تازہ ترینکالم

سچ لکھنے والے جھوٹے لوگ

rizwan khanمیں جب بھی کاغذ اور قلم لے کر لکھنے بیٹھتا ہوں تو اکثر سوچتا ہوں کہ میں کیا ہوں۔ کالم نگار ہوں میں کیسے کالم نگار ہو سکتا ہوں ۔ کیونکہ کالم نگار ہونے کیلئے بزنس ٹائیکون آپ کے مریدہوںیا پھر سیاستدان آپ کے دوست ۔کیا میں لکھاری ہوں۔ جواب اندر سے پھر نفی میں آتاہے میں تو بس ایک پڑھنے محسوس کرنے والا عام سا بندہ ہوں۔ جو پڑھا اچھا لگا اسے ایمانداری سے صفحات کے شکم میں ٹھونس دیا ۔جو محسوس کیا اسے دوسروں تک پہنچا دیا ۔ میں جب بھی ان گمراہ کن سوچوں کی وادی میں الجھ جاتاہوں تو مجھے باغبان فلم کے اختتام میں کی ہوئی امیتابھ بچن کی وہ تقریر یاد آجاتی ہے جو وہ اپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے موقع پر کرتا ہے ۔” دیکھئے میں کوئی لیکھکھ نہیں ہوں لیکھکھ تو نجانے سوچ کے ساغر میں ڈوب کر کیسے کیسے موتی تلاش کر لاتے ہیں میں نے تو وہ لکھا جو زندگی نے مجھے سکھایا”۔ کاغذ اور قلم پکڑنے سے پہلے پندرہ سال تک میں محض ایک پیپر ریڈر تھا ۔ اس ملک کے ہر صبح اٹھ کر چائے کی پیالی کے ساتھ یا فراغت کے لمحات کو اخبار کی سطروں کی نذر کردینے والا ریڈر۔ میں لکھنے والوں کو ارسطوسمجھتا تھا کہ جو ہرروز زہر کا پیالہ پی کر سچ کو صفحات پر انڈیل کر ہم تک پہنچانے کا جہاد کر رہے ہیں ۔ پندرہ سال تک میں ان کی اور ان کے لکھے ہوئے ہر لفظ کی پوجا کرتا رہا ۔پھر ایک دن میرے اندر کے انسان نے مجھے اکسایا کہ جب تم لکھ سکتے ہو پڑھ سکتے ہو محسوس کر سکتے ہو تو پھر تمہیں بھی اپنے خیالات محسوسات دوسروں تک پہنچانے چاہیے۔ کاغذ میز پر بچھایا قلم ہاتھ میں پکڑا اور اپنی تحریر کو لفظوں کی صورت میں زبان عطا کردی۔ اب مسئلہ تھا کہ اسے چھپوایاکیسے جائے ۔ ایک صاحبہ جو کہ ایک ٹاپ کے دائیں بازو کے اردو ڈیلی کے خواتین پیج کی انچارج تھیں ان سے فیس بک پر رابطہ ہوا انہوں نے فیس بک پر اپنی ای میل آئی ڈی دی میں نے کالم بھیجا انہوں نے شاہ رخ کے سٹائل والے کالم کو سلطان راہی کی طرح ٹنڈ منڈ کرکے اپنے پیج کا پیٹ بھر لیا ۔ میں نے جب پوچھا کہ محترمہ آپ نے اسے ایڈیٹوریل انچارج کو کیوں نہیں بھیجاتو وہ اچانک جلال میں آگئیں اور منہ دھونے کا مشورہ دیا کہ میں آٹھ سال ہوگئے کالم نگار نہیں بن سکی تو تم کس باغ کی مولی ہو۔ میں نے منہ دھویا اور اس اخبار کے مالک تک پہنچنے کا سفر شروع کردیا۔اس اخبار کے تمام کالم نگاروں کے دیئے گئے ای میل ایڈریسز پر میلزکیں۔ ایک صاحب نے جواب دیا اور مالک کا ای میل ایڈریس بھی۔ دوسرا کالم لکھا غلام ابن غلام کے عنوان سے ۔ اگلے دن کالم ایڈیٹوریل پیج کے عین درمیان چھپا ہوا تھا سلسلہ چل نکلا۔ چند کالم چھپ جانے کے بعد پھر اشاعت کا سلسلہ بند ہوگیا۔ دائیں بازو والوں کو مشرقی ٹائپ حکومت کے بارے میں ہمارے خیالات کچھ پسند نہیں آرہے تھے سو انہوں نے ہم سے بھیڑیں الگ کرلیں۔ پھر ایک اور بھلے مانس کالم نگار صاحب ملے جنہوں نے اس وقت کے نمبر ون اخبارکے چھوٹے اخبار کے ایڈیٹرکے چیلے سے رابطہ کروادیا ۔ فی سبیل اللہ کی سروس اس اخبار میں ہم نے دوسال چلائی ۔ پھر ان ٹنکی پسند چیلے کو شکائت یہ پیدا ہوئی کہ ہم آ پ کو چھاپتے ہیں لیکن آپ نے اپنے استاد محترم کی طرح ہمیں کبھی آب خواب سے لطف اندوز ہونے کا موقع نہیں دیا ۔میں نے استاد محترم کو بتایا انہوں نے کہا کہ میاں آپ کہیں اور لکھنا شروع کردیں۔ ایک بڑی ٹاپ کی سچ پہ سچ لکھنے والی محترمہ سے جب ہم نے ان کے اخبار کے ایڈیٹر کا ای میل ایڈریس مانگا تو انہوں نے یہ جواب دے کر حیران ہی کردیا کہ ہمارے اخبار کے ایڈیٹر ای میل پر رابطہ نہیں کرتے ہم نے کہا چلیں موبائل نمبر دے دیں۔ اس کے بعد ان کے اور ہمارے درمیان شیرنی ختم ہوگئی اور تلخی وخاموشی کی کھٹاس نے ڈیرہ ڈال دیا ۔ اکثر حضرات نے تو ای میل کا جواب دینا ہی گوارہ نہ کیا کچھ نے دیا تو جواب خود چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ میاں ہم نے خود نجانے کتنے دھکے کھاکر جگہ بنائی اب تم کو خوامخوہ کچھ بتا کر رقابت کیوں پیدا کرلیں۔ میں طبیعت کے لحاظ سے کافی سست الوجود آدمی ہوں۔ دفاتر جانے کا حوصلہ نہیں کہ وہاں جاکر نجانے کیسے بیوپاریوں سے پالا پڑے۔ ایک صاحب کا موبائل نمبر کسی نے عنائت کردیا یہ کہہ کر میاں صحافت کے پنڈ کے چوہدری ہیں ویسے بھی آپ ان کے بڑے مداح ہیں۔ رابطہ کریں یہ آپ کو کسی مقام تک پہنچا دیں گے۔ رابطہ ہوا انہوں نے ایسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا کہ جو خود غرضی کے سگنل پر پہنچ کر خود بخود غائب ہوگئی۔ ایک ای میل ایڈریس کیا ان سے مانگا انہوں نے تو ہمیں یہاں تک سنا دی کہ جو ایک ای میل ایڈریس آج کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی طوفانی دنیا میں نہیں ڈھونڈ سکتاوہ کچھ ڈیزرو ہی نہیں کرتا۔ دنیا جہان کو سخاوت خدا ترسی کے تہہ در تہہ لیکچر دینے والے صاحب اتنے چھوٹے دل کے نکلیں گے ۔ اچھے لفظ اچھی باتیں لکھنا اور بات ہے خود اچھا ہونا اچھے اخلاق کا حامل ہونا الگ بات ہے یہی بات سن کر ہی حکیم لقمان نے اپنے اخلاق کو ارفع کرنے پر توجہ دینا شروع کی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا نے ملک میں کافی ترقی کی ہے ۔ اس ترقی کی دوڑ میں سچ کا اسٹیشن تو کافی پیچھے چھوٹ گیا یہی وجہ ہے کہ اب لوگ سرعام کہتے ہیں کہ اللہ میڈیا اور وکلاء کی بلیک میلنگ سے بچائے۔ جو لوگ کسی کو سیدھا راستہ تک بتانے کے روادار نہ ہوں وہ کہیں کہ سچ ان کے دم سے زندہ اور پائندہ ہے۔ بات دل کو لگتی نہیں یقین نہ آئے تو چھوٹے اور درمیانے درجہ کے اخبارات کے نوجوان اسٹرگلنگ کالم نگاروں سے پوچھ لیں کہ ان کے ساتھ اس جھوٹ کی نگری میں کیا بیت رہی ہے۔ چند صاحبان نے بتایا کہ ہم اس آس پر مفت کے کولہو میں بیل بن کر جتے ہوئے ہیں کہ ہمارے اور ان بگ گنز کے درمیان موت ہی آکر فیصلہ کرے گی ۔ بات ان کے دل کی کافی دکھ بھری ہے ہم بھلے جس بھی پروفیشن میں ہوں ایک بات تو بحر حال ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ موت سے کسی کو مفر نہیں کوئی کتنا جی لے گا آخر تو اس نے دنیا کے اسٹیج پر اپنے کردار کو چھوڑ کر جانا ہی ہے۔ یہ سوچ آدمی کو توکل کی طرف لے جاتی ہے توکل آدمی کو ہر چیز سے بے نیاز ہو کر سچ کے زینوں پر چڑھنے میں مدد دیتا ہے ۔ رہی ہماری بات تو ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ تحریر اور پانی اپنا راستہ خود بناتے ہیں۔ دل مطمئن ہونا چاہیے۔ لفظ سچے ہوں کو ئی چھاپے تو اس کی تحریر شناسی کوئی نہ چھاپے تو اس کے من کی مرضی۔ پڑھے لکھے افراد ویسے بھی معاشرے میں کافی کم ہیں اگر ان کا گلہ دبانے کی کوشش جاری رہی تو ایک وقت آئے گا جب خلارہ جائے گا یا ماضی کی دھند میں گم ہوتے چند نام۔

یہ بھی پڑھیں  رویت ہلال کمیٹی کااجلاس کل اسلام آباد میں ہوگا

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker