شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / سری لنکا میں دہشت گردی کی خوفناک واردات

سری لنکا میں دہشت گردی کی خوفناک واردات

جنوب مشرقی ایشیا کے واحد جزیزہ نما ملک سری لنکا کے دارلحکومت سمیت مختلف علاقوں میں مسیحی برادری کے بڑے تہوار ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں اور ہوٹلوں پر یکے بعد دیگرے دہشت گردوں کے خوفناک حملے کے نتیجے میں290افرادہلاک اور500 سے زائدزخمی ہوگئے،ابھی مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے مرنے والوں میں36غیر ملکی جن میں،برطانوی اور نیدرلینڈ کے شہری شامل ہیں ،دہشت گردی کے یہ حملے اس وقت ہوئے جب گرجا گھروں میں ایسٹر کے اتوار کی وجہ سے گرجا گھروں میں دعائیہ تقریب جاری تھی ،2006میں عراق اور انڈیا میں بمبئی حملوں کے بعد یہ سب سے بڑی دہشت گردسی کی واردات ہے،ان وارداتوں میں ہلاکتوں کی تعداد206۔206تھی، ان حملوں میں چھیکاڈے،کٹوایٹیا اور بٹیکالوا کے گرجا گھروں سینٹ اینتھونی شرائن،ٹیگوموکا،سینٹ پبسسنپرین اور زیوین ، اور کولمبو کے ہوٹلوں شنگریلا،کنگسن بری ،ٹروپوسٹیکل ،کنامن گارڈسیتامن گرانڈاور کنگز سری کو نشانہ بنایا گیا ،پہلا دھماکہ کولمبو بندر گاہ کے نزدیک 9.51منٹ پر سینٹ اینتھونی چرچ اس کے فوری بعد35کلومیٹر دورمقبول سیاحتی مقام نیکومبومیں قائم سیبسینن چرچ اس کے بعد کریسچین زائن کو نشانہ بنایا گیا جہاں زیادہ تر تامل مسلمان آبادی ہے، سارا سری لنکا دھماکوں کسے گونج اٹھااور ہر طرف موت ہی موت نظر آئی دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار کولمبو شہر ہواجہاں دھماکے پہ دھماکہ سنائی دیااور قیامت برپا ہو گئی ،سری لنکا میں شدت پسند تنظیموں کی تعداد 3درجن سے زائد ہے جن میں سر فہرست تامل ناڈو ہے تا ہم ابھی تک کسی تنظیم نے اس واقعہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نی ابھی تک حکومت کی جانب سے کسی تنظیم یا گروہ پر اس کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے تاہم 24مشکوک افراد کو گرفتار کیا ہے گرفتار تمام افراد کاتعلق سری لنکن جنہیںCIDکے حوالے کر دیا گیا ہے، جن کا تعلق ایک ہی گروہ سے ہے تاہم اس تنظیم کی بھی تصدیق نہیں کی گئی ،پولیس ترجمان روان کنا میکرا کے مطابق دھماکوں میں غیرملکی عناصر کے ملوث ہونے پر بھی تفتیش جاری ہے، ان دھماکوں میں تین خود کش دھماکے تھے ،ان دھماکوں کے بعد ملک بھر میں مذہب کی بنیا پر فسادات کا خطرہ پیدا ہونے پر سری لنکا کی سڑکوں پر فوج کا گشت جاری ہے اتوار کی شپب شمالی علاقوں میں ایک مجسد پر پٹرول بمحملہ اور دو دکانوں کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی تھی ،زیادہ ہلاکتیں کولمبو کے گرجا گھر سینٹ اینتھونی میں ہوئیں جہاں اکثر غیر ملکی بھی شامل ہوتے ہیں سری لنکن وزیر ہرشی ڈی سلوا نے بتایاکہ چھیکاڈے میں سینٹ اینتھونی گرجا گھر کے مناظر انتہائی مہیب تھے ہر طرف لہو ہی لہو ،لاشیں ہی لاشیں اور انسانی اعضا بکھرے پڑے تھے دھماکوں کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ انسانی اعضا بکھر کر دیواروں پر جا چپکے ،ہر چیز ٹوٹ پھوٹ گئی تباہی و بربادی کے نا قابل قین مناظر تھے ،موت کی ان وادیوں میں زخمیوں کی چیخ و پکار سے در و دیواردہل گئے،کولمبو کے نیشنل ہسپتال میں 240زخمیوں کو پہنچایا گیاجن میں 46ہسپتال پہنچتے ہی جان کی بازی ہار گئے،بٹیکالوا کے ہسپتال میں مرنے والوں کی ابتدائی تعداد57ہے،ابھی تک دھماکوں کی نوعیت بارے سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا گیا تاہم تین خود کش حملوں کے بارے واضح ہے ان حملوں میں متاثر ہونے والوں میں مجموعی طور تامل مسیحی ہی ہیں ،دہشت گردی کی یہ وارداتیں ملک کے شمالی علاقے ٹیگومیور اور مشرقی علاقے بائیجالوا میں مقیم مسیحی اس واردات کا نشانہ بنے، میں زیادہ تر ہوئیں ،سری لنکا کے دارلحکومت کولبو میں گرجا گھروں کی بہتات ہے اور وہاں کے ہوٹولں میں زیادہ تر غیرملکی قیام کرتے ہیں انہیں گرجا گھروں کی وجہ سے کولمبو کو دوسرا روم کہا جاتا ہے،،ان واقعات کے بعد حکومت نے فوری طور پر ہنگاموں سے بچنے کے لئے عارضی کرفیو نا فذ اور سوشل میڈیا پر پابندی عاید کر دی، سری لنکن وزیر دفاع وجے وردنے کے مطابق دہشت گردوں کی شناخت ہو چکی ہے ہم اس انتہا پسندی کے خلاف تمام ضروری اقدامات کریں گیہمارے دشمن جہاں بھی ہو گیہم وہاں تک جائیں گے چاہے حملہ آوروں کا تعلق کسی بھی مذہبی انتہا پسند تنظیم سے ہی کیوں نہ ہو ہمیں یقین ہے کہ جو بھی ان دھماکوں میں ملوث ہیں وہ بچ نہیں پائیں گے،سری لنکا کے صدر میتھر پیالا سریسینانے عوام سے پر امن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاان حملوں سے ہمیں سخت دھچکا لگا ہے،وزیر اعظم انیل وکرما سنگھے نے ان دھماکوں کی جان کاری کے لئے فوری طور پر سیکویرٹی کونسل کی میٹنگ طلب کر لی ،وزیر خارجہ سمر ویرا نے کہایہ حملے قتل و غارت اور بد امنی پھیلانے کے لئے تھے جس میں معصوم جانوں سے کھیلا گیا،کولمبو کے کارڈینیل بشپ میکم دلجیت نے کہا عوام افواہوں پر کان نہ دھریں بلکہ صبر کے ساتھ انتظار کریں ہمارا پیغام امن و صلح کا ہم انتہائی مشکل حالات میں کیونکہ ہمیں اس کا ذرہ اندیشہ نہیں تھایہی وجہ تھی کہ ایسٹر کے موقع پر ہمارے لوگ بغیر خدشے یا خوف کے چرچوں میں گئے جن میں سے زیادہ تر کو انسانیت دشمنوں نے ہلاک کر دیا ، یہ تہوار جومسیحی برادری کے بڑے تہواروں میں سے ایک ہے اوروہ گڈ فرائیڈے کے بعد آنے والے اتوار کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے اس حوالے سے فرانسیس خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ 10اپریل کو پولیس چیف پینجوتھ جو اساندارانے اعلیٰ حکام سے ایک انٹیلی جنس شئیر کی تھی جو ایک اور غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسی نے ان تک پہنچائی کہ اسیٹر کے موقع پر سری لنکا کے مختلف علاقوں میں قائم مسیحی عبادتگاہوں اور انڈین ہائی کمشنر کو خود کش بمبار نشانہ بنا سکتے ہیں اس تھریٹ میں مسلمانوں کی تنظیم نیشنل توحید جماعت (NTJ)کا نام لیا گیا،(اس رپورٹ میں کسی مسلم تنظیم کا نام اور انڈین پہائی کمشنر کو بھی نشانہ بننے کی اطلاع سے ظاہر ہوتا ہے یہ اطلاع بھارتی خفیہ ایجنسی RAWنے ہی دی اور وہی اس دہشت گردی میں شامل ہے)سری لنکا میں تاریخ کی سب سے بڑی دہشت گردی کسی انتہائی منظم گروہ نے کسی نادیدہ قوت کی مدد سے کی اور ایک ایسے دن کا انتخاب کیا گیا جب وہاں لوگوں کی بہت بڑی تعداد موجود ہوتی ہے سری لنکا کا سب سے اہم اور عالمی شہرت یفتہ سینٹ اینتھونی چرچ میں ایک تاریخی چرچ ہے جہاں تقریباً ہر مذہب کے لوگ جاتے ہیں ،اس واقعہ کا آٹھواں دھماکہ اس وقت پیش آیا جب پولیس اہلکار ایک گھر کی تلاشی کے لئے داخل ہوئے تو وہاں موجود خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا اس دھماکے میں بمبار سمیت تین پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوئے،پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ان واقعات میں تین پاکستانی خواتین معین حسن،مونہ ہمایوں اور عاتکہ سمیت ایک بچہ معمولی زخمی ہوئے جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا اور وہ ٹھیک ہیں،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سری لنکا کے وزیر اعظم کو فون کر کے اس سنگین واقعہ پر انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ہر مدد کا یقین دلایا،اس بد ترین دہشت گردی پر پوری دنیا میں دکھ ،غم اور تکلیف کی لہرم دوڑ گئی وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے اس واقعہ کو خوفناک دہشت گردی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور دکھ کی اس گھڑی میں سری لنکا کو اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا،صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی انتہائی رنج اور دکھ کا اظہار کیا،آسٹریلوی وزیر اعظم نے بھی مذمت کی اور تعاون کا کہا،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا امریکہ ہر طرح کے تعاون کے لئے سری لنکا کے ساتھ ہے،سری لنکاچاروں طرف سے پانی میں گھرا جزیرہ نما ریاست ہے جو4فروری 1948کو برٹش سامراج سے آزاد ہوئی جو 9ریاستوں میں منقسم اور اس میں103دریا ہیں ،2کروڑ سے زائد آبادی کا یہ ملک 26سال تک سول وار کا شکار رہا ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کا57واں اور جزائری 46ممالک میں میں شامل ہے،اس میں گروہی لحاظ سے74.8فیصد سنہالی ،11.2فیصدتامل،9.2فیصد سری لنکن مووز،اس مملکت میں 70فیصد بدھ شٹ مذہب کے لوگ بستے ہیں یہ علاقہ اس مذہب کے حاولے سے دنیا کا قدیم ترین علاقہ ہے،ان بدھ شٹوں میں زیادہ تعداد سنہالیوں کی ہے،ہندو ازم یہاں دوسرا اور اسلام9فیصد آبادی کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے کل آبادی کا7.4فیصد عیسائی کمیونٹی پر مشتمل ہے جو دہشت گردوں کا نشانہ بن گئے، 6مارچ2017کو سری لنکا میں مسلمانوں کے خلاف پر تشدد حملے ہوئے 2011کے بعد پہلی بارکابینہ نے مسلمانوں کے کاروبار اور مساجد پر کئی حملوں کے بعدحالات پر قابو پانے کے لئے ایمرجنسی نافذ کر دی تھی، یہ ہنگامے ایک سیاحتی مرکز کینڈی پرٹریفک کے مسئلے پر چند مسلمان نوجوانوں کے ہاتھوں بدھ مت کا ماننے والا ایک شخص کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے،7جون2017کو سری لنکا میں چین کو بندرگاہ اور صنعتی مرکز قائم کرنے معاہدے پر ہزاروں افراد نے پر تشدد مظاہروں میں حصہ لیاتھا،کولمبو سے240کلومیٹر دورجنوب مشرق میں واقع ساحلی شہرہیمینٹوٹامیں اس منصوبے کے تحت دیہی علاقوں سے ہزاروں مکینوں کو بے دخل کیا گیا تھا،چین سری لنکا میں26سالہ خانہ جنگی کے بعد اب تک کروڑوں ڈالر وہاں خرچ کر چکا ہے،

یہ بھی پڑھیں  ضلع قصورپولیس کی 2013کی کارکردگی کی تفصیلات بھی جاری