ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

بہ مصطفی بر سا ں خو یش را کہ دیں ہمہ اوست

ایما ن با لر سالت عقا ئد میں سے ایک اہم حصہ ہے ۔ ایما ن با لر سالت کی اہمیت کے پیش نظر جن حا لا ت سے امت مسلمہ گز ر رہی ہے اور با طن پر ستو ں کی طرف سے جو رسول اللہ ﷺ کی گستا خیو ں اور تو ہین کا سلسلہ شروع ہے اس وجہ سے امت مسلمہ کو شر مساری بھی ہے ندامت بھی ہے اور پر یشانی بھی ۔ یہی ایک مسلما ن کے لیے انتہائی حسا س ترین اور اہم مسئلہ ہے ۔ہر انسان چا ہے وہ مسلم ہو یا غیر مسلم جب گفتگو کر رہا ہو تو سوچ کے ، سمجھ کے اور شان رسالت کا جو تقدس اور اسکی جو رفعت اور عظمت ہے اس کو پیش نظر رکھتے ہو ئے گفتگو کرے ، گفتگو کا انداز ایسا نہ ہو کہ جیسے بڑے بھا ئی کے با رے میں با ت کی جا رہی ہے ۔ یا گا ؤ ں کے چو ہدری کے با رے میں با ت کی جا رہی ہے ۔ بلکہ گفتگو سے پہلے انسان کے حواس پو ری طر ح بیدار ہو ں اور اس پر رعب طا ری ہو کہ وہ رسول اکرم ﷺ کی شان رسالت کے متعلق گفتگو کر رہا ہے ۔ قرآن مجید میں اللہ ربا لعزت نے رعنا کہنے سے صحابہ کرامؓ کو منع فرما دیا کہ عبرانی زبان میں اسی لفظ کو نا زیبا الفاظ کے زمرے میں شما ر کیا جا تا اور گا لی کے طور پر اس کا استعمال ہو تا ۔ تو جب صحا بہ کرامؓ عربی زبان کے لحاظ سے اس کا استعمال کرتے تھے اور صیح معنی میں کرتے تھے ۔ لیکن یہودکو مو قع مل گیا انہو ں نے اپنا بغض اسی لفظ کی آڑ میں ظا ہر کر نا شروع کردیا تو اللہ تعالیٰ نے صحا بہؓ پر بھی اس لفظ کا بو لنا حرام کردیا ۔ چو نکہ ناموس رسالت کا معاملہ ایسا ہے کہ اگر کسی لفظ کے دو معنی ہو ں ایک معنی درست ہو اور دوسرا معنی شان رسالت کے لا ئق نہ ہو تو شریعت کا تقا ضا یہ ہے کہ اس لفظ کا استعمال متروک ہو جا ئے اور اسکو چھو ڑ دیا جا ئے تا کہ اس لفظ کی آڑ میں کوئی گستا خ مذ موم ارادوں کو پو را نہ کرسکے ۔ ایک چیو نٹی کو چو نٹیو ں کی اما مت ملی اس کاکام کیا تھا ۔ اس کو یہ شان کیسے ملی؟ جب حضرت سلیمان ؑ کا لشکر آرہا تھا تو ایک چیو نٹی دوسری چو نٹیو ں سے کہنے لگی اے چو نٹیو ! اپنی بلو ں میں داخل ہو جا ؤ ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ عدم تو جہ کی وجہ سے حضرت سلیمان ؑ اور انکے لشکر کے نیچے تم رو ندی جا ؤ اس واسطے اپنی اپنی بلو ں میں داخل ہو جا ؤ امام را زی ؒ جو فلسفے کے امام ہیں فرما تے ہیں اس چیو نٹی کو یہ مقام ادب نبو ت کی وجہ سے ملا تھا ۔ کیو ں ؟ اس نے عصمت پیغمبر ؑ کا عقیدہ بیان کیا ۔ کہنے لگیں چیو نٹیو ں ویسے نہیں ہو سکتا کہ حضرت سلیمان ؑ جا نتے ہو ئے تم پہ قدم رکھیں ہا ں بے خبری میں قافلہ ہے اور لشکر ہے ہو سکتا ہے کہ آپکی اس طرف تو جہ نہ ہو تو تم ان کے قدمو ں میں آجا ؤ اپنی سوچ کا اس چیو نٹی نے اظہا ر کیا کہ اللہ کا نبی گنہگا ر نہیں ہو تا اور اللہ کا نبی ظالم نہیں ہو تا نبی تو معصوم ہیں اور خطا ؤ ں اور گنا ہو ں سے با لکل پاک ہیں اور پھر ایک عقل اور فہم و فراست رکھنے والا انسان ایسے نبی کی شان میں گستا خی کیسے کر سکتا ہے جو کہ پیغمبر ہو نے کے ساتھ ساتھ رحمت العا لمین بھی ہے ان کی شان میں گستا خی کر نے والا انہیں تنقید کا نشانہ بنا نے والا اور ان پر انگلی اٹھا نے والا دنیا کا سب سے بڑا بد نصیب ، انتہا پسند ، شدت پسند اور دہشتگرد ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی ناموس اور عزت سے بڑھ کر کوئی شے نہیں ہے اور گستا خ رسول کی سزا مو ت سے ہٹ کر کچھ بھی نہیں ہے ۔ دنیا کا کوئی قانون اور ضا بطہ اس ملعون کو معا ف نہیں کر سکتا ہے جب تک کہ خدا کے رسول ﷺ اسے خود معا ف نہ کر دیں ابن خطل گستا خ رسول کو کعبتہ اللہ کے غلا ف کے نیچے سے نکال کر قتل کردیا گیا جہا ں پر خون حرام ہے ۔ بے شما ر گستا خوں کو رسو ل اللہ ﷺ کی مو جودگی میں صحا بہ کرامؓ نے آپﷺ کی اجا زت کے بغیر واصل جہنم کیا ۔ مسیلمہ کذ اب جس نے جھو ٹی نبو ت کا دعویٰ کیا آ پﷺ کی ظا ہری حیا ت کے بعد خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے جنگ لڑ کے مو ت کے گھاٹ اتارا اور اسی طرح ہر ددور میں اٹھنے والے فتنوں کا خا تمہ اہل حق نے بخوبی کیا ۔ اس طرح سے محض احتجاج اور چند دنو ں کے جذبات بھڑکا نے اور بلند و بانک نعرے لگا نے سے کچھ نہیں ہوگا ہما ری اپنی رسمی چالو ں اور خیالو ں کی بدولت نو بت یہا ں تک آن پہنچی ہے کہ نعو ذ با اللہ رسول خدا نبی آخر الزما ں ﷺ کی ہستی کا مذ اق آئے روز اڑا یا جا رہا ہے کبھی اخبارات میں ان کے کا رٹون شا ئع کیے جا تے ہیں ، کبھی FaceBook پر خا کے بنا نے کے مقا بلے انعقاد پذیر کیے جا تے ہیں ، کبھی سلیمان رشدی جیسے گستا خوں کو اعزازات اورسر کے خطاب سے نوازا جا تا ہے ، کبھی رسول خدا کے خلا ف تو ہین آمیز تقریریں کی جا تی ہیں اور کبھی ان پر فلم تیا ر کی جا تی ہے تو کبھی ازیت پہچا نے کے لیے ان پر گستاخانہ کتا بیں تحریر کی جا تی ہیں ۔ مغربی دنیامیں بسنے والے کفار و مشرقین با الخصوص یہو د و نصا ریٰ مسلمانوں کے ساتھ گو یا کہ گنا ؤ نا کھیل کھیل رہے ہیں ۔اور امت مسلمہ اپنی مجبو ری اور بے بسی کا ما تم محض اپنے ملک میں بیٹھ کر منا رہی ہے حکمران اور عوام دونو ں ہی بے بس و بے کس دکھا ئی دیتے ہیں محض اپنے ملک کے اندر ریلیاں نکال کر ، بینرز اور پلے کا رڈ ز اٹھا کر اور جلا ؤ گھیراؤ کر کے اپنی کمزوری اور سستی و کاہلی کا مظا ہرہ کیا جا رہا ہے ۔جب تک ادلے کا بدلہ نہیں ہو گا تو مغربی دنیا کو کوئی مو ئثر اور منہ توڑ جواب نہیں دیا جا سکتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ سے معتبر اور ادب والی ذات مسلمانو ں کے لیے کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی ہے ۔ اگر ایمان کی سلامتی چا ہیے تو ہمیں اپنا اپنا حق ادا کر نا ہی ہو گا ۔ ات

یہ بھی پڑھیں  معاشرہ میں بگاڑ کاسبب ،موبائل فون یا اخلاقی حس کی کمزوری ،تحریر محمد مظہررشید چوہدری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker