تازہ ترینکھیل

’ٹرائیکا‘کرکٹ کی تباہی کے درپر،آئی سی سی کے سابق سربراہ ڈٹ گئے

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت ،آسٹریلیا اور انگلینڈ کا’ٹرائیکا‘ بین الاقوامی کرکٹ کی تباہی کی تیاری مکمل کر چکا ہے اور آئی سی سی منگل اور بدھ اس با ت پر غور کرے گی کہ ان تین ممالک کی با ت میں کتنا ’وزن‘ ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ چاہے کوئی مانے یا نہ مانے بھارت ،آسٹریلیا اور انگلینڈ کی مدد سے ہر صورت بین الاقوامی کرکٹ پر قبضہ کرلے گا اور پاکستان کو اسے ’انا‘ کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے جبکہ کچھ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو دیگر ممالک جن میں جنوبی افریقہ، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز شامل ہیں کو ساتھ ملا کر لابنگ کرناچاہیے۔ دوسری جانب بین الاقوامی کرکٹ کونسل کے سابق سربراہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی طرف سے کرکٹ کھیلنے والے تین ملکوں بھارت، انگلینڈ اور آسٹریلیا کو زیادہ اختیارات دینے کی تجویز کی سختی سے مخالفت کی ہے۔بھارت کا کہنا ہے اگر آئی سی سی کے مجودہ ڈھانچے میں یہ اصلاحات یا تبدیلیاں نہیں کی گئیں تو وہ کرکٹ کے عالمی مقابلوں میں شرکت نہیں کرے گالیکن دنیا بھر سے ان مجوزہ تبدیلیوں پر تنقید کی جا رہی ہے اور کرکٹ کے سابق سربراہوں نے اس بارے میں تشویش کا اظہار کیا جس میں کرکٹ کھیلنے والے ملکوں کی دو لیگ بنانے کی تجویز بھی شامل ہے۔ مجوزہ اصلاحات کے تحت انڈیا، انگلینڈ اور آسٹریلیا اپنی کارکردگی سے قطع نظر مستقل طور پر پہلی لیگ کھیلنے کے مجاز ہوں گے جب کہ دوسرے ملکوں کو پہلی لیگ میں رکھنے کا فیصلہ ان کی کارکردگی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔آئی سی سی کے سابق پاکستانی صدر احسان مانی نے آئی سی سی کو خط لکھا ہے جس پر میلکم سپیڈ،کلائیو لوائڈ اور میلکم گرے نے بھی ستخط کیے ہیں۔ اس خط میں آئی سی سی سے کہا گیا ہے کہ ان مجوزہ تبدیلیوں کے مسودے کو واپس لیا جانا چاہیے۔ویسٹ انڈیز کے سابق کپتان کلائیو لوائڈ نے کہا ہے کہ آئی سی سی کو 2012ءمیں بنائی گئی ولف رپورٹ پر نظر ثانی کرنی چاہیے جس میں کہا گیا تھا کہ آئی سی سی گورننس کے معیار کو بہتر بنائے، بورڈ آف ڈائریکٹرز میں آزاد ارکان شامل کیے جائیں اور اپنے معاملات کو شفاف بنائے۔احسان مانی نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر نئی تجاویز کی منظور دے دی گئی تو آئی سی سی کے غیر مستقل ارکان کو 31 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کا نقصان ہو گا جبکہ اس کا فائدہ بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو ہوگا۔مانی نے کہا کہ انڈین کرکٹ بورڈ، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ اور کرکٹ آسٹریلیا کو سب سے زیادہ فائدہ میں رہیں گے۔اس کے علاوہ 2015 ءسے 2023 ءتک تمام بڑے بڑے مقابلے انگلینڈ ، بھارت اور آسٹریلیا میں کرائے جائیں گے۔ان تینوں بورڈز کو میزبانی کی مد میں موصول ہونے والی رقم کے علاوہ بھی آئی سی سی کے فنڈز ملیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس نکتے پر بھی غور کیا جانا ضروری ہے کہ انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کو دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کیوں زیادہ رقم درکار ہے۔دوسرے ملکوں سے کھیلنے پر انڈین کرکٹ بورڈ کو بین الاقوامی اور مقامی میڈیا فیس کی صورت میں پہلے ہی بھاری رقوم ادا کی جاتی ہیں جو کہ اس کی مالی حیثیت برقرار رکھنے کی ایک بڑی وجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ کرکٹ کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ چھوٹے اور غیر مستقل رکن ملکوں کو زیادہ سرمایہ مہیا کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کرکٹ کو امریکہ اور چین میں بھی فروغ دیا جائے اور یہ کھیل اولمپکس میں شامل ہو جائے تو اگلے دس سے پندرہ برس میں کرکٹ سے ہونے والی آمدنی میں کئی گناہ اضافہ کیا جا سکتا ہے،، اس کےلئے دور اندیشی اور فراخدلی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔1991 ءسے 2001 ءتک یونائٹڈ کرکٹ بورڈ کے صدر جو بعد میں کرکٹ ساوتھ افریقہ ہو گا جو 2003ءمیں کرکٹ کے عالمی کپ کے ٹورنامنٹ ڈائریکٹر علی باخر نے بھی احسان مانی اور میلکم سپیڈ کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے کہا ہے کہ دانشمندانہ راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔بیبی سی کے مطابق جنوبی افریقہ کی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان نے ایک علیحدہ خط میں آئی سی سی کے صدر ایلن آئزک کو کہا ہے اگر ان تجاویز پر عمل کیا گیا تو یہ کرکٹ کو تقسیم کرنے کی کوشش ہو گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت ، انگلینڈ اور آسٹریلیا کی طرف سے پیش کردہ یہ مجوزہ تبدیلیاں کرکٹ میں ایسی تقسیم اور لڑائی کا سبب بنیں گی جو پہلے کبھی دیکھی نہیں گئیں۔انہوں نے کہا کہ آئی سی سی کے رکن ملکوں کو 1993 ءسے پہلے جب آسٹریلیا اور انگلینڈ کو ویٹو کے حقوق حاصل تھے اس وقت کرکٹ میں جو تلخی خاص طور پر برصغیر اور ویسٹ انڈیز میں پائی جاتی تھی وہ یاد رکھنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے وہ احسان مانی کے ساتھ ہم آواز ہیں اور وہ ان کی وولف رپورٹ پر عملدرآمد کرنے کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔علی باخر نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ مانی نے اس سلسلے میں پوری کوشش کی ہے اور وہ احسان مانی کی بہت عزت کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: ملکی اور علاقائی سیاسی و صحافتی کاروباری شخصیات نے صحافی نوید اقبال کی عیادت اور جلد صحت یابی کے لئے دعا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker