پاکستانتازہ ترین

اسپیکررولنگ،اٹارنی جنرل کی کمرہ عدالت میں بدتمیری وکلامشتعل،پولیس طلب

اسلام آباد (بیوروچیف)  سپریم کورٹ میں اسپیکر رولنگ کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے چیخ پکار شروع کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ جج صاحبان وزیر اعظم کے خلاف فیصلہ دینے کے بعد بھاگ گئے تھے۔  وکلا نے اٹارنی جنرل کے ریمارکس پر شدید ہنگامہ آرائی کی۔ صورت حال اس قدر خراب ہوگئی کہ عدالت نے پولیس کو طلب کرکے ہنگامہ کرنے والوں کو باہر نکلوا دیا۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو انتباہ کیا کہ ججوں کے خلاف غلط الفاظ استعمال نہ کریں۔ وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق اسپیکر کی رولنگ کے خلاف کیس کی سماعت جاری تھی کہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وزیراعظم کے خلاف فیصلہ دینے کے بعد جج بھاگ گئے تھے جس پر کمرہ عدالت میں ہنگامہ آرائی شروع ہوگئی۔ اٹارنی جنرل نے چیف جسٹس پر بھی اعتراض کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس اس معاملے میں اتنی جلدی کیوں کر رہے ہیں ، وزیراعظم کی نااہلی سے پورا نظام ہل جائے گا، چیف جسٹس نے  یمارکس دیئے کہ اعتراض کا یہ طریقہ درست نہیں، وکلا کی جانب سے ہلڑ بازی کے بعد اٹارنی جنرل خاموشی سے اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔  چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل عدالت کے افسر ہیں، انہیں کسی پر چیخنے کی اجازت نہیں دیں گے، پھر عدالت نے پولیس کو بلایا اور ہنگامہ کرنے والے وکلا کو کمرہ عدالت سے نکال دیا گیا۔ جسٹس خواجہ نے ریمارکس دیئے کہ انہوں نے 14 سال میں ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا، انہیں یہ تاثر مل رہا ہے کہ اٹارنی جنرل عدالت کی معاونت کرنے کے لیے نہیں آئے۔ عدالت میں مسلم لیگ ن کی جانب سے ظفر علی شاہ، خواجہ آصف ، عمران خان کی جانب سے حامد خان اور درخواست گزار اظہر صدیق کی جانب سے اے کے ڈوگر نے بھی دلائل دیئے۔ اعتزاز احسن کی جانب سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

یہ بھی پڑھیں  شمالی وزیرستان: طالبان گروپس میں پھر تصادم، 5 ہلاک

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker