تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

صوبہ ہزارہ کا مطالبہ ،دعوے اور ردعمل

zafar ali shah logoاس میں توکوئی دورائے نہیں کہ آئینی ترمیم اور پارلیمنٹ سے منظوری کے بغیر تو صوبہ ہزارہ کاقیام کسی صورت ممکن نہیں اور اس نکتے کی نشاندہی ہزارہ سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی جماعتوں کے منتخب ممبران قومی وصوبائی اسمبلی اور رہنماؤں جن میں سردارمحمدیوسف، ڈاکٹراظہر جدون،مشتاق غنی، قلندرلودھی ،سردارادریس،وجہیہ الزمان اور کئی دیگر کربھی چکے ہیں کہ صوبے چوکوں میں نہیں بناکرتے بلکہ آئین سازی کے ذریعے وجودمیں آتے ہیں۔صوبہ ہزارہ کامطالبہ نسلی و لسانی بنیادوں پر کیاجارہاہے یاانتظامی بنیادوں پر اور یہ بھی کہ کیا مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کی قیادت ، وفاق اور خیبر پختونخواکی حکومت واقعی صوبہ ہزارہ کے قیام میں مخلص ہیں یاان کے وزراء اور منتخب اراکینِ پارلیمنٹ سیاست چمکانے کے لئے اس ایشوکو اٹھارہے ہیں اور ان کے دعوے درحقیقت کچھ نہیں عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے سواء، اگر وفاقی حکومت ،خیبر پختونخواکی حکومت،مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کی قیادت مخلص ہیں تو صوبہ ہزارہ کے قیام کی راہ میں رکاوٹ کیاہے۔اٹھتے یہ سوال اہم بھی ہیں اور جواب طلب بھی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق 12 اپریل کو تحریک صوبہ ہزارہ کے شہداء کی چوتھی برسی کے موقع پر جلال بابا آڈیٹوریم ایبٹ آبادمیں منعقدہ شہداء کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مذہبی امور سردارمحمد یوسف کا کہنایہ تھاکہ صوبہ ہزارہ کا مطالبہ نسلی و لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر کیاجارہاہے اس صوبے کے قیام سے وفاق مضبوط ہوگااور صوبے کی پسماندگی ختم ہوجائے گی۔ان کے مطابق صوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے ہزارہ کے ارکانِ پارلیمنٹ پر مشتمل ایک کمیٹی وزیراعظم نوازشریف سمیت پیپلزپارٹی ،جماعت اسلامی ،متحدہ قومی موومنٹ،تحریک انصاف،مسلم لیگ ق،جمعیت علماء اسلام ف،جمعیت علماء اسلام س،عوامی نیشنل پارٹی اور دیگرسیاسی جماعتوں کی قیادت سے مالاقاتیں کرے گی جس کے بعد قومی اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کاترمیمی بل پیش کیاجائے گاانہوں نے کہاہے کہ صوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے 12اپریل کے شہداء کے خون کو کسی صورت رائیگاں نہیں جانے دیاجائے گااس کے لئے تمام وسائل بروئے کارلائے جائیں گے اور اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔صوبہ ہزارہ کامطالبہ نسلی و لسانی بنیادوں پر کیاجارہاہے یاانتظامی بنیادوں پر یہ سوال اس لئے اٹھ رہاہے کہ وفاقی وزیر سردارمحمدیوسف کاکہناہے کہ صوبہ ہزارہ کامطالبہ انتظامی بنیادوں پر کیا جارہاہے تاہم صوبہ ہزارہ تحریک کے قائد بزرگ سیاستدان باباحیدرزمان یہ کہتے سنای اور دکھائی دیئے ہیں کہ آزادی کے بغیر زندہ رہنانہیں چاہتے اور صوبے کے بغیر ہم آزاد نہیں ۔دیکھاجائے تو صوبہ ہزارہ کے قیام کے مطالبے کی بازگشت عرصہ دراز سے سنائی دے رہی ہے تاہم عوامی نیشنل پارٹی کی سابق حکومت کی جانب سے صوبہ سرحد کانام آئینی طورپر خیبرپختونخوارکھنے کے اقدام کے بعد سے صوبہ ہزارہ کامطالبہ لے کر باباحیدرزمان کی قیادت میں باقاعدہ تحریک اٹھی اور اس تحریک کے دوران پرتشدد کارروائیاں بھی دیکھنے کوملی۔ متحدہ قومی موومنٹ اور کئی دیگر سیاسی قوتیں بھی مذکورہ تحریک کی حمایت میں اٹھ کھڑی ہوئی تھیں جس سے عوامی نیشنل پارٹی ،پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون کی قیادت بڑی حد تک پریشانی سے دوچاربھی رہی تھی۔نون لیگ کی پریشانی یہ تھی کہ صوبہ ہزارہ کیاسامنے آیا ساتھ ہی پنجاب میں صوبہ بہاولپور اور صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کامطالبہ بھی کیاگیااور جنوبی پنجاب کوصوبہ بنانے کی حمایت میں حکمراں جماعت پیپلز پارٹی سمیت دیگر نون لیگ مخالف سیاسی قوتوں کے سامنے آنے کے ساتھ ہی اس وقت نون لیگ کے مرکزی رہنماء مخدوم جاوید ہاشمی کا بیان کہ صوبہ جنوبی پنجاب کامطالبہ وہاں کے عوام کا حق ہے اور اگر ان کو اگر یہ حق ملتاہے تو یہ کوئی غلط بات نہیں جیسی سرگرمیاں نون لیگ کی قیادت کے لئے کسی سیاسی آزمائش سے کم نہ تھیں وہ بھی ایسے وقت میں جب کہ اگلے انتخابات سر پر تھے اور شائد اپنی ہی جماعت کے رہنماء کے اس بیان کے ہی پیش نظر نون لیگ کی قیادت یہ کہنے پرمجبورہوئی تھی کہ اگر انتظامی بنیادوں پر ملک میں نئے یونٹس بنتے ہیں تو ان کی جماعت اس کی حمایت کرے گی البتہ صرف جنوبی پنجاب نہیں بلکہ سندھ اور دیگر علاقوں میں بھی ایسے یونٹس بنانے ہوں گے۔اگرچہ باباحیدرزمان کی قیادت میں اٹھنے والی تحریک صوبہ ہزارہ میں تو اب وہ جان نہیں رہی جو اس کے آغازپر تھی تاہم صوبہ ہزارہ کے قیام کا مطالبہ ختم ہوگیاہے یااس کو ہمیشہ کے لئے دبادیاگیاہے یہ کہنااورحکمراں طبقے کو خوش فہمی میں مبتلاہوکراس معاملے سے غافل ہونابھی مناسب نہیں ہوگا کیونکہ یہ مطالبہ اب بھی کیاجارہاہے اور یہ معاملہ اسی طرح سر اٹھاتا رہے گا۔صوبہ ہزارہ تحریک نے دیگر علاقوں کے لوگوں کو بھی راستہ دکھادیا جس کے پیش نظر پنجاب میں بہاولپوراورجنوبی پنجاب کوالگ صوبہ بنانے کے مطالبات سامنے آئے تو خیبر پختونخوامیں گجرقومی موومنٹ نے بھی نہ صرف اعلان کررکھاہے کہ اختیارملنے پروہ خیبرپختونخواکانام تبدیل کرکے گجرستان رکھے گی بلکہ موومنٹ کے مرکزی صدر زرین خان گجر نے تو یہ بھی مطالبہ کردیاہے کہ مالاکنڈڈویژن کو الگ صوبہ بنایاجائے۔نئے صوبے قائم کئے جائیں یہ مطالبہ اب ہر طرف سے سامنے آرہاہے اور اس کے لئے تحریکیں بھی بن رہی ہیں۔ب
ہاولپور،جنوبی پنجاب، صوبہ ہزارہ اور صوبہ مالاکنڈ کے مطالبے کے بعد اب تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ وطن ویلفیئرسوسائٹی نے تمام پختون علاقوں جن میں فاٹا،خیبرپختونخوا،بلوچستان کے پختون علاقوں اور مارگلہ کی پہاڑیوں تک تاریخی وطن پرمشتمل ایک متحدہ پختونخواصوبہ بنانے کے لئے (پختونخواہ اولسی تحریک)کااعلان کردیاہے۔ پختونخواہ اولسی تحریک کے قیام کامقصدہم خیال سیاسی کارکنان،سیاسی جماعتوں ،سماجی و ادبی شخصیات اور سول سوسائٹی سے مسلسل رابطہ کرنااوران کو پختونوں پر مشتمل علاقوں کومتحدہ صوبہ بنانے کے لئے اکٹھاکرنے کی جدوجہد کرناہے اس حوالے سے گزشتہ دنوں پختونخواہ اولسی تحریک کے زیراہتمام پریس کلب پشاور میں ایک سیمینارکاانعقادبھی کیاگیا۔بہرحال ذکرہورہاہے صوبہ ہزارہ کے قیام کے حوالے سے تحریک صوبہ ہزارہ کے مطالبے اور وہاں کے منتخب اراکین پارلیمنٹ کی سرگرمیوں کاتومرکزمیں نون لیگ اور خیبرپختونخوامیں تحریک انصاف کی حکومت ہے ہزارہ بیلٹ سے دونوں سیاسی جماعتوں کے منتخب اراکین اسمبلی جن میں وزراء بھی شامل ہیں بظاہر صوبہ ہزارہ کے قیام کے لئے سرگرم نظرآتے ہیں اور ان کی جانب سے آئینی ترمیم کی قراداد اگر قومی اسمبلی میں پیش کی جاتی ہے جیساکہ ان کا دعویٰ ہے تواس پر مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کی جانب سے ردعمل کیاآئے گایہ دیکھنادلچسپ بھی ہوگااوراہم بھی۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
error: Content is Protected!!