ایم اے تبسمتازہ ترینکالم

’’سچ آکھاں تے میں وی ٹنگیا جاواں گا‘‘

ma tabsumآج کا کالم میں اپنے پنجابی شعر سے شروع کرنا چاہ رہا ہوں۔

’’سچ آکھاں تے میں وی ٹنگیا جاواں گا
ایسے لئی رکھ لئی یارو،میں پتھر ہیٹھ زبان‘‘
اظہار کی آزادی اس دور کا ایک بہت بڑا مسئلہ ہے اور دنیا کے ملکوں کی اکثریت کو محض اسی ایک سبب سے غیر مہذب قرار دے کر ردی بنا نے کی رسم عام ہے۔ دنیا میں جہاں آزادی اظہار کی اجازت ہے وہاں بھی یہ آزادی بڑی حد تک بس ایک وہم ساہے۔مثلاً جمہوریتوں میں اپنی مرضی سے دو تین پارٹیوں کے امیدواروں میں سے کسی ایک کو ووٹ دینے کا اختیار ضرور ہے، مگر اس کے بعد ان ووٹروں کو ملک کی سیاست اور پالیسیوں کی باریکیوں پر اثر انداز ہونے کا کوئی حق باقی نہیں رہتا۔ ووٹروں کی ایک چھوٹی سی اقلیت جس پارٹی کو اقتدار کا اہل سمجھ کر اسے پارلیمان میں اکثریت مہیا کردیتی ہے وہ پارٹی بعد میں اہم خارجی اور داخلی امور پر اپنے ووٹروں کی رائے سننے کی روادار بھی نہیں ہوتی۔ البتہ میڈیا کو ان پالیسیوں پر اکثر غیر موثر تنقید کرنے کا حق رہتا ہے اور وہیں سے آزادی اظہار کو ایک پر شوکت نعرے کے طور پر پیش کرنے کا راستہ کھلتا ہے.باقی جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ خود جمہوری ملکوں میں بھی یہ آزادی حکومت وقت عارضی طور پر سلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ جہاں ایک طرف انسان کو کسی اہم (یا غیر اہم) معاملہ میں اپنی رائے طے کرنے کا حق ہے اور مناسب وقت اور مناسب محل ومقام پر اس کا اظہار کرنے کا حق بھی ہے وہاں تہذیبی اعتبار سے ہر بات ہر جگہ اور ہر موقعہ پر کرنا نہ کسی کا حق ہوتا ہے اور نہ ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ میں اکثراپنے شاگردوں امتیازعلی شاکر،ساحرقریشی,غلام مصطفی بھٹی،میاں نوازاشرف سے کہا کرتا ہوں کہ’’ حق بات کہنا فرض ضرور ہے مگر ہر حق بات کا ہر وقت کہنا فرض نہیں ہے۔ ‘‘چنانچہ حقیقت یہ ہے کہ جب یہ تسلیم کر لیا گیا کہ ہر مسئلہ پر دنیا کے ہر شخص کو رائے قائم کرنے اور ہر جگہ اس کے اظہار کرنے کا حق ہے تو اس سے معاشرتی فساد پیدا ہوتا ہے۔ اسی فساد سے بچنے کے لئے خصوصاً مغربی ممالک میں قابل رائے اور ناقابل رائے معاملات کی فہرستیں موجود ہیں اور ان سے روگردانی کے نتائج بہت سنگین ہوسکتے ہیں۔ اس کے برعکس مسلم ، یا ایشیائی ملکوں میں بات کرنے کو زباں ترس جاتی ہے اور قوموں کے جذبات تک کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ ملک اور قومیں راہ راست سے بھٹکتے رہتے ہیں اور اسی گمراہی کو اپنے وجود کی دلیل سمجھنے لگتے ہیں۔ اس قسم کی پالیسیوں کا ایک نتیجہ شاہ ایران کی صورت میں سامنے آیا تھا. ایک نتیجہ فلپائن کا ڈکٹیٹر فرنینڈس مارکوس تھا اور دو حالیہ نتائج کے نام زین العابدین علی اور حسنی مبارک ہیں۔لوگوں کو اگرچہ تاریخ کے حوالوں سے کچھ خاص دلچسپی نہیں ہوتی مگر بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر۔ خلافت راشدہ کی بات تو آخری دلیل ہے۔ بنی عباس کے دور کا ایک لطیفہ ہے۔ خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں ایک خوشامدی کسی طرح آگیا۔یوں بھی خوشامدیوں کا اصل مقام دربار ہی ہوتے آئے ہیں۔ اس خوشامدی کو بھی کچھ انعام کا لالچ ہارون کے سامنے لایا تھا۔اس خوشامدی نے کہا کہ جب سقیفہ بنو ساعدہ میں خلیفہ وقت کے انتخاب کا مسئلہ اٹھا تھا تو اگر عالم پناہ ہارون رشید وہاں موجود ہوتے تو معاملہ چٹکیوں میں طے ہوجاتادربار میں موجود ایک عالم دین نے گرجدار آواز میں بادشاہ کو مخاطب فرماتے ہوئے کہا یہ شخص جھوٹا ہے۔ سقیفہ میں امیر المومنین کے جد امجد (حضرت عباس ابن عبد المطلب) کا تو کسی نے نام بھی نہیں لیا تھا ، تو صحابہ کی موجودگی میں ہارون رشید کا کیا ذکر۔ ہارون نے اس بات سے اتفاق کیا اور ہنستے ہوئے اس خوشامدی کو کچھ تھوڑا بہت مال دے کر رخصت کردیا۔یہ واقعہ آزادی اظہار کا اصول طے کرتا ہے۔ معقول بات مناسب موقع پر ہی کی جائے تو اظہار کا حق ادا ہوتا ہے، ورنہ اسے خوشامد اور دیوانے کی بڑ سمجھا جاتا ہے.غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہم اکثر جن موضوعات پر بات نہیں بلکہ بحثیں شروع کردیتے ہیں اکثر ان موضوعات پر لب کشائی ہمارا منصب نہیں ہوتا۔ ہاں وقت گزاری کے لئے بات بے بات بولتے رہنے کی عادت الگ معاملہ ہے. اس عادت کا آزادی اظہار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔note

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:سی پیک کا سہرا میاں نواز شریف کی قیادت کو جاتا ہے،شیخ ذیشان سعید

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker