پاکستانتازہ ترین

سپریم کورٹ نےاوگرا عمل درامد کیس میں نیب کی رپورٹ مسترد کردی

اسلام آباد( بیورو رپورٹ) سپریم کورٹ نے اوگرا عمل درامد کیس میں نیب کی رپورٹ مسترد کردی۔ چیف جسٹس کا ریمارکس میں کہنا ہے کہ نیب ان لوگوں کوحمایت کرتا ہے جن کے خلاف عدالت میں فیصلہ دے رکھا ہے،۔ نیب کا مینڈیٹ کرپشن کا خاتمہ ہے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے بعد نیب کی تحقیقات کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔چیف جسٹس اافتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ نیب کے وکیل فوزی علی نے عدالت کو بتا یا کہ اوگرا کیس میں ریفرنس تیار ہوچکا ہے جو چند روز میں دائر کردیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس جمالی نے جو فیصلہ دیا اس سے اوگرا کو چھتیس ارب روپے بچ گئے۔ چالیس ارب روپے کی رقم کی وصولی ابھی باقی ہے۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کرپشن روز بروز بڑھ رہی ہے۔ عدالت کا فیصلہ بڑا واضح ہے۔ نیب کس طرح کہہ سکتا ہے کہ تحقیقات کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کس طرح سپریم کورٹ کے فیصلے کی مخالفت کرسکتا ہے۔ تفتیشی افسر نیب وقاص نے عدالت کو بتایا کہ ملزم توقیر صادق لاہور میں موجود ہیں جن کی گرفتاری کے لیے پنجاب پولیس کو خط لکھا گیا ہے۔ جاوید جواد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ توقیر صادق اور میر کمال مری کو ابھی گرفتار کرنا باقی ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ میر کمال نے سی این جی کے سینتالیس بوگس لائسنس جاری کیے بعض جگہوں پر ایک سی این جی لائسنس پر دو اسٹیشنز چل رپے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ بجلی کا ایک میٹر منتقل ہوجائے تو مصیبت آپڑتی ہے۔ ملزم ابھی تک گرفتار نہیں ہوئے۔ اس کو برداشت نہیں کرسکتے۔ عدالت سے حقائق چھپائے جارہے ہیں اور بااثر لوگوں کو چھوڑا جارہا ہے۔ نیب اگر عدالت کے فیصے پر عمل نہیں کرے گا تو توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ دوران سماعت فاضل بینچ نے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ارشد علی چوہدری کی سرزنش کی کہ ملزم توقیر صادق کا وکالت نامہ جمع کرایا تو اسے بھی عدالت میں پیش کرنا آپ کا فرض ہے۔ مقدمے کی مزید سماعت چار اکتوبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں  سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker