پاکستانتازہ ترین

سپریم کورٹ:ارسلان افتخارنظرثانی کیس کافیصلہ محفوظ

اسلام آباد(بیوروچیف) سپریم کورٹ نے ارسلان افتخار نظر ثانی کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو آئندہ ایک دو روز میں سنایا جائے گا۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ارسلان افتخار نظرثانی کیس کی سماعت کی۔ ارسلان افتخار کے وکیل سردار اسحا ق نے دلائل میں کہا کہ ملک ریاض حسین کے چیرمین نیب سے گہرے مراسم ہیں۔ انہوں نے چیرمین نیب کی تقرری کی بھی کرائی۔ چیرمین نیب کی بیٹی بحریہ ٹاؤن میں ملازم رہی ہے جبکہ اٹارنی جنرل بھی ملک ریاض کے وکیل رہ چکے ہیں۔ اس مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے یا محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کو ذمہ داری سونپ دی جائے۔ ملک ریاض کے وکیل زاہد بخاری نے تحقیقات کسی جوڈیشل کمشین یا محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کو سونپنے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ چیرمین نیب کی بیٹی کو اس معاملے میں زیر بحث نہ لایا جائے۔ نیب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ختم کردی ہے۔ جس کے بعد اب اس معاملے کی تحقیقات صرف نیب ہی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر عدالت نے نیب سے لے کر تحقیقات کسی اور ادارے کو دی تو یہ ایک مثال بن جائے گی۔ مونس الہی اور علی موسی گیلانی کے کیسوں میں بھی تحقیقات پر اعتراض ہوا لیکن تحقیقات جاری رہیں لہذا نیب کو تحقیقات سے روکنے کا کوئی جواز نہیں اور نظرثانی کی درخواستیں ناقابل سماعت ہے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے دریافت کیا کہ کیا نیب کو اپنے آرڈیننس کے تحت مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا اختیار ہے۔ زاہد بخااری کا کہنا تھا کہ نیب نہ صرف خود اس قسم کے کیسز کی تحقیقات کا اختیار رکھتا ہے بلکہ کسی دوسری ایجنسی کو بھی تحقیقات سونپ سکتا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ اگر چیرمین نیب کو متعصب مان لیا جائے تو کیا پھر بھی تحقیقات نیب کرے گا۔ جس پر زاہد بخاری کا کہنا تھا کہ کسی فریق کے اعتراض پر تحقیقات روکی یا تبدیل نہیں کی جاتی۔ پراسکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم صاف شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی تھی ۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل شفیع چانڈیو کا کہنا تھا کہ وفاق اور اٹارنی جنرل کو کوئی دلچسپی نہیں کہ ارسلان افتخار کیس کی تحققات کسی مخصوص ادارے کو سونپی جائے۔ عدالتی بینچ نے ریمارکس میں کہا کہ اٹارنی جنرل کو عدالت کو بتایا چاہیے تھا کہ وہ ملک ریاض کے وکیل رہ چکے ہیں ۔ عدالت سوچ ہی نہیں سکتی تھی کہ اٹارنی جنرل عدالت سے یہ بات عدالت سے چھپائیں گے یا اسے گمراہ کریں گے۔ 8/28/2012 7:15 AM
یہ بھی پڑھیں  لندن: پاکستان کواس صورتحال سے نکالنا مشکل ہے ناممکن نہیں،نوازشریف

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker