شہ سرخیاں

سچ تو یہی ہے

گزشتہ کئی دنوں سے میری طبیعت بہت ’’اوازار‘‘ہے ۔ہر وقت گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔نقاہت کا یہ عالم ہے کہ تین ، چار کلومیٹر دوڑنے سے ہی سانس پھول جاتا ہے اور ’’گِٹے گوڈے‘‘ جواب دے جاتے ہیں ۔خوراک اتنی کم ہو گئی ہے کہ صرف تین ، چار نان ایک آدھ پلیٹ بریانی ، کچھ چکن تِکّے اور چند سیخ کباب بھی کھا لوں تو معدہ جواب دے جاتا ہے اور کھٹی ڈکاریں حشر کر دیتی ہیں ۔صرف دس ، بارہ گھنٹے انٹر نیٹ پر متواتربیٹھنے کے بعدہی کمر درد شروع ہو جاتا ہے اور پاؤں سوج جاتے ہیں، چکر آنے لگتے ہیں اوربازوؤں میں د رد کی ٹیسیں اُٹھنا شروع ہو جاتی ہیں ۔نظراتنی کمزور کہ درخت کی آخری شاخ پہ بیٹھی چڑیا کی چونچ میں دبا ’’تنکا‘‘ تک نہیں دیکھ پاتی ۔دل کی دھڑکن اتنی بے ترتیب کہ مارے خوف کے گھریلو ملازمہ تک کو نہیں ڈانٹ سکتی۔مجھے سو فیصد یقین ہے کہ میں ’’عارضۂ قلب میں مبتلاء ہوں لیکن جب میں نے اپنے فیملی ڈاکٹر سے رجوع کیا تو اُس ’’اللہ مارے ‘‘ نے میرا مکمل چیک اپ کرنے کے بعد مُسکرا کر کہا کہ’’عمر کا تقاضہ ہے‘‘۔ اُس بدتمیز کو اتنا بھی نہیں پتہ کہ خوا تین سے اُن کی عمر کے بارے میں ایسی باتیں نہیں کی جاتیں۔ ڈاکٹرز پر سے اعتماد اُٹھ جانے کے بعد میں نے حاذق حکیموں سے رجوع کیا اور اُن کے مجرّب نسخے استعمال کرنا شروع کر دیئے لیکن کچھ افاقہ نہ ہوا۔اب میں روز انہ ’’نہار مُنہ‘‘ اپنے میاں کو کہتی ہوں کہ وہ مجھے علاج کے لیے جرمنی یا فرانس لے جائیں لیکن میرے میاں بھی ایسے ’’مکھی چُوس‘‘ ہیں کہ ہر روز طَرح دے جاتے ہیں ۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے’’کمانڈو‘‘جناب پرویز مشرف بیمار نہیں ، وہ انتہائی ظالم ، جابر اور چنگیزیت کے عَلم بردار ہیں۔جب مجھے ’’اتنی سی عمر‘‘ میں بارہ ، چودہ بیماریاں ہو سکتی ہیں تو 70 سالہ بوڑھے کمانڈو کو کیوں نہیں۔ یہ جو احمدرضا قصوری نے غصّے سے ’’نیلے پیلے ‘‘ہو کر صحافی کو ڈانٹ پلائی ، اُس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مشرف صا حب واقعی بیمار ہیں جس کی بنا پر قصوری صاحب جیسا ’’دبنگ‘‘ وکیل بھی بوکھلاہٹ کا شکار ہے ۔ اگرقصوری صاحب نے اُس صحافی کو لفافے لینے والا انڈیا کا ایجنٹ کہا ہے تو ظاہر ہے کہ اُن کے پاس اِس کے ثبوت بھی ہونگے۔ قصوری صاحب کے اِس’’انکشاف‘‘ پر جنابِ چیف جسٹس آف پاکستان کا ’’اَز خود نوٹس‘‘تو بنتا ہے دوستو ۔ویسے بھی جب سے جنابِ ا فتخار محمد چوہدری ریٹائر ہوئے ہیں ، اعلیٰ عدلیہ بھی روکھی پھیکی ہو گئی ہے ، نہ کوئی از خود نوٹس اور نہ توہینِ عدالت ۔ ا فتخار محمد چوہدری صاحب تو رونق لگائے رکھتے تھے لیکن موجودہ چیف جسٹس صاحب تو کچھ ضرورت سے زیادہ ہی ’’ٹھنڈے ٹھار‘‘ ہیں ۔چیف صاحب کی اِس گھمبیر خاموشی کا سب سے زیادہ نقصان ہم لکھاریوں کو ہوا ہے جنہیں اب لکھنے کے لیے سپریم کورٹ سے ’’مرچ مصالحہ‘‘ ملتاہے نہ چٹخارے دار خبر ۔وہ تو اللہ بھلا کرے اسلام آباد ہائی کورٹ کا جس کے دَم قدم سے یہ رونقیں بحال ہیں اوردھڑا دھڑ ’’چٹ پٹی‘‘ خبریں ملتی رہتی ہیں۔اُدھر جو ’’خصوصی عدالت‘‘ بنائی گئی ہے وہ بھی بَس ’’ایویں ای‘‘ ہے ۔اُس نے ابھی تک تو کوئی ’’کھڑاک‘‘ نہیں کیا اور نہ ہی مستقبل میں کوئی اُمید۔ البتہ حکومتی پراسیکیوٹر اکرم شیخ صاحب اور ’’کمانڈو‘‘ کے وکیل رانا اعجازکی ’’تُو تُو ، مَیں مَیں‘‘ سے پتہ چلتا رہتا ہے کہ خصوصی عدالت ابھی زندہ ہے ۔شنید ہے کہ اپنے احمد رضا قصوری بھی خصوصی عدالت میں پچھلے بنچوں پر بیٹھ کرمُنہ کے آگے ہاتھ رکھ کے شیخ اکرم پر آوازے کَستے رہتے ہیں جو عدالت میں موجود لوگوں کی تفریح کا باعث بنتے ہیں ۔
ویسے خصوصی عدالت اتنی بھی’’ایویں‘‘ نہیں جتنا کچھ لوگوں نے سمجھ رکھا ہے ۔اُس نے ایک دفعہ پھرگیند اے ایف آئی سی کی طرف لڑھکا دی ہے ۔عدالت نے پرویز مشرف صاحب کی بیماری کے بارے میں تین سوالات پر مشتمل ایک سوال نامہ جاری کرتے ہوئے میڈیکل بورڈ تشکیل دینے اور 24 جنوری کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔یہ تینوں سوالات ہی ایسے ہیں جن پر ہمارے کمانڈو کے وکلا ء کو فوری طور پر نظرِ ثانی کی اپیل دائر کر دینی چاہیے کیونکہ عدالت کا ہر سوال ہمارے محبوب کمانڈو کو ’’بے جرم و خطا‘‘ پھانسنے کا جال ہے۔پہلا سوال یہ ہے ’’کیا پرویز مشرف کی بیماری کی نوعیت اتنی سنگین ہے کہ وہ نقل و حرکت یا عدالت میں پیش ہونے کے قابل نہیں‘‘ ۔ظاہر ہے کہ بیما ری کی نوعیت تو سنگین ہی ہے لیکن مشرف صاحب کیا (خُدانخواستہ)کَومے میں ہیں جو نقل و حرکت بھی نہ کر سکیں۔اُن کی عدم حاضری کا سبب یہ ہے کہ خصوصی عدالت کا نام سُنتے ہی ہمارے بہادر کمانڈو کے دِل کی دھڑکن تیز ، رنگ زرد اور ٹھنڈے پسینے آنے لگتے ہیں اِس لیے اِس ’’بیمارئ دِل‘‘ کے سبب اُن کا فی الحال خصوصی عدالت جانا ممکن نہیں۔دوسرا سوال یہ ہے ’’ کیا دَورانِ علاج پرویز مشرف کی سرجری کی گئی یا آئندہ کرنے کا منصوبہ ہے ؟‘‘۔یہ تو خصوصی عدالت سمیت سبھی جانتے ہیں کہ مشرف صاحب کی سرجری نہیں ہوئی اِس لیے سوال کے اِس حصّے کا جواب تو نفی میں ہی ہو گا۔سوال کے دوسرے حصّے میں اگر میڈیکل بورڈ یہ کہہ دیتا ہے کہ سرجری کی ضرورت نہیں تو مشرف صاحب کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا جو ہمیں ہر گز قبول نہیں۔ اگر بورڈ یہ کہتا ہے کہ سرجری کرنی پڑے گی تو ہم اپنے بہادر کمانڈو کے پیٹ پر ’’ایویں خوامخواہ‘‘ چھبیس ٹانکے لگوانے کو ہر گز تیار نہیں ۔ خصوصی عدالت کا تیسرا سوال یہ ہے ’’پرویز مشرف ہسپتال میں کب تک زیرِ علاج رہیں گے؟‘‘۔اِس کا جواب تو صرف خصوصی عدالت ہی دے سکتی ہے ۔عدالت قوم کو بتلائے کہ وہ کسی عاشقِ صادق کی طرح اپنے ’’محبوب‘‘ مشرف کے انتظار کی اور کتنی گھڑیاں گِن گِن کر گزار سکتی ہے؟۔ ظاہر ہے کہ مشرف صاحب کو جِن9 خطرناک بیماریوں نے گھیر رکھا ہے اُن سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے پاکستان میں تو دو ، چارسال کا عرصہ تو لگے گا ہی۔اگر عدالت کو زیادہ جلدی ہے تو پرویز مشرف صاحب کو باہر بھیج دے تاکہ وہ دیگر پاکستانی اشرافیہ کی طرح بیرونِ ملک اپنا علاج کروا سکیں ۔اگر مشرف صاحب ملک ہی میں رہتے ہیں تو پھر بھی خصوصی عدالت کا فیصلہ جو بھی ہو، ’’پنچھی‘‘نے توبہرحال اُڑ ہی جانا ہے ، جس کا قوم کو بہت دُکھ ہو گا کیونکہ قوموں کو ایسی ہستیاں کبھی کبھار ہی نصیب ہوتی ہیں جو ملک و قوم کی اتنی خدمت گزار ہوں جتنے مشرف صاحب۔
ڈاکٹر عطاء الرحمٰن صاحب نے مشرف صاحب پر ایسا چشم کشا کالم لکھا ہے جسے پڑھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے مشرف صاحب نے قومی ترقی اور خوشحالی کے ایسے درخشاں باب رقم کیے ہیں جن کی ہماری تاریخ میں نظیر نہیں ملتی ۔اُن کے دَور میں مہنگائی اپنے عروج پر تھی نہ ڈالر 60 روپے سے بڑھا ۔اُنہی کے دَور میں میڈیا اتنا آزاد ہوا کہ کھمبیوں کی طرح سے نیوز چینلز اُگنے لگے اور آسمان سے اینکرز اور ’’اینکرنیاں‘‘ چھاتہ برداروں کی طرح اُترے اور نیوز چینلز پر ایسے قابض ہوئے کہ عقل دنگ رہ گئی ۔مشرف صاحب کے دَورمیں ہی گلی گلی CNG سٹیشن کھُلے اور راوی اشرافیہ کے لیے عیش ہی عیش لکھنے لگا۔اُنہوں نے اپنے شَرپسند مخالفین کو چُن چُن کر قتل کروا کے اپنی بہادری اور طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔یہ ہمارے ہر دِلعزیز کمانڈو ہی تھے جنہوں نے 12 اکتوبر 99ء کوفضاؤں ہی سے دو تہائی اکثریت کی حامل منتخب حکومت کو چلتا کیاکیونکہ وہ خوب جانتے تھے کہ اِس ’’بلغمی مزاج‘‘ قوم کو جمہوریت راس نہیں آتی ۔حکم عدولی پرچیف جسٹس سعید الزماں صدیقی اور دیگر پانچ جسٹس صاحبان کو گھر بھیجنابھی اُنہی کا کارنامہ ہے ۔حیرت ہے کہ چیف جسٹس ا فتخار محمد چوہدری نے اپنے سینئرز سے عبرت حاصل نہ کی اورعَلمِ بغاوت بلند کر دیا جس کا خمیازہ بھی اُنہیں بھگتنا پڑا ۔ 1971ء کے بعد سے ہماری بہادر افواج نے ’’میدانِ کارزار‘‘ کا مُنہ تک نہیں دیکھا تھاجِس کی بنا پر اُس کی صلاحتیں زنگ آلود ہو رہی تھیں اِس لیے ہمارے کمانڈو نے’’ چوری چھُپے‘‘ کارگل کا معرکہ سَرانجام دیا۔اگر ہمارے اُس وقت کے وزیرِ اعظم میاں نواز شریف صاحب امریکہ جا کر جنگ بندی نہ کرواتے تو یہ جنگ تو ہم جیت ہی چکے تھے ۔حاسدینِ مشرف کہتے ہیں کہ کمانڈو نے اکبر بگتی کو شہید کیا ، جامعہ حفصہ میں قُرآن پڑھتی بچیوں کو فاسفورس بمبوں کی غذا بنا دیا اور وہ کمانڈو ’’دلیر‘‘ اتنا تھا کہ صرف ایک کال پر امریکہ کے سامنے چاروں شانے چِت ہو گیا ۔کوئی اُن سے پوچھے کہ ایسی غیرت و حمیت کو بھاڑ میں جھونکنا ہے جو ہمیں پتھر کے زمانے میں دھکیل دے ۔وقت کا تقاضہ یہی تھا کہ بے غیرتی کی ’’بُکل‘‘ مار کرعمرِ عزیز کو بے حیائی اور بے حمیتی کے لقمے کھلاتے ہوئے نعرہ لگایا جاتا کہ ’’سب سے پہلے پاکستان‘‘۔اگریہی کچھ ہمارے کمانڈو نے کیاتو کیا غلط کیا؟

یہ بھی پڑھیں  ایوان اقتدار سے

note