڑیں گے ) امریکہ پاکستان کے خلاف مسلسل برسر پیکار ہے ۔ویسے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے ان کے اپنے عوام ناخوش ہیں تو دنیا کیسے خوش ہو سکتی ہے ۔ٹرمپ انتظامیہ نے پاکستان کے ساتھ فوجی تربیتی منصوبے ختم کر دئیے ہیں جبکہ ہر دور میں یہ تربیتی نشستیں ہر قسم کی کشیدگی سے دور رہیں مگر اب وہ ٹرمپ جارحیت کی نظر ہوگئی ہیں ۔لیکن کاروبار زندگی چلتے رہتے ہیں کہ رواں ہفتے ہونے والے معاہدوں کے مطابق فوجی افسران روسی اداروں میں تربیتی حاصل کریں گے ۔اب نئی خارجہ پالیسی کے بعد مذید صورتحال واضح ہو جائے گی ۔
تاہم یہ خوش آئند ہے کہ پاکستان اپنا71 واں جشن آزادی تیسرے جمہوری دور میں داخل ہوتے ہوئے منا رہا ہے اور پر امید ہے کہ روایتی محرومیوں اور کئی دہائیوں سے ملک و قوم سے جونک کی طرح چمٹے ہوئے مفادات پرستوں سے نجات مل جائے گی کہ سیاہ رات کٹ چکی اورسپیدہ سحر نمودار ہونے کو ہے کہ وہ خواب شرمندہ تعبیر ہونے کو ہے جو ہمارے اسلاف نے دیکھا تھا ۔یاس سے آس کا سفر شروع ہو چکا ہے اور اب یہی دعاہے کہ
خدا کرے میری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو !

error: Content is Protected!!