پاکستانتازہ ترین

کسی کو ملک لوٹنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد (بیوروچیف) سپریم کورٹ میں کار کے رینٹل پاور واپسی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ رقم واپس کرنے کی گارنٹی دیئے بغیر کارکے کو ملک سے جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایسا ہوا تو ذمہ داری براہ راست چئیرمین نیب پر عائد ہوگی۔  چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ نے تین رکنی بینچ نے کارکے رینٹل پاور واپسی کیس کی سماعت کی جس کے دوران نیب اور فیصل صالح حیات کے مابین بقایا جات پر اتفاق رائے نہ ہونے پر دونوں کو الگ الگ بیان داخل کرنے کی ہدایت جاری کی گئی۔  دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کسی کو ملک لوٹ کر جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایڈوانس میں سے بجلی کی رقم منہا کرکے باقی وصول کی جائے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رقم کی گارنٹی دیئے بغیر کارکے کو جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ایسا ہوا تو ذمہ داری براہ راست چئیرمین نیب پر عائد ہوگی۔
پراسیکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا نے عدالت کو بتایا کہ ترکی کے سفیر نے بھی کارکے کی واپسی کیلئے رابطہ کیا ہے جس پر جسٹس گلزار نے ریمارکس دیئے کہ ایسا ہے تو کیا پورا پاکستان ترکی کو دے دیں۔ جسٹس گلزار کا کہنا تھا کہ فیصلے کے آٹھ ماہ بعد بھی نیب اعداد و شمار میں الجھا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ٹیکسلا:اراضی ریکارڈ سینٹر کا باقائدہ افتتاح کر دیا گیا

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیئے کہ کرپشن کیسز پر فیصلوں کا مقصد آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہے لیکن یہ سلسلہ نہیں رکتا تو افسوس اور تشویش کی بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم پاکستان نے اسلام آباد کےنئے ہوائی اڈے کاافتتاح کردیا!

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker