پاکستانتازہ ترین

سپریم کورٹ نےملک ریاض پرتوہین عدالت کی فرد جرم عائد کردی

اسلام آباد(بیوروچیف) سپریم کورٹ آف پاکستان نے بحریہ ٹاؤن کے سربراہ پر ملک ریاض پر توہین عدالت کی فردجرم عائد کردی ہے تاہم ملک ریاض نے صحت جرم سے انکار کردیا جب کہ اٹارنی جنرل نے بھی فرد جرم پراعتراض داخل کیا ہے۔ واضح رہے کہ ملک ریاض نے 12جون کو پریس کانفرنس کرکے عدالت عظمی کےاقدامات کڑی تنقید کی تھی جس پر عدالت نے اس کاسختی سے نوٹس لیتے ہوئے پریس کانفرنس کی وڈیوطلب کرکے ملک ریاض کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ جمعرات کو جسٹس اعجاز افضل ،جسٹس میاں شاکراللہ جان اورجسٹس عظمت سعيد پر مشتمل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ابتداء ميں ملک رياض کے وکيل ڈاکٹرباسط نے مؤقف اختيار کيا کہ اس کيس ميں انٹراکورٹ اپيل دائر کي گئي تھي اور اس وقت توہين عدالت ايکٹ 2012ء نافذ تھا، اس کے تحت اپيل آتے ہي شوکاز نوٹس اور توہين عدالت کي کاروائي معطل ہوگئي تھي۔ اس پر جسٹس عظمت سعيد نے ريمارکس دیے کہ اس قانون کو کالعدم قرار ديتے ہوئے عدالت نے قرار دياتھا کہ يہ تصور کيا جائے جيسے يہ قانون کبھي تھا ہي نہيں۔ ڈاکٹر باسط کا کہنا تھا کہ تقاضا انصاف کے پيش نظر اپيل کي سماعت تک اس کيس پر کارروائي روکي جائے، اپيل کا حق تو توہين عدالت آرڈيننس 2003ءميں بھي ہے، آج فرد جرم عائد کي گئي تو ميرا حق متاثر ہوگا لہٰذا انٹراکورٹ اپيل پر فيصلے تک يہ عدالت انتظار کرےتاہم جسٹس اعجاز افضل نے ريمارکس دیے کہ ملک رياض پر آج ہي فرد جرم عائد کي جائے گی۔ عدالت نے قرار دیا کہ 12جون کو پریس کانفرنس میں ملک ریاض کے الفاظ ، لہجہ اور تاثرات توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس موقع پر اٹارنی جنرل آف پاکستان عرفان قادر نےاعتراض داخل کرتے ہوئے کہا کہ معلوم نہیں ہورہا کہ ملک ریاض کے کون سے الفاظ سے عدالت کی توہین ہوئی ہے۔ جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ فرد جرم یہی ہے جو آپ کے سامنے ہے۔عدالت نےاٹارنی جنرل کو کیس میں استغاثہ مقرر کرتے ہوئے سماعت 29اگست تک ملتوی کردی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ڈسکہ: 10افراد کی مقدمہ کے اندراج کیلئے آنے والی خاتون کو سنگین نتائج کی دھمکیاں اوربیٹی کو اغوا کی کوشش

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker