پاکستانتازہ ترین

سوئس حکام کو لکھے جانے والےخط پرعدالت کا اعتراض

اسلامآباد(بیوروچیف) پاکستانی حکومت کی جانب سے این آر او عمل درآمد کیس میںسوئس حکام کولکھے جانے والےخط کا مسودہ سپریم کورٹ میںپیش کردیا گیا ہے۔ عدالت نے سوئس حکام کو لکھے جانے والے خط کے بعض مندرجات پر اعتراض کیا۔ این آراو وعمل درآمد کیس کی سماعت جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں5رکنی بنچ کررہا ہے۔ سماعت کےدوران جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ملک قیوم اور اس خط کے ریفرنس نمبر میں فرق ہے، مناسب ہوگا کہ خط میں کیس کا مکمل ریفرنس لکھا جائے،جس پر فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ یہ چھوٹی سی غلطی ہے جسے درست کرلیا جائےگا۔ جس کے بعد عدالت نے 15منٹ کا وفقہ لیااوراس دوران خط کا جائزہ لیاجارہا ہےاورججز نےوزیر قانون فاروق ایچ نائیک کو بھی اپنے چیمبر میں بلالیا۔ دوبارہ سماعت کے آغاز پرعدالت کا کہناتھاکہ خط کا ڈرافٹ دیکھ لیا،خط سے متعلق اٹھائےگئے اعتراضات کو درست کرنے کےلئے وزیر قانون نے وقت مانگا ہے، وزیر قانون نے کہاکہ مسودے کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے متعلق حکومت سےمشاورت کروں گاجس کے بعدعدالت کو آگاہ کیا جائےگا۔ اس موقع پر وزیر قانون نے عدالت سے سماعت کل تک ملتوی کرنے کی استدعا کی جس کے بعد عدالت این آر او عمل درآمد کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی ۔
یادرہے18ستمبر کی سماعت میں وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے عدالت کو بتایا تھا کہ انہوں نے سوئس حکام کو خط لکھنے کے لیے وزیر قانون کو اختیار دے دیا ہے۔ وزیر قانون فاروق ایچ نائیک سوئس حکام کو سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم کے اُس خط کو واپس لینے سے متعلق لکھیں گے جس کے تحت صدر زرداری کے خلاف سوئس عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات پر کارروائی روک دی گئی تھی۔ یادرہےکہ یہ خط ملک قیوم نے 2007ء میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف اور پیپلز پارٹی کے درمیان این آر او کا معاہدہ طے پانے کے بعد سوئس حکام کو لکھا تھا تاہم بعد میں دسمبر2009ء میں سپریم کورٹ نے اس قانون یعنی این آر او آرڈیننس کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس آرڈیننس سے مستفید ہونے والوں کے خلاف مقدمات دوبارہ کھولنے کا حکم دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں  تعلیم کے بغیرترقی ممکن نہیں: ندیم اللہ والا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker