ایس ایم عرفان طا ہرتازہ ترینکالم

محکمہ سوئی نا درن گیس کی من مانیاں

ہما رے ملک میں بجلی اور گیس رفتہ رفتہ نا یا ب ہو تے جا رہے ہیں مو جو دہ حا لا ت کے تنا ظر میں دیکھا جا ئے تو پا کستانی عوام دن رات میں سب سے زیادہ بجلی اور گیس کو ہی یاد کرتے ہو ئے دکھا ئی دیتے ہیں کو ئی سیاست دان ہو یا غیر سیاسی شخصیت کو ئی بز نس مین ہویا ہو ٹل والا سبھی کے لب و بام میں ان دونو ں کی تسبح سنائی دیتی ہے ۔ درحقیقت ان کی اس یا د کر نے کی روانی سے ان کی اہمیت اور حثیت کا بھی بخو بی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ان کی عدم موجودگی میں ان کا طلب گار شخص اتنی شدت کے ساتھ اپنی زوجہ کو یا د نہیں کرتا جسقدر ان دونو ں چیز و ں کو پکا رتا ہے ۔ ہما رے ہا ں بد قسمتی سے مثبت پہلو پر تو جہ دینا بھی شاید لو گ گنا ہ سمجھتے ہیں جس طرح سے گیس کی کھپت بڑھ رہی ہے اس تنا سب سے اس کی پیداوار نہیں ہے یعنی کسٹمرز میں تو دن بدن اضا فہ ہو تا جا رہا ہے اور آج بھی ادارہ وہیں کھڑا ہے جہا ں کے نصف صدی پہلے موجود تھا ۔ اسی وجہ سے نئے کنکشن تو درکنا ر جن لو گو ں کو یہ سہولت میسر ہے وہ بھی گھنٹوں اس سے محرومی کا شکا ر دکھا ئی دیتے ہیں ہیوی میٹر ز کیلیے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزا روں کی تعداد میں درخواستیں دی گئی ہیں لیکن انتظار کے سوا کوئی حل ہی دکھا ئی نہیں دیتا ہے ہما رے ہا ں اداروں کا نظم و نسق اس لیے بھی تباہ ہو تا جا رہا ہے کہ یہا ں پر سرکا ری مشینری کو استعمال تو کیا جا تا ہے اس سے خا طر خواہ استفا دہ تو حا صل کیا جا تا ہے لیکن اسے ایک سیرائے اور مسافر خانہ ہی سمجھا جا تا ہے جہا ں کے کسی بھی نفع نقصان کا ذمہ دار مالک ہو تا ہے کرایہ دار تو محض وقت گزاری کیلیے موجود رہتے ہیں بجلی ، گیس ، ٹیلی فون وغیر ہ سمیت کئی محکمو ں میں جس طرح تبدیلی یا بہتری لا نی چا ہیے تھی اس طر ح سے تو جہ نہ دی گئی ہے اور گیس کا استعما ل بہت زیادہ ہو نے کے با وجود بھی نہ تو اس میں اضا فہ کیا جاسکا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی متبادل راستہ دیا گیا ہے اس محکمہ کی حالت زار کا اندازہ اس بات سے بھی لگا یا جا سکتا ہے کہ یہا ں پر جو لو گ شریفانہ انداز میں بھی اسکا استعمال کر رہے ہیں تو انہیں کسی نہ کسی الزام کے تحت گر فت کیا جا تا ہے اور جو لوگ اس کا بے دریغ اور غیر قانونی ا ستعمال کر نا جا نتے ہیں تو انہیں کوئی پو چھنے والا ہی نہیں کوئی بھی بڑا سیٹ اپ فیکٹری یا کا رخانہ محکمہ گیس یا واپڈا کی مشاورت اور اجا زت کے بغیر چل ہی نہیں سکتا ہے ہر کا روبا ری کو ان دونو ں محکمو ں سے بنا کے ضرور رکھنی پڑے گی کیو نکہ اگر یہ لوگ کسی سے نا راض ہو جا ئیں تو دنیا کی خو شیا ں ، رعنائیا ں ، سہولیا ت اور روپیہ پیسہ بھی ناراض ہو جا ئے گا ۔ بڑے بڑے سیاست دان اور کا روبا ری حضرات محکمہ گیس کی ملی بھگت سے گیس چوری کرنے کی با قا عدہ این او سی لیتے ہیں اور انہیں کھلی چھوٹ ہے کہ وہ دوسروں کا حق بھی چا ہے کھا لیں لیکن اگر کوئی زیا دہ شریف اور نیک انسان بننے کی کو شش کر ے گا تو اسکے ساتھ تھرڈ ڈگری سے بھی بد تر سلوک کیا جاتا ہے جو لو گ محکمہ کے آفیسران کی جیبیں گرم نہیں کرتے ہیں اور انکے آرام اور آسا ئش کا خیال نہیں رکھتے ہیں تو وہ چین کی نیند نہیں سو سکتے ہیں موجودہ دور میں دیکھا جا ئے تو یہ محکمہ پولیس سے زیادہ طا قتور اور انتظامی امور کے حوالہ سے خو دمختا ر دکھا ئی دیتا ہے یہا ں سیاسی مد اخلت اور وفا قی اور صوبائی حکومتوں کی چپکلش نے محکمہ کے ملا زمین کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کہ وہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیا ہ کرتے پھریں کوئی انکو پو چھنے والا بھی نہیں ہے ۔ جس کا روبا ری شخص کا چاہیں تو میٹر اتار کر لے آئیں اور ایم آئی آر اور مختلف ٹیکنیکل مہا رتو ں سے اس میں کو ئی بھی خرابی پیدا کرکے ٹیمپرنگ یا سست رفتا ر کی شک کھڑی کر کے اسے اپنی منشاء کے مطابق جرمانہ لگا دیں نہ تو کوئی پروف دے سکتا ہے اور نہ ہی ان کے مو قف کو چیلنج کیا جا سکتا ہے ۔ کیو ں کے ساری گیم ان کے ہا تھ میں اگر ان سے تعا ون نہ کیا جا ئے گا اور انکی ضرورتوں کا خیال نہ رکھاجا ئے گا تو اس سے بڑھا جرم کوئی بھی نہیں ہے معاملہ یہا ں پر خا مو ش نہیں ہو تا ہے محکمہ گیس کا ڈھسا ہوا بندہ آگے جا کر پولیس کے ہتھے چڑھ جا ئے تو اسے مز ید نچو ڑا جا تا ہے یعنی قصہ مختصر کے وہ جا ئز یا ناجا ئز کا قا عدہ قانون ہی بھول جا تا ہے اور بہتر یہی ہے کہ چھا پہ ما ر ٹیمو ں سے مو قع پر ہی کچھ دے لیکر معاملہ رفع دفع کردیا جا ئے ورنہ آگے چل کر زندگی اجیرن دکھا ئی دینے لگے گی اور دل میں یہ احسا س پیدا ہو گا کہ کا ش پہلے ہی تھو ڑی رقم سے ان کے ساتھ سمجھو تہ کرلیا جا تا تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے کوئی حق دار اگر حلف نامہ بھی پیش کردے کہ میں نے گیس چو ری نہیں کی ہے تو پھر بھی اس کی بات پر توجہ نہ دی جائے گی اور اسے نظر انداز کر دیا جاتا ہے ۔ بیسیو ں شرفا ء اور کا روبا ری حضرات اس محکمہ سے ڈھسنے کے بعد جب اپنے خیا لات کا اظہا ر کرتے ہیں تو قا عدہ قا نون ، جا ئز ناجا ئز اور حق و باطل کو محض کتا بی فرمو دات مانتے ہیں محکمہ کی ایسی کا روائیو ں سے نہ صرف محکمہ کے خلا ف ان کے دلو ں میں نفرتیں پیدا ہو تی ہیں بلکہ اس ملک کو بھی کوستے اور برا بھلا کہنے سے گریز نہیں کرتے ہیں اسلیے محکمو ں کے کردار کو مشکو ک نہ بنایا جائے وہا ں پر موجو د گندی مچھلیو ں کا بھی احتساب ہو نا چاہیے تا کہ پو رے تالاب کو گندہ نہ گردانا جا سکے کیو نکہ عوام کے دل میں جب چند منفی عنا صر کی وجہ سے محکمہ پر عدم اعتماد پیدا ہو جا ئے گا تو خر ابی پیدا ہوگی اور اس سے نا صرف لا قا نونیت جنم لے گی بلکہ اور بے شمار معا شرتی خرابیا ں اور بیماریا ں پیدا ہو نے کا خدشہ ہے ۔ لہذا محکمہ گیس کو چاہیے کہ اپنا قبلہ درست کریں یہا ں شاید ان کو کوئی خو ف و خطرہ لا حق نہ ہو لیکن اس خالق کی عدالت میں جس کے رو برو ایک دن پیش ہونا ہے زبردست محاسبہ ہو گا اور پو چھا جا ئے گا کہ کہا ں کہا ں نا انصافی سے کام لیا اور میرٹ کی دھجیا ں بکھیریں ۔ جو لو گ اپنے اچھے برے کا حسا ب رکھتے ہیں وہ کبھی بھی زندگی کی کشتی کے بھنور میں ڈگمگا تے نہیں ہیں ۔
اس وا سطے شا ہو ں سے نہیں ہا تھ ملا یا خود دار تھے کا سہ تو اٹھا نا ہی نہیں تھا
عادت تھی کہ کمزور کو بجھنے نہیں دینا ورنہ تو چرا غوں کو جلا نا ہی نہیں تھا

یہ بھی پڑھیں  جہلم:منور حسین کنسٹیبل کو ساتھی کنسٹیبل کاشف اکرام نے سرکاری رائفل سے فائرنگ کر کے شہید کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker