پاکستانتازہ ترین

اقتصادی رابطہ کمیٹی اجلاس : گیس لوڈمینجمنٹ منصوبے کی منظوری

sui gasاسلام آباد(بیورو رپورٹ)کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی(ای سی سی)نے قدرتی گیئس لوڈمینجمنٹ اصولوں کی منظوری دیدی ہے جس کے تحت گھریلو اور تجارتی صارفین پہلی،بجلی کا شعبہ دوسری،عام صنعتیں تیسری،سیمنٹ کا شعبہ چوتھی اور سی این جی کا شعبہ پانچویں اور آخری ترجیح ہوگا جبکہ گیس کی قیمتوں کے فارمولے کی بھی منظوری دیدی گئی ہے جو 2012ء کی پٹرولیم پالیسی کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ای سی سی کا اجلاس منگل کو یہاں وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 2008ء سے اب تک اقتصادی رابطہ کمیٹی کے کئے گئے89 فیصد فیصلوں پر عملدرآمد ہوچکا ہے،دسمبر2012ء میں پاکستان میں بنیادی افراط زر کی شرح7.9فیصد جبکہ بھارت میں10.6فیصد اور بنگلہ دیش میں9.2فیصد رہی،رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ایف آر نے897 ارب روپے کے محصولات جمع کئے، ای سی سی کو بتایا گیا کہ جولائی سے نومبر کے دوران بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ کے شعبے میں پیداوار میں 2.4فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.1فیصد تھا بیرون ملک مقیم تارکین وطن کی طرف سے ترسیلات زر جولائی سے دسمبر کے دوران 7117ملین ڈالرز رہیں جو 2011-12ء کے اس عرصے میں 6325ملین ڈالرز تھی اس طرح ان میں 12.5فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایف بی آر کی آمدنی میں 6.7فیصد اضافہ ہوا ہے اجلاس میں 2013ء کیلئے گیس کی قیمتوں کے تعین کی گائیڈ لائنز کی بھی منظوری دی گئی۔سیکرٹری کابینہ ڈویژن نے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹیوں کے فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق اپنی رپورٹ میں بتایا کہ موجودہ حکومت کے دور میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے کئے گئے89فیصد فیصلوں پر عملدرآمد ہوچکا ہے جبکہ بقیہ فیصلوں پر عملدرآمد کیلئے کام جاری ہے،سیکرٹری اقتصادی ڈویژن نے کمیٹی کے سامنے اقتصادی اشاریوں کی رپورٹ پیش کی،انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ دسمبر2012ء کے دوران حساس قیمتوں کے اشارے کی افراط زر کی شرح کا تخمینہ 7.9فیصد لگایا گیا جبکہ اسی عرصے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریوں میں بنیادی افراط زر کی شرح10.6فیصد اور بنگلہ دیش میں9.2فیصد رہی،اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ملک میں گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے،رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ایف بی آر نے897 ارب روپے کے محصولات جمع کئے جبکہ گزشتہ مالی سال کے زیر نظر عرصہ میں محصولات کا حجم 841 ارب روپے تھا،محصولات کے حجم میں6.7 فیصد اضافہ ہوا،گزشتہ سال کراچی اسٹاک ایکسچینج دنیا کی واحد حصص مارکیٹ ہے جس نے51فیصد اضافے کی شرح سے ترقی کی،وزارت پٹرولیم وقدرتی وسائل کی طرف سے گیس لوڈمینجمنٹ کے بارے میں پیش کئے گئے منصوبے کی منظوری دی گئی ۔ وزارت پانی و بجلی نے درخواست کی تھی کہ بجلی گھروں کو گیس کی سپلائی میں اضافہ کیاجائے ای سی سی نے اتفاق کیا کہ گیس کمپنیوں کو چاہیے کہ وہ اپنا انتظام خود کریں جبکہ عمومی طورپر ترجیحات کا تعین کیا گیا جس کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا کہ گیس کی فراہمی کے حوالے سے پہلی ترجیح گھریلو اور تجارتی صارفین ہونگے دوسری ترجیح بجلی کا شعبہ اور تیسری عام صنعتیں ہونگی ، سیمنٹ کے شعبے کو چوتھی اور سی این جی کے شعبے کو پانچویں اور آخری ترجیح بنایا جائے گا اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سال2013ء کیلئے گیس فیلڈز کیلئے قیمتوں کے معیار اور 2013ء کے لئے رہنما اصولوں کی منظوری دی جو وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل نے پیش کئے تھے اس کے تحت تیل اور گیس کے ذخائر کی قیمتوں کا ڈھانچہ تشکیل دیا گیا ہے اور یہ ڈھانچہ 2012ء کی پٹرولیم پالیسی کے مطابق بنایا گیا ہے جس کے تحت 2012ء کی پالیسی میں دیئے گئے تین زونز کیلئے اضافی پریمیر 0.25ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگا ۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ حکومت طے شدہ فارمولے کے مطابق قیمتوں کے تعین کی صورت میں پائپ لائنوں کے ذریعے گیس کی خریداری کا پہلا حق رکھتی ہے

یہ بھی پڑھیں  شاہین پست پروازنہیں ہوتا، بلند پرواز ہوتا ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker