شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / سنہرے خواب کی تعبیر سیا ہ نہ ہونے پائے

سنہرے خواب کی تعبیر سیا ہ نہ ہونے پائے

وطن کے مستقبل کو روشنی کی تلاش ہے سستی اور معیاری تعلیم کی روشنی ،حصول علم سے فراغت کے بعد والدین کی زندگی میں پھیلے ہوئے اندھیرے دور کرنے والی سنہرے کل کی روشنی ،جس روشنی کے حصول کے لئے والدین زندگی بھر کا سرمایہ وار دیتے ہیں تاکہ انکے بچے انکے لئے ایک روشن چراغ بن کر انکی ٹھوکروں بھرے راستے واضح کرنے والے چراغ بن جائیں اور اگر خدانخواستہانکا یہ سنہرا خواب سیاہ تعبیر میں تبدیل ہو جائے تو کیا بیتے گی ان والدین کے دلوں پر اور کیا وہ جیتے جی مر نہ جائیں گے ؟اتنا کچھ کہنے کی نوبت کیوں پیش آئی مجھے تو لیجئے میں آپ کے بھی گوش گزار کر دیتا ہوں ۔میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا کہ مجھے ایک خط موصول ہو جو کہ میں ارباب اختیار و اقتداراور پاکستان بھر کی عوام کی نذر من و عن پیش کرہا ہوں اس درخواست نما خط کو پڑھ کر میرے پاؤں تلے سے زمین سرکتی ہوئی محسوس ہونے لگی مجھے ۔کیونکہ آج کل میری ارض پاک پر روزانہ کی بنیاد پر ایسے واقعات سننے کو مل رہے ہیں کہ فلاں شخصیت کے پاس اتنے ارب کے اثاثے نکل آئے ،فلاں بندے نے اتنے ارب کی کرپشن کی ،فلاں سابقہ منسٹر نے اتنے ارب کا قومی خزانے کو ٹیکہ لگایا ،فلاں بیوروکریٹ نے اتنے ارب کے اثاثے بنا لئے ،کبھی کسی بیوروکریٹ کے گھر سے اتنا روپیہ برآمد ہوتا ہے کہ نوٹ گننے والی مشین کو بھی نوٹ گنتے گنتے دمہ ہو جاتا ہے ،پھر ایسی خبریں بھی سننے اور دیکھنے کو ملیں کہ محنت کش ،فالودے والا ،دھوبی ،فیکٹری ملازم اور طالب علم کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپیاپنے اکاؤنٹس میں رکھتے ہیں مگر وہ روپیہ انکے علم میں ہی نہیں کہ وہ دولت کس کی ہے اور کون انکے نام پر جمع کروا رہا ہے اور کون نکلوا رہا ہے ۔کرپشن کی کہانیاں پڑھتے پڑھتے آنکھوں میں دکھن اور چشمے کے نمبر میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کرپٹ لوگوں پر کالم لکھتے لکھتے انگلیاں فگار ہو چکی ہیں مگر یہ سیلاب ہے کرپشن کا کہ اس کے سامنے کوئی بندھ بھی باندھ نہیں سکا جس کا جتنا داؤ لگتا ہے کرپشن کرنے کا وہ سمجھتا ہے کہ بہتی گنگا میں ہاتھ کیا دھونے سیدھا سیدھا ڈبکی لگا کر وجود کو ہی دھو لیا جائے اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن کی بہتی گنگا میں نام نہاد اشرافیہ نے ہی اشنان کیا ہے مگر اس سیلاب کی تند و تیز لہریں بہا لے جا رہی ہیں وطن عزیز کے متوسط اور غریب طبقے کو ۔بات دور نکل جائے گی لہٰذہاپنے موضوع پر واپس آتا ہوں اور طالب علم کی درخواست من و عن قارئین اور ارباب اقتدار و اختیار کی نذر کرتا ہوں تو ملاحظہ فرمائیں ۔
بخدمت جناب چیف ایڈیٹرزتمام اخبارات پاکستان
عنوان: درخواست برائے دلائے جانے لوٹی ہوئی رقم 160mیعنی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے اور کارروائی بر خلاف مالکان و عملہ حشمت میڈیکل کالج گجرات جلال پور جٹاں تھانہ ایف آئی اے گجرات مقدمہ نمبر 199/18اور مقدمہ نمبر202/18,216/18
جناب عالی
گزارش ہے انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ اس ملک میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو طلباء کو بھی نہیں چھوڑتے جن پر زکواۃ کے پیسے بھی حلال ہوتے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ غرق کرے تو ہوا کچھ یوں ہے کہ مذکورہ کالج کے مالکان اور عملہ نے مل کر ایم بی بی ایس میں بچوں کے داخلے کئے اور ہر بچے سے تقریبا مبلغ 20 لاکھ روپے وصول کئے تھے اور اس وقت کی حکومت اور تمام ادارے خاموش رہے اور ان لوگوں نے بچوں سے تقریبا 16کروڑ روپے لوٹ لئے تو حکومت نے کالج بند کر دیا اور اب وہ بچے جنہوں نے اچھے مستقبل کے لئے اتنی رقم دی تھی وہ بیچارے ایف آئی اے کے دفاتر اور عدالتوں میں رُل رہے ہیں انکا کوئی پرسان حال نہ ہے ایک انکا مستقبل تاریک ہوگیا اور دوسرا انکے والدین کی جمع پونجی بھی ضائع ہو گئی ۔کیا کہیں کسی بھی ملک میں آج تک کبھی ایسا ہوا ہے کہ بیچارے نہتے بچوں پر بھی ایسا ظلم ہوا ہے ۔اب چند بچوں نے انکے خلاف ایف آئی اے گجرات میں مقدمات درج کروائے ہیں اور 9 کروڑ روپے کی بینک ٹرانسفر سٹیٹمنٹ موجود ہے جو کہ مالکوں کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوئے ہیں اور باقی رقم کا کوئی پتہ ہی نہیں چل رہا اور اس وقت پرنسپل ڈاکٹر عثمان مالک ڈار اور انکی بیوی پکڑے ہوئے ہیں ابھی تک دو ماہ گزرنے کے باوجود ایک روپیہ بھی برآمد نہ کیا گیا ہے ۔اور ان بچوں کے پیسوں سے ہی ملزمان نے 60روپے دے کر بڑے بڑے وکیل کئے ہیں جو ملزمان کو حوصلے دے رہے ہیں کہ کوئی بات نہیں جلد ہی آپ کو چھڑا لیں گے اور کہتے ہیں کہ رقم واپس نہیں کرنی ہے ۔ اور ایف آئی کے پہلے تفتیشی افسر کافی رقم بطور رشوت بٹور چکے ہیں اور واپس اپنے محکمہ میں چلے گئے ہیں اور ابھی تک کچھ ملزمان گرفتار بھی نہیں ہوئے ہیں ۔اس وقت جناب غلام عباس باجوہ تفتیش کر رہے ہیں جو بہت اچھے افسر ہیں مگر ان پر بڑا پریشر ہے کہ ملزمان کو تنگ نہ کیا جائے ۔ہم طلباء پہ بہت بڑا ظلم ہوا ہے ہمارے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کا ازالہ کیا جائے اور ہماری رقم ان سے برآمد کروا کر فوری طور پر ہمیں واپس دلوائی جائے تاکہ ہم آگے کہیں اورداخلہ لے لے کر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں ۔اس کالج میں عبداللہ ولد عبالرزاق 11 لاکھ روپے زریز آفتاب 20لاکھ روپے اور اسی طرح باقی بچوں کی رقم ہے اب آپ اور چیف جسٹس صاحب ہی ہماری رقم واپس کروا سکتے ہیں اور ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہو اور ہماری فیس واپس مل جاتی ہے تو ہم بھی اپنی خوشی سے ایک ایک لاکھ روپے ڈیم فنڈ میں جمع کروائیں گے ۔
العارض
عبداللہ ولد عبدالرزاق سول کوارٹر نمبرC.8
سول کوارٹر روڈ شیخوپورہ
ہاں تو قارئین کیا کہیں گے اس نام نہاد میڈیکل کالج کے قائم کرنے والے تعلیم یافتہ نہیں بلکہ تعلیم بافتہ لوگوں کے بارے میں جنہوں نے والدین کی جمع پونجی سمیت انکے سارے سنہرے خواب اپنی ہوس اور کرپشن کی گہری دلدل میں غرق کر دیئے ہیں ؟اور ان طلباء اور طالبات کو کس ناکردہ جرم کی سزا ملی ہے ؟ انکا مستقبل تباہ کر کے رکھ دیا گیا ہے ۔کیا کہیں گے ان معزز وکلاء کے بارے میں جنہوں نے ساٹھ لاکھ روپے فیس لے کر قوم کے مستقبل کو خود کشی کے راستے پر ڈال دیا ہے ؟کیونکہ ایسے طلبہ جن کی وجہ سے والدین کی جمع پونجی لُٹ جائے وہ یا تو کریمینل بن جاتے ہیں یا پھر پھانسی کا پھندہ گلے میں ڈال کروالدین کی پوری دنیا ہی اندھیر کر دیتے ہیں ۔میری ارباب اقتدار و اختیار سے دست بستہ گزارش ہے کہ ان لٹیروں سے بچوں سے فیسوں کے نام پر لی گئی رقم واپس دلائی جائے اور فی الفور ان بچوں کے تعلیمی سالوں کے ضیاع کو بھی بچایا جائے ۔امید ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن ،سیکریٹری تعلیمپنجاب ،وزیر تعلیم پنجاب ،وزیر اعلیٰ پنجاب ،وزیر اعظم پاکستان اور عزت مآبچیف جسٹس آف پاکستان ایکشن لیں گے ۔جس طرح چیف جسٹس دلیرانہ فیصلے کرتے ہوئے لٹیروں کے جبڑوں سے بھی لوٹی ہوئی دولت واپس دلوانے کا عزم کئے ہوئے ہیں میں امید رکھوں گا کہ پاکستان کے مستقبل کو لوٹنے والے لٹیروں کے خلاف سو موٹو لیتے ہوئے قرار واقعی سزا بھی دیں گے اور انکے والدین کی جمع پونجی کی واپسی کو بھی ممکن بنائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیں  داؤدخیل:بجلی کی 24گھنٹوں سے بندش کے خلاف سکول کے بچوں ،تاجران اور شہریوں کا بنک چوک پر احتجاجی مظاہرہ