پاکستانتازہ ترین

توہین عدالت کیس کی سماعت،فیصلہ ملتوی کرنیکی استدعا مسترد

اسلام آباد(بیوروچیف) وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت بھی کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ قومی مفاد میں صدر کو سوئس عدالت کے سامنے نہ پھینکا جائے۔ امریکا نے شاہ رخ خان کو ایئرپورٹ پر روکا تو بھارت نے احتجاج کیا ۔ صدر کو کیسے سوئس عدالت میں کھڑا کر دیا جائے۔
وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت عدالت عظمیٰ کے سات رکنی بینچ نے کی ۔ اعتزاز احسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ اسلامی قوانین کے تحت بھی کوئی شخص اپنے معاملے میں خود جج نہیں ہو سکتا۔ جسٹس اطہر سعید نے ریمارکس دیئے کہ بینچ کے کسی جج کا کوئی مفاد نہیں، جس کے تحفظ میں وہ کیس سن رہا ہو۔
اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ اس کیس میں شکایت کنندہ ہیں ۔۔ جسٹس اطہر سعید نے کہا کہ پوری عدالت شکایت کنندہ ہے کیوں کہ عدالت کا فیصلہ نہیں مانا گیا۔ جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر جج اس کیس کو نہیں سنیں گے تو کون سنے گا۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ سات ججر کے علاوہ بھی جج موجود ہیں ، چیف جسٹس تین رکنی بینچ بنا سکتے ہیں۔
جسٹس سرمد جلال عثمانی نے استفسار کیا کہ اعتزاز احسن بتائیں کہ وہ کیا کریں جس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ وہ مہربانی کر کے خود کو سماعت سے الگ کر لیں ۔۔ جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ انہوں نے بینچ سے علیحدگی کا کوئی معاملہ نہیں اٹھایا، وہ نااہلیت کی بات کر رہے ہیں ۔۔ جسٹس ناصرالملک نے ریمارکس دیئے کہ ذاتی توہین کی صورت میں جج معاملہ چیف جسٹس کے روبرو بھجوا سکتا ہے ۔ دیگر نوعیت کی توہین میں دوسرے جج کے پاس بھجوانے کا قانون نہیں۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا آرٹیکل 10 اے کے بعد اب یہ فئیر ٹرائل نہیں۔ کوئی شخص اپنے معاملے میں جج ہو تو فئیر ٹرائل کی نفی ہے۔ جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ فیئر ٹرائل کے خدشات کا ازالہ کرنے کے لیے انٹراکورٹ اپیل کا آپشن موجود ہے، اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ اپیل کے حق کی بنیاد پرغیر مجاز ٹرائل عدالت کو مجاز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھیں  اسلم مڈھیانہ کو آج رہا کئے جانے کا امکان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker