پاکستانتازہ ترین

پارلیمنٹ سادہ اکثریت سے آئین تبدیل نہیں کر سکتی: سپریم کورٹ

اسلام آباد(بیوروچیف) توہین عدالت ایکٹ کیس میں جسٹس تصدق جیلانی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پارلیمنٹ سادہ اکثریت سے آئین تبدیل نہیں کر سکتی ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ  توہین عدالت کرنے والے رکن پارلیمنٹ کے خلاف آرٹیکل تریسٹھ سی ون کا ریفرنس بنتا ہے۔ وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی استثنی دے ۔ سپریم کورٹ میں توہین عدالت ایکٹ کیس کی سماعت کے دوران جسٹس تصدق جیلانی نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ بہت محترم ہے لیکن سادہ اکثریت سے آئین تبدیل نہیں ہو سکتا۔ نئے قانون کے ذریعے آئین میں دی گئی توہین عدالت کی تعریف تبدیل کی گئی ۔۔ پارلیمنٹ تبدیلی کیلئے آئین میں ترمیم کر سکتی ہے ۔ وفاق کے وکیل عبدالشکور پراچہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ آئین میں ترمیم نہیں ہوئی، نہ ہی اسے سادہ اکثریت سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، جو وضاحت آئین میں نہ دی گئی ہو اس کا احاطہ قانون کرتا ہے ۔ آئین نے توہین عدالت کی کاروائی کا طریقہ کار عدالت پر چھوڑ دیا ہے، قانون ایسا ہونا چاہیئے جو آئین سے مطابقت رکھتا ہو ۔ آرٹیکل 204 میں توہین عدالت کی تعریف نہیں دی گئی ہے ۔ اس آرٹیکل میں صرف عدلیہ کے اختیار کا ذکر کیا گیا ہے۔جسٹس جیلانی نے ریمارکس دیئے کہ آرٹیکل 204 کی چاروں شقیں توہین عدالت کی تعریف پر مبنی ہیں ۔ چیف جسٹس نے وفاق کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ بتائیں کہ آرٹیکل248 میں شامل  عوامی عہدیدار کا اقدام کیسے توہین عدالت سے مبرا ہے ۔ شکور پراچہ نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اختیار ہے کہ وہ کسی کو بھی استثنی دے ۔ عدالت پارلیمنٹ کے اقدام کو بدنیتی پر مبنی قرار نہیں دے سکتی۔ ایسا کرنا عوام کو بدنیت قرار دینا ہے ۔۔ آئین ہی میں ارکان پارلیمنٹ کو ایوان میں کی گئی تقاریر میں استثنیٰ حاصل ہے،  چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اگر تقریر توہین عدالت کے دائرہ میں آئے تو اسپیکر یا چئیرمین سینٹ اس رکن کے خلاف ریفرنس بھجوانے کا پابند ہے ۔۔ ارکان پارلیمنٹ کا استثنیٰ آئین کے آرٹیکل 19 سے مشروط ہے، توہین عدالت کرنے والے رکن کے خلاف آرٹیکل63 سی ون کا ریفرنس بنتا ہے

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : درگاہ شاہ نورانی میں خودکش دھماکہ کرنے والے انسانیت اور اسلام دشمن ہیں . رانا ساجد علی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker